اجرتی ولادت
جدید دور نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو نیابتِ مادری (surrogacy)کہا جاتا ہے۔ اعداد وشمار سے معلوم ہوا ہے کہ امریکا میں 1976 سے1986 تک مصنوعی حمل (artificial insemination)کے ذریعہ 500 لڑکے پیدا کیے جاچکے ہیں۔ امریکا میں اس وقت تقریباً ایک درجن اس قسم کے مراکز (surrogate centers)کام کررہے ہیں۔ ان مراکز میں مزید اضافہ کا امکان ہے، کیونکہ امریکا میں تقریباً 15 فی صد شادی شدہ افراد طبی طورپر غیرزرخیز (infertile) ہیں۔ (ٹائم 19 جنوری 1987)
مسڑ ولیم اسٹرن اور ایلزبتھ اسٹرن کے یہاں اولاد نہیں تھی، انھوں نے طے کیا کہ وہ کسی خاتون کو معاوضہ دے کر اس کے رحم کو استعمال کریں گے اور اپنے لیے ایک بچہ حاصل کریں گے۔ 1985 میں 20 ہزار ڈالر ادا کر کے انھوں نے میری بیتھ وہاٹ ہیڈ (Mary Beth Whitehead) سے معاہدہ کیا۔ اس کے رحم میں مسٹر اسٹر ن کا مادہ بذریعہ انجکشن داخل کر دیا گیا۔ اس عمل کے ذریعہ ایک بچی پیدا ہوئی۔ اب مسزوہائٹ ہیڈ کی مامتا جاگ اٹھی۔ اس نے بچی کو مسٹراسٹرن اور مسزاسٹرن کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔
یہ معاملہ عدالت تک پہونچا۔ عدالت نے اس کو معاہد ہ (Contract) کا معاملہ قرار دے کر بچی کو مسٹر اسٹر ن کے حوالے کیے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ پانچ پولیس کے آدمیوں کو لے کر مسزوہائٹ ہیڈ کے گھر آئے توخاتون بچی کو لے کر گھر کے پچھلے دروازے سے بھاگ گئی۔ تاہم وہ دوسرے شہر میں پکڑی گئی اور آخر کار بچی اسٹرن اور مسز اسڑن کے حوالے کردی گئی۔
اب امریکا میں اس پر اخلاقی بحثیں شروع ہوگئی ہیں۔ نیوجرسی کے بشپ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ مادری نیابت کا طریقہ بچہ کو محض ایک سودابنا دیتاہے۔ اور عورت کو محض ایک بچہ ساز:
Surrogacy exploits a child as a commodity and exploits a woman as a baby-marker (46).
دوسری طرف جو عورت دوسرے شخص کے لیے بچہ پیداکرتی ہے وہ خود سخت قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اس قسم کی ایک عورت ایلزبتھ کین (Elizabeth Kane) نے کہاکہ مجھے اپنے بچہ کی یادستاتی ہے۔ ان احساسات کو دبانے کے لیے مجھے برسوںکی مدت درکار ہوگی:
‘‘I miss my baby. I had to suppress those feelings for years.’’
جنسی آزادی کا غیر فطري نظریہ جو غیر فطری مسائل پیدا کرتا ہے ، مذکورہ واقعہ اس کی صرف ایک جزئی مثال ہے۔
