قیصر روم کے نام خط
قیصر روم کے نام اللہ کے رسول نے جو خط ارسال کیا اس کا مضمون کچھ اس طرح تھا’’:یہ خط ہے محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے ہر قل عظیم روم کی جانب۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ امابعد۔ میں تم کو اس کی دعوت دیتا ہوں جو اسلام کی طرف لانے والا ہے۔ اسلام قبول کرو سلامتی پاؤ گے۔ اور اللہ تعالیٰ دہرا اجر عطا فرمائے گا۔ پس اگر تو اسلام سے روگردانی کرے تو تمام رعایا کے اسلام نہ لانے کا گناہ تم پر ہوگا:يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ(3:64)۔ یعنی، اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مسلم ہے۔ وہ یہ کہ سوائے اللہ کے کسی چیز کی عبادت نہ کریں اور نہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک گردانیں۔ اور اللہ کے سوا آپس میں ایک دوسرے کو اپنا رب اور معبود نہ بنائیں۔ پس اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان(اللہ کے حکم کے تابع) ہو چکے ہیں۔
مذکورہ بالا خط آپ نے دحیہ کلبی کے ہاتھوں ہر قل کے پاس روانہ کیا۔ قیصر نے خط پڑھ کر ابوسفیان سے جنہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا، آپ کے بارے میں چند سوالات کئے۔ جس سے اس کو یقین ہوگیا کہ آپ رسول برحق ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ اس نے ایک عظیم الشان دربار منعقد کیا اور روم کے بطریقوں اور پادریوں کو اس میں جمع کیا۔ اور ان کے سامنے اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ لیکن یہ سن کر وہ لوگ بھپر اٹھے۔ یہ منظر دیکھ کر اس نے اپنا موقف تبدیل کر دیا اور انہیں کہاکہ میں تم لوگوں کو آزمانا چاہتا تھا۔ تمہیں اپنے دین پر ثابت قدم دیکھ کر مجھے خوشی ہو رہی ہے۔ اور یوں وہ اعتراف حق کے باوجود اس کے اظہار و قبول سے قاصر رہا۔
اس خط میں رسول اللہ نے ہر قل کو عظیم روم سے خطاب فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک غیر مسلم کا بھی اس کے شان و مرتبت کا خیال کرتے ہوئے اس مناسب تعظیم و توقیر ضروری ہے۔ اور اس سلسلے میں اس کے عقائد و مذہب سے کوئی بحث نہ ہوگی۔
