ہندوستانی مسلمانوں کی جدید تاریخ
اسی سے ملتی جلتی صورتِ حال ہندستان میں 1857ء کے بعد پیش آئی جب کہ انگریزوں نے اس ملک پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے باقاعدہ منصوبے کے تحت یہ کوشش کی کہ اس ملک کے باشندوں کو سیاسی ٹکراؤکے راستے سے ہٹا کر تعلیم اورتبلیغ کے میدان میں مصروفِ عمل کر دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ہر قسم کا تعاون پیش کیا۔
ہندو قوم نے انگریز کے اس منصوبے کو فوراً قبول کر لیا۔ وہ بہت بڑے پیمانےپر انگریزی تعلیم کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے انگریزوں کے تعاون سے بے شمار تعداد میں اسکول اور کالج بنائے اور تقریباً اپنی پوری نسل کو اس راہ میں ڈال دیا۔ اس کا نتیجہ آج سامنے ہے۔ ہندو، بحیثیت قوم، مسلمانوں کے مقابلے میں کم از کم ایک سو سال تعلیم میں آگے ہیں۔ اس ملک میں ہندوؤں کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب ان کا تعلیمی تقدم ہے ، اور مسلمانوں کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ان کی تعلیمی پسماندگی۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں ناقابل فہم حد تک نادان ثابت ہوئے۔ ان کی جھوٹی برتری کا احساس ان کے لیے مذکورہ جاپانی طریقے کو اختیار کرنے میں مانع بن گیا۔ انہوں نے کامل بے سروسامانی ، اور اسی کے ساتھ کامل بے خبری کے باوجود، انگریزوں سے ایک ایسی بے معنی جنگ شروع کر دی جس کا سارا فائدہ انگریزوں کے حق میں جانے والا تھا اور جس کا سارا نقصان خود مسلمانوں کے حق میں۔
انگریزوں نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ عین وہی تدبیراختیار کرنا چاہا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد میک آرتھر نے جاپانیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ یعنی مسلمانوں کی توجہ سیاسی ٹکراؤ سے ہٹا کر تعلیم اور تبلیغ کی طرف موڑ دینا۔ مگر مسلمان بحیثیت قوم اس ہوش مندی کا ثبوت نہ دے سکے جس کا ثبوت خود اس ملک میں ہندوؤں نے اور جاپان میں زیادہ بڑے پیمانے پر جاپانیوں نے دیا تھا۔ اس بات کی وضاحت کے لیے یہاں میں صرف دو مثالیں دینا چاہتا ہوں۔
قدیم ایم اے او کالج (موجودہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) میں ایک انگریز پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ تھے۔ انہوں نے 500 صفحات پرمشتمل ا یک انگریزی کتاب لکھی جس کا نام دعوتِ اسلام (The Preaching of Islam) تھا۔ یہ کتاب پہلی بار 1896ء میں چھپی۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ اسلام کی اصل طاقت دعوت ہے۔ اسلام اپنی پوری تاریخ میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ اپنی دعوتی طاقت سے وہ ہر ظالم کے مقابلے میں کامیاب رہا ہے۔ اور ہر فاتح کے مقابلے میں دوبارہ اس نے غلبہ حاصل کیا ہے۔
ذاتی طور پر میں اس کتاب کو ایک بے حد قیمتی کتاب سمجھتا ہوں۔ تاہم 19ویں صدی کے آخر میں جب یہ کتاب چھپی تو عام طور پر مسلم رہنماؤں نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ کتاب انگریزی سازش کے تحت لکھی گئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی جہاد کے میدان سے ہٹا دیا جائے۔
مولانا حمید الدین فراہی (1930-1863)پروفیسر آرنلڈ کے زمانے میں علی گڑھ کالج میں موجود تھے۔ ان کے شاگردِ خاص مولانا امین احسن اصلاحی مولانا موصوف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مولانا حمید الدین فراہی جس زمانے میں علی گڑھ میں بی اے کے طالب علم تھے اس زمانےمیں علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر مشہور انگریز مستشرق ڈاکٹر آرنلڈتھے۔مولانانے ان سے فلسفے کا درس لیا۔ مگر وہ ان سے خوش نہیں تھے۔ وہ آرنلڈ صاحب کو بھی اسی بساط سیاست کا ایک مہرہ سمجھتے تھے جو انگریزوں نے علی گڑھ میں بچھا رکھی تھی۔ علی گڑھ کا حلقہ ڈاکٹر آرنلڈ کی کتاب پریچنگ آف اسلام کا بڑا مداح تھا۔ لیکن مولانا حمید الدین فراہی اس کتاب کے سخت مخالف تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے اندر سے روحِ جہاد ختم کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ (تفاسیر فراہی)
آرنلڈ کی کتاب (پریچنگ آف اسلام) کے بارے میں اس قسم کے تاثرات پہلے بھی ظاہر کیے گئے تھے ، اور آج بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مزید حوالے کے لیے ملاحظہ ہو مجلہ تحقیقاتِ اسلامی ، علی گڑھ ، جولائی — ستمبر 1985، صفحہ 24۔
2۔ شیخ عبدالحق پراچہ (1979-1920) نے اپنے ایک مطبوعہ مضمون میں بتایا ہے کہ ’’جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس امروہہ 1930ء سے کچھ روز قبل انگریز وائسرائے کی کونسل کے ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم (1942-1881)نے مولانا احمد سعید دہلوی (م9591) کو بلا کر پیشکش کی کہ آپ اجلاس امروہہ میں کانگرس کے ساتھ علماء کے اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائیداد بمعہ آراضی جمعیۃ علماء ہند کے علمی (اور تبلیغی) کاموں کے لیے دلوا دوں گا۔ مولانا احمد سعید صاحب (سابق ناظم جمعیۃ علماء ہند) نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا میاں صاحب ، تمام علماء کرام کیا مجھے بیوقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم تو پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں اور تم صرف ایک مقبرہ، وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت ، پر فیصلہ کر رہے ہو۔ مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ مولانا احمد سعید دہلوی نے راقم سے خود بیان کیا تھا۔‘‘( الجمعیۃ ویکلی ، 2 جنوری 1970ء صفحہ 8)
شیخ عبدالحق پراچہ دہلوی (سابق ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء دہلی) دوسری جگہ لکھتے ہیں ، ’’یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت برطانیہ نے اپنے ہتھکنڈوں سے جمعیۃ علماء کو ختم کرنے کی پوری جدوجہد جاری رکھی۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہے، میاں سرفضل حسین مرحوم کے ذریعہ مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے متعلقہ جائیداد اور آراضی کی پیشکش کرائی تھی جس کو مولانا احمد سعید صاحب نے ٹھکرا دیا تھا۔‘‘( الجمعیۃ ویکلی، 30جنوری 1970، صفحہ18 )
اس پیشکش پر اب 60 سال گزر چکے ہیں۔ اگر 60 سالہ تاریخ کی روشنی میں غور کیجیے تو نہایت عبرتناک سبق سامنے آتا ہے۔ ہندوستانی علماء کی سیاسی قربانیوں سے یہاں کے مسلمانوں کو کوئی بھی قابل لحاظ چیز حاصل نہ ہو سکی۔ جو لوگ پورے ملک پر قبضے کا خواب دیکھ رہے تھے وہ ملک کے ایک جزئی حصے پر بھی قبضہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ حتیٰ کہ آج ’’مقبرہ‘‘ جیسے مقامات بھی ہمارے علماء کی دسترس سے باہر ہیں۔
اب تصور کیجیے کہ مسلم رہنما اگر ڈاکٹر آرنلڈ کی کتاب (پریچنگ آف اسلام) کی اہمیت کو صحیح طور پر محسوس کرتے۔ اور پھر دعوتی جذبے کے تحت اگر 1930ء میں انگریز کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے صفدر جنگ کی جائیداد کو لے لیا گیا ہوتا جس کا مجموعی رقبہ کئی کیلومیٹر کے دائرے میں پھیلا ہوا ہے تو کیا ہوتا ۔ یہاں ہمارے علماء ایک عظیم الشان تبلیغی ادارہ قائم کر سکتے تھے جس کے سلسلے میں انہیں انگریزوں کی مکمل مدد حاصل ہوتی۔ یہاں تبلیغ و دعوت کی ضرورت کے تمام ادارے وسیع ترین پیمانے پر قائم کیے جا سکتے تھے۔ اگر وہ ا یسا کرتے تو جہاں آج صفدر جنگ ائیر پورٹ قائم ہے وہاں ایک عظیم الشان قسم کی انٹرنیشنل تبلیغی یونیورسٹی موجود ہوتی ۔ ہمارے علماء یہاں سے اولاً ملکی سطح پر اور اس کے بعد عالمی سطح پر تبلیغ و دعوت کی مہم جاری کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو 60 سال کے بعد آج ہندستان کی تاریخ مختلف ہوتی ، اور اس کے بعد شاید ساری دنیا کی تاریخ بھی۔
