ایک واقعہ
خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ایک واقعہ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آیا ہے۔ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ابو موسیٰ اشعریؓ ایک بار عمر فاروقؓ سے ملنے کے لیے ان کے گھر آئے۔ دروازہ پرکھڑے ہو کر انہوں نے کہا کہ آپ پر سلامتی ہو، یہ ابو موسیٰ الاشعری ہے (السَّلَام عَلَيْكُم، هَذَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيّ)۔ اس طرح انہوں نے تین بار کہا۔ مگر انہیں اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد وہ واپس چلے گئے ( عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد11، صفحہ 176)۔
حضرت عمر غالباً کسی کام میں مشغول تھے۔ فوری طور پر جواب نہ دے سکے ۔ بعدکو جب انہیں معلوم ہوا کہ ابو موسیٰ ؓ واپس چلے گئے تو اگلے دن حضرت عمر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تم واپس کیوں چلے گئے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت مانگے، اور پھر بھی اس کو صاحب مکان کی طرف سے اجازت نہ ملے تو اس کے بعد وہ واپس چلا جائے۔
حضرت عمرؓ نے ابو موسیٰ الاشعریؓ سے کہا کہ اس قول رسول پرتم گواہ پیش کرو، ورنہ میں تم کو سزا دوں گا (وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ) راوی کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجلسوں میں سے ایک مجلس میں تھا کہ وہاں ابو موسیٰ الاشعریؓ آئے۔ وہ گھبرائے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں عمرؓ کے یہاں گیا اور تین بار سلام کیا۔ مگر اجازت نہ ملی، اس لیے واپس ہو گیا۔ اس کے بعد عمر نے مجھ سے واپسی کا سبب پوچھا۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی کے یہاں ملنے کے لیے جاؤ تو تین مرتبہ سلام کرو۔ اگر تین بار کے بعد اجازت نہ ملے تو واپس چلے جاؤ۔
عمرؓ نے کہا ہے کہ تم اس حدیثِ رسول پر گواہ لے آؤ، ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کہتے ہوئے سنا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ تو ایک معلوم بات ہے، اور اس کو بہت سے لوگوں نے سنا ہے۔ پھر الخدریؓ اٹھ کر ان کے ساتھ روانہ ہوئے اور حضرت عمر کے پاس پہنچ کر اس قولِ رسول کی تصدیق کی۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اپنا حکم واپس لے لیا اور کہا کہ بازار کی مشغولیت نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا:شَغَلَنِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ (فتح الباري لابن حجر ،جلد11، صفحہ 30)۔
حضرت ابی بن کعب کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو انہوں نے حضرت عمر سے کہا کہ اے عمر، تم رسول اللہؐ کے اصحاب پر عذاب نہ بنو۔ انہوں نے جواب دیا کہ سبحان اللہ، میں نے تو ایک بات سنی۔ پھر میں نے چاہا کہ اس کی حقیقت معلوم کروں: يَا عُمَرُ لَا تَكُنْ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عُمَرَ:سُبْحَانَ اللهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ ( شرح الزرقاني على الموطأ ، جلد4، صفحہ 578)۔
اس روایت سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کوئی شخص کسی سے ملنے کے لیے جائے اور صاحب مکان اس وقت اس کو ملاقات کا وقت نہ دے تو اس پر جانے والے کے دل میں ملال نہیں آنا چاہیے۔ اسلامی مزاج کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو کسی معقول عذر پر محمول کرے اور بخوشی وہاں سے واپس چلا جائے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آدمی اگر غلط فہمی کی بنا پر کسی کے بارے میں ایک غیر واقعی رائے قائم کر لے تو اس پر لازم ہے کہ معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ معاملہ کی وضاحت کے بعد اپنی سابقہ رائے پر قائم رہنا مومن کا طریقہ نہیں۔
تیسری بات جو اس واقعہ سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر کوئی شخص دوسرے شخص کے اوپر تنقید کرے، تو خواہ یہ تنقید کتنے ہی سخت الفاظ میں ہو، زیرتنقید شخص کو اسے برا نہیں ماننا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ تنقید کو ٹھنڈے دل سے سنے اور کسی اشتعال کے بغیر اصل بات کا جواب دے کر ناقد کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔
