خواتین اسلام کی مثال
تاہم دین کے معاملہ میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے جس طرح مردوں کے دو درجے ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی دو درجے ہیں:ایک عام، دوسرا خاص۔
عام درجہ وہ ہے جو ہر خاتون کے لیے ہے۔ یعنی ذاتی معاملہ میں خدا اور بندوں کے حقوق ادا کرنا۔ خداکے بارے میں عقیدہ کی درستگی۔ خدا کے احکام کی بجاآوری۔زندگی کے معاملات میں انصاف پر قائم رہنا۔ نفسانی محرکات اور شیطانی وساوس کا مقابلہ کرنا۔ اپنی ذات اور اپنے مال سے خدا کا حق نکالنا۔ ہمیشہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو سامنے رکھنا۔ اپنے گھر اور اپنے متعلقین کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہنا۔ معاملات میں ہمیشہ وہ کرنا جو اسلام کا تقاضا ہے۔
عورت کا دوسرا اہم فرض اپنے بچوںکی اصلاح وتربیت ہے۔ ہر عورت بالآخرماں بنتی ہے۔ بچہ سے ماں کا اور ماں سے بچہ کا بے حد گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق بگاڑ کا سبب بھی بن سکتاہے اور بناؤ کا بھی۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے عورت کا فرض یہ ہے کہ وہ اس تعلق کو صرف بناؤ اور اصلاح کے لیے استعمال کرے۔
تیسری چیز جو ہر عورت کے لیے ضروری ہے وہ یہ کہ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے مسئلہ نہ بنے۔ زندگی میں ’’کیاکیا جائے‘‘ سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ’’کیانہ کیا جائے‘‘۔ اس معاملہ میں عورتوں سے جذباتی ہونے کی بنا پر کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ اور اپنے گھر والوں کے ساتھ غیر ضروری قسم کے مسائل کھڑے کردیتی ہیں۔ اس کی وجہ سے گھر کا سکون غارت ہوجاتا ہے۔ بظاہر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے گھر میں کچھ نہیں۔ عورت اگر اتنا کرے کہ وہ گھرکے اندر مسئلہ نہ پیدا کرے تب بھی اس نے بہت بڑا کام کیا۔
اگر عورت کے اندر مزید صلاحیت ہو اوراس کو وسیع تر مواقع حاصل ہوں تووہ اس کے آگے کا کام بھی کرسکتی ہے جس کو ہم نے خصوصی درجہ کا نام دیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں۔
رسول اللہ صلي اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ، حضرت عائشہ نہایت ذہین خاتون تھیں۔ ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بھر پور استفادہ کیا۔ غالباً ان کا حافظہ وہ تھا جس کو موجودہ زمانہ میں عکسی حافظہ (photographic memory)کہا جاتاہے۔ انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی باتوں کو اچھی طرح یاد رکھا۔ وہ چوں کہ رسول اﷲ کے مقابلہ میں بہت کم عمر تھیں، اس لیے آپ کی وفات کے بعدتقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ وہ امت کے لیے ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر ثابت ہوئیں۔ اور آپ کی وفات کے نصف صد ی بعد تک آپ کی باتیں لوگوں کو سناتی رہیں۔ عبداﷲابن عباس صحابہ کے درمیان بہت بڑے عالم تھے۔ وہ حبر الامۃکہے جاتے ہیں۔ اور قرآن کی تفسیرمیں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔ یہ عبداﷲ بن عباس حضرت عائشہ کے شاگرد تھے۔ انھوں نے علم دین زیادہ تر حضرت عائشہ سے سیکھا ، اسی طرح بہت سے صحابہ و تابعین آپ سے علم دین سیکھتے رہے۔ اس مثال میں ایک اسلامی خاتون علم دین میں مہارت پیدا کرکے لوگوں کی رہنما ئی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مہرکی مقد ار کم ہوتی تھی۔ بعد کو جب فراخی کا دور آیا تو لوگ مہر کی رقم زیادہ مقرر کرنے لگے۔ عمر فاروق اپنے زمانۂ خلافت میں ایک بار منبر پر آئے اور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ چارسو درہم مہرپر کس نے زیادتی کی۔ رسول اﷲ کا اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ حضرت عمر نے مزید کہا کہ خبردار تم لوگ عورتوں کے مہر میں زیادتی مت کرو۔ جب بھی مجھے معلوم ہوگاکہ کسی نے رسول اﷲ کے مہرسے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں اس زیادتی کو ضبط کرکے بیت المال میں داخل کردوں گا۔
اس کے بعد مجمع کے گوشہ سے ایک عورت اٹھی۔ اس نے کہا کہ اے امیر المومنین ، اﷲ کی کتاب زیادہ اتباع کے قابل ہے یا آپ کا قول۔ حضرت عمر نے کہا کہ اﷲ کی کتاب۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں۔ حالانکہ اﷲ اپنی کتاب میں فرماتاہے:وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا(4:20) ۔يعني، اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہر ایک عمر سے زیادہ عالم ہے( كُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ)۔پھر انھوں نے اپنا حكم فوراً واپس لے ليا۔( سنن سعيد بن منصور، حديث نمبر 598)۔ اس مثال میں ایک عورت دینی بات کا مجمع عام میں اعلان واظہار کررہی ہے۔
امام ابو جعفر طحاوی (229-321 ھ ) ایک مشہور محدث ہیں۔ ان کی کتاب طحاوی حدیث کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اور عربی مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ امام طحاوی نے یہ کتاب اپنی بیٹی سے املاکرائی ہے۔ اس کی ترتیب اس طرح ہوئی کہ باپ حدیث پڑھ کر سناتے اور اس کے مطالب بیان کرتے اور بیٹی ان کے پاس بیٹھی ہوئی لکھتی جاتی۔ اس طرح پوری کتاب تیار ہوگئي— اس مثال میں عورت دین کے معاملہ میں اپنے محرم رشتہ دار کی معاونت کررہی ہے۔
یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے ، کہاں تک آگے جاسکتی ہے۔
