ترقی کے مواقع
1999کے سروے کے مطابق، ہندستان میں اس سال کا سب سے زیادہ امیر بنگلور کا ایک مسلمان تھا جس کا نام عظیم ہاشم پریم جی ہے۔ اس سال اس کا سرمایہ 176بلین روپیے تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں ترقی کے مواقع لا محدود ہیں۔ حتٰی کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ اقلیتی فرقہ کا ایک فرد ترقی کر کے اکثریتی فرقہ سے آگے بڑھ جائے۔ (ٹائمس آف انڈیا،27جون1999)
ممتاز تعلیمی ادارہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (بمبئی) کے 37 ویں جلسئہ تقسیم اسناد کے موقع پر اپنے کانوکیشن ایڈریس میں جناب عظیم ہاشم نے اپنے تجربات بتائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عظیم ہاشم کی ترقی 25 سال کی لگاتار محنت کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے لمبی مدت تک یہ کیا کہ ایک طرف خود اپنی صلاحیتوں کو آخری حد تک اپنے کاروبار میں لگا دیا۔ دوسری طرف انھوں نے بار بار سفر کر کے ملک بھر سے اعلیٰ قابلیت کے نوجوان حاصل کیے اور ان کے ذریعہ ایک بہترین ٹیم تیار کی۔ انھوں نے اپنے اور دوسروں کے تجربات سے سبق سیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کا سب سے بڑار از کبھی ختم نہ ہونے والی سخت محنت ہے۔ اس طرح طویل منصوبہ بند عمل کے ذریعہ انھوں نے اپنی موجودہ کامیابی حاصل کی۔ عظیم ہاشم نے کہا کہ’’:مستقبل وہ نہیں ہے جو آپ کے ساتھ پیش آتا ہے بلکہ مستقبل وہ ہے جسے آپ خود بناتے ہیں‘‘۔
اس دنیا میں ہر آدمی وہی ترقی حاصل کر سکتا ہے جو ترقی کسی دوسرے نے حاصل کی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اپنی مطلوب کامیابی کے لیے اس کے مطابق ضروری عمل کیا جائے۔
وہ عمل کیا ہے۔ وہ عمل ہے۔ مقصد کا واضح تصور، اس کو پانے کا عزم مصمم، اپنی پوری صلاحیت کو اس میں لگا دینا، لائق افراد کے ذریعہ متحدہ کوشش کرنا، ہر چیلنج سے نیا حوصلہ لینا، اپنی معلومات میں برابر اضافہ کرتے رہنا، یہی اس دنیا میں کامیابی کے اصول ہیں۔ اور جو آدمی ان اصولوں کو بھر پور طور پر اپنا لے اس کے لیے ترقی اتنا ہی زیادہ یقینی بن جاتی ہے جتنا کہ شام کے بعد اگلی صبح کا طلوع ہونا۔
