آدمی بدل جاتا ہے
عبدالملک بن مروان ایک اموی خلیفہ تھا، خلیفہ بننے سے پہلے عبدالملک کا شمار بڑے فقہا میں ہوتا تھا۔ وہ زیادہ تر مسجد میں رہتا اور عبادت اور دینی مطالعہ میں مشغول رہتا تھا۔ حتٰی کہ لوگ اس کو حمامۃالمسجد (مسجد کا کبوتر) کہنے لگے تھے۔ 65ھ میں جب اس کے باپ مروان بن الحکم کا انتقال ہوا تو اس وقت وہ مسجد میں قرآن پڑھ رہا تھا۔ محل کا آدمی اس کے پاس خبر لے کر گیا اور کہا کہ آج سے آپ امیر المومنین ہیں۔ عبدالملک نے یہ سنا تو فوراً قرآن کو بند کر کے طاق پر رکھ دیا اور کہا: هَٰذَا فِرَاقٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ (مرآۃ الزمان لسبط ابن الجوزی، جلد 8، صفحہ 331)۔ یعنی، آج سے میرے اور تمہارےدرمیان جدائی ہے۔
خلافت کے تخت پر بیٹھنے کے بعد عبدالملک بالکل دوسرا انسان بن گیا۔ اب اس کا سارا وقت دنیا کی چیزوں میں گزرنے لگا۔ یہی وہ اموی خلیفہ ہے جس نے حجاج بن یوسف جیسے ظالم کو گورنر بنا کر اس کو لوگوں کے اوپر مسلط کیا۔ اس نے عبداللہ بن زبیر اور مصعب بن زبیر اور دوسرے بے شمار لوگوں کو قتل کرایا۔ اس نے اپنے سیاسی حریفوں کو ختم کرنے کے لیے کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے، وغیرہ۔
عبدالملک نے ایک روز سعید بن مسیب سے کہا ’’سعید اب میرا یہ حال ہے کہ جب میں کوئی نیک کام کرتا ہوں تو میرے دل کو کوئی خوشی نہیں ہوتی اور جب کوئی برائی کرتا ہوں تو اس کا مجھے کوئی رنج نہیں ہوتا۔ سعید بن مسیب نے جواب دیا:اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تمہارا دل پوری طرح مر چکا ہے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 37، صفحہ153)
یہی ہر اس آدمی کا حال ہوتا ہے جو اوپری سطح پر دین دار نظر آتا ہو مگر وہ اپنی پوری ہستی کے ساتھ دین دار نہ بنا ہو۔ ایسے آدمی کو جب کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اچانک اس کا ظاہری لبادہ اتر جاتا ہے، اوراندر کا واقعی انسان ننگا ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ ایک شخص بظاہر دین دار ہے، مگر کوئی بڑائی ملتے ہی اس کی دین داری ختم ہو جاتی ہے۔ایک شخص بہت شریف بنا ہوا ہے لیکن اگر کسی سے اس کو شکایت ہو جائے، تو اس کے لیے وہ اچانک ایک ظالم انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص مسکینی کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہ رہا ہے، لیکن اگر اس کو دولت مل جائے تو اس کے بعد وہ ایک متکبر انسان کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ایک شخص لکھنے اور بولنے میں انصاف کی باتیں کرتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آ جائے، جس میں اس کو اختیار حاصل ہو تو وہ ایسے پہلو کی طرف جھک جائے گا جو اس کی ذاتی دلچسپی کا ہو۔ وہ انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے مفاد کے مطابق فیصلہ کرے گا، وغیرہ۔
