ایک نوجوان عالم دین کا تجربہ
ایک نوجوان عالم دین آج کل ہمارے ساتھ تحریری کام میں کچھ مدد کررہے ہیں۔ ان کو میں دوجگہ غیرمسلموں کے اجتماع میں لے گیا۔ وہ دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوہ دونوں جگہ پڑھے ہوئے ہیں۔ مگر اب تک انہیں غیر مسلموں کے کسی اجتماع میں جانے کا موقع نہیں ملا تھا۔ دوسرے اجتماع سے واپسی کے بعد میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے عقلی انفتاح کا تجربہ تھا۔ انہوں نے اس کی تفصیل ان الفاظ میں بیان کی
مجھے پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ ہم اب تک اندھیرے میں تھے اور ایک محدود دائرے میں گردش کررہے تھے۔ ہم نے یہ سمجھا ہی نہیں تھا کہ ایک اور وسیع میدان ہماری نظروں سے اوجھل ہے، جس میں زیادہ بہتر طور پر دین کی خدمت کی جاسکتی ہے۔
مجھے احساس ہوا کہ غیر مسلم اقوام بھی ہمارے معاشرے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان کو الگ کرنے کی صورت میں ہم خود الگ ہوکر رہ جائیں گے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ باہمی میل جول بڑھاکر ہم خدا کے پیغام کو عام کریں۔ اس کو اپنی محدود دنیا سے نکال کر غیر محدود فضا میں لے جائیں۔ یہ ہمارا فریضہ تھا۔ لیکن ہم اب تک اس سے دور تھے۔ (ڈائری،26فروری1997)
