جدید افکار اور مسلم علما
شیخ محمد امین شنقیطی (وفات 1974) مشہور عرب عالم تھے۔ ان کا ایک واقعہ مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:شیخ شنقیطی اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمارے علما دینی بصیرت کے ساتھ جب تک سائنسی علوم حاصل نہیں کریں گے، اور ہمارے نوجوان ان سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ اس وقت تک فکری غلبہ حاصل نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ اس وقت یورپ کے افکار دنیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ اور ان کا جواب ان کی زبان میں دینا ہوگا۔ (ماہ نامہ دارالعلوم،مارچ 2010،صفحہ 35)
جدید مغربی افکار کے بارے میں مسلم علما کا عام ذہن یہی ہے۔ وہ ان کو اسلام پر مغرب کے فکری حملے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ جس چیز کو اپنی ضرورت سمجھتے ہیں، وہ صرف یہ ہے کہ اہل اسلام کی طرف سے ان کا دفاعی جواب دیا جائے۔ یہ مغربی افکار کا صرف کمتر اندازہ ہے۔ مغربی افکار، دوسرے الفاظ میں سائنس کی زمین پر پیدا شدہ افکار کا نام ہیں، اور سائنس علوم فطرت کا دوسرا نام ہے۔ اس اعتبار سے، سائنس خود اسلام کے لیے ایک تائیدی علم کی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید طبیعی سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسلام کا جدید علمِ کلام ہے۔
اِس معاملے میں مسلم علما کی یہ ہلاکت خیز غلطی ہے کہ وہ مغربی سائنس سے مغربی کلچر کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ اپنی عدمِ واقفیت کی بنا پر وہ دونوں کو ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ مغربی سائنس کا علم کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہےاور انہوں نے یہ کتابیں پڑھی نہیں۔ اس کے برعکس، مغربی کلچر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کتابی مطالعے کے بغیر جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی کلچر کو دیکھ کر یہ فرض کر لیا کہ یہی معاملہ مغربی سائنس کا بھی ہے۔ یہ مسئلہ ’’جواب‘‘ دینے کا نہیں ہے،بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ جدید سائنسی علم کو اسلام کے حق میں استعمال کیا جائے (حکمتِ اختلاف، صفحہ 90)۔
