ناکامی کا سبب
ہندستان کے مسلمانوں نے 1857 میں انگریزوں سے جنگ کی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو مکمل شکست ہوئی۔ 1860 میں ہندستان کے مسلمانوں نے جان لیا کہ انگریزوں کی سلطنت ہندستان میں ایک مسلمہ امر بن چکی ہے۔ اس وقت ہندستان کے مسلم علما کا پہلا ردّ عمل کیا ہوا۔ یہ کہ ہندستان کے مسلمانوں کو انگریزی تہذیب اور انگریزی تعلیم سے بچایا جائے۔ اس کے تحت ملک میں کثرت سے عربی مدارس قائم کیے گئے۔
یہ ردّ عمل کی بڑی عجیب مثال ہے۔ انگریزوں کے مقابل میں شکست کا اصل ردّ عمل یہ ہونا چاہیے تھا کہ مسلم علما میں یہ ذہن ابھرے کہ انگریزوں کے پاس وہ کون سی طاقت ہے کہ وہ باہر سے آکر ملک میں قابض ہوگئے ہیں ۔ اور پھر ان کی طاقت کو جان کر اس کو حاصل کیا جائے اور پھران کے خلاف زیادہ موثر انداز میں اقدام کیا جائے۔
صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد عیسائیوں میں یہ ذہن ابھرا تھا کہ مسلمانوں کی طاقت کے راز کو جانیں ۔ انہوں نے تیزی سے عربی زبان سیکھی اور مسلمانوں کے علوم کا لاتینی زبان میں ترجمہ کیا۔ مگرجب تاریخ بدلی اور دور جدید میں مسلمانوں کو مسیحی اقوام کے مقابلہ میں شکست ہوئی تو مسلمان یہ نہ سوچ سکے کہ وہ مسیحی قوموں کی طاقت کے راز کو جانیں اور اپنے آپ کو اس کے اعتبار سے کریں ۔ وہ صرف تحفظ کی نفسیات میں بند ہوکر رہ گئے۔ (ڈائری، 7 اگست 1984)
