تنقید نہ سننے کا نقصان

سید احمد شہید بریلوی نے 1831ء میں مسلمانوں کی ایک فوج کے ساتھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کیا۔ یہ واقعہ بالا کوٹ ( پنجاب) میں پیش آیا۔ اس جنگ میں سید احمد شہید بریلوی اور ان کے اکثر ساتھی رنجیت سنگھ کی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ پرجوش جہاد عملی اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوا۔

سید احمد شهید بریلوی کی فوج میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو ان سے بیعت کیے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک مولانا میر محبوب علی الدہلوی (وفات 1280ھ ) تھے۔ وہ اپنے وقت کے ایک مشہور عالم تھے۔ وہ سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں شریک ہوکر روانہ ہوئے۔ چار سدہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ یہاں پہنچ کر مولانا میر محبوب علی صاحب کو سید صاحب سے اختلاف ہو گیا۔

مولانا میر محبوب علی صاحب نے اپنی اس اختلاف کی روداد اپنی عربی کتاب ’’تاریخ الائمة في خلفاء الأمة‘‘ میں درج کی ہے۔ یہ کتاب دہلی میں جامعہ ہمدرد ( تغلق آباد) کے کتب خانہ میں موجود ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میر محبوب علی صاحب نے چار سدہ کے مقام پر سید احمد شہید بریلوی سے خلوت میں ملاقات کی۔ انہوں نے سید صاحب سے پوچھا کہ آپ نے سکھوں کے خلاف جہاد کا یہ اقدام کس بنیاد پر کیا ہے۔ سید صاحب نے بتایا کہ کشف اور خواب کی بنیاد پر۔ میر محبوب علی صاحب نے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں ہے کہ— وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ (42:38)۔یعنی، وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ جہاد کا فیصلہ مشورہ کے ذریعہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو بھی مشورہ کرنا چاہیے اور اقدام سے پہلے اس معاملے کی پوری تحقیق کرنا چاہیے۔

مگر سید احمد شہید بریلوی نے میر محبوب علی صاحب کی اس بات کو نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ تم اپنی اس تنقید سے میرے کام میں خلل ڈال رہے ہو ، تمہاری اطاعت خاموشی کے ساتھ سننے کی ہونی چاہیے، ایسی خاموشی جیسی اس سامنے والے پہاڑ کی ہے۔ سید صاحب سے میر محبوب علی صاحب کی یہ گفتگو ناکام رہی چنانچہ وہ واپس ہو کر دہلی آگئے۔ سید صاحب نے اس پر سخت ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:من ذَهَبَ مِنْ عِنْدِي إِلَىٰ وَطَنِهِ مُرَاجِعاً فَقَدْ ذَهَبَ إِيمَانُهُ (بحوالہ مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، از مولانا شاہ ابوالحسن زید فاروقی، صفحہ87-86

اس واقعے کو بعض کتابوں میں میر محبوب علی صاحب کی گمراہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مولانا سید عبدالحئی صاحب ( سابق ناظم ندوۃ العلما لکھنؤ) نے لکھا ہے کہ مولانا میر محبوب علی صاحب اپنے وقت کے مشہور علما میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سید احمد شہید بریلوی کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی اور سید صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ یاغستان کا سفر کیا۔ مگر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا چنانچہ انہوں نے سید صاحب کا ساتھ چھوڑ دیا اور ہندستان واپس آگئے۔ وَبَايَعَ السَّيِّدَ الْمُجَاهِدَ أَحْمَدَ بْنَ عِرْفَانَ الْبِرِيلَوِيَّ بَيْعَةَ الْجِهَادِ، وَسَافَرَ إِلَى يَاغِسْتَانَ مَعَ أَصْحَابِهِ لِيَنْصُرَهُ فِي الْجِهَادِ، وَلَكِنَّ الشَّيْطَانَ وَسْوَسَ فِي صَدْرِهِ فَتَأَخَّرَ وَرَجَعَ إِلَى الْهِنْدِ(نزهة الخواطر و بهجة المسامع والنواظر، جلد 7،صفحہ407-406

سید احمد شهید بریلوی نے اپنے اقدام کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ تحقیق بھی نہیں کی کہ پنجاب میں اسلامی شعائر کی بے حرمتی کی خبریں جو انہوں نے سنی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی طاقت کتنی زیادہ ہے اور ان کے اپنے مریدوں کی غیر تربیت یافتہ فوج کس حد تک اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ وہ محض خوش عقیدگی کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ریاست میں داخل ہو گئے، جب کہ یہاں کے جغرافیہ کا بھی انہیں پوری طرح علم نہ تھا۔ فطری طور پر اس کا انجام یہ ہوا کہ سید صاحب اور ان کے بیشتر ساتھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان کی یہ مہم مسلمانوں کی ایک طرفہ تباہی کے ساتھ ختم ہو گئی۔

اس دوسری مثال سے اندازہ ہو تا ہے کہ اجتماعی معاملات میں درست رائے تک پہنچنے کے لیے یہ کتنا ضروری ہے کہ اختلاف رائے کا کھلا ماحول ہو، لوگوں کی تنقیدیں خوش دلی کے ساتھ سنی جائیں اور علمی بحث و مذاکرے کے بعد درست فیصلے تک پہنچنے کی کو شش کی جائے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion