فرد کی اصلاح
عام طوپر لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی شخص کے اندر کوئی خرابی کی بات دیکھتے ہیں، تو وہ غیرجانب دار (indifferent) ہوجاتے ہیں۔ لوگ صرف اپنے بچوں کی خرابیوں کی اصلاح کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں، دوسروں کی خرابیوں کی اصلاح سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ میری مراد یہاں انفرادی اصلاح سے هے۔ کیوں کہ میں اجتماعی اصلاح کے نام پر اٹھنے کو لیڈری سمجھتاہوں، نہ کہ حقیقتاً اصلاحی کام۔
مگر میرا حال یہ ہے کہ میں کسی فرد کے اندر کوئی خرابی دیکھتا ہوں، توفوراً دل بے چین ہوجاتا ہے۔ مثلاً 23 ستمبر 1978 کا واقعہ ہے۔ میرے یہاں ایک مسلم اسکالر آئے۔ وہ سگریٹ پر سگریٹ پی رہے تھے۔ میں نے انھیں سمجھا بجھا کر آمادہ کیا کہ وہ سگریٹ چھوڑ دیں۔ چنانچہ انہوں نے سگریٹ پھینک دی، اور میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:
’’آج بتاریخ 23 ستمبر 1978 سے میں نے سگریٹ چھوڑ دی۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے اس عہد پر قائم رکھے‘‘۔
اسی طرح حفظ الرحمن عظیم قاسمی 19 نومبر 1978کو میرے دفتر میں آئے۔ ان کے ساتھی نے بتایا کہ وہ ہر شخص کی تقریر کو دہرا سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قاری طیب صاحب، مولانا انظر شاہ صاحب کی تقریروںکو بالکل انھیں کی آواز میں دہرادیا۔ تاہم مجھے اس سے خوشی نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ جب آپ کا حافظہ اتنا غیر معمولی ہے، تو آپ اس کو نقل کے بجائے کسی زیادہ بہتر کام میں استعمال کریں۔ مثلاً آپ انگریزی پڑھیں۔ اچھا حافظہ ہونے کی وجہ سے آپ بہت آسانی سے نئی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اتفاق کیا اور میری ڈائری پر یہ الفاظ لکھے:
’’میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد کسی کی تقریر نہیں دہراؤں گا، ان شاء اللہ ۔ ‘‘
)اوراقِ حکمت، ڈائری، 19 فروری 1985(
