اعظم گڑھ کا سفر
ایک پروگرام کے تحت، اعظم گڑھ (یوپی) کا سفر ہوا۔ میرے سوا اِس سفر میں ہماری ٹیم کے پانچ افراد اور شریک تھے— مولانا محمد ذکوان ندوی، مسٹر رامش صدیقی، سعدیہ خان، نغمہ صدیقی، ڈاکٹرفریدہ خانم۔ ہم لوگ 29 دسمبر 2008 کی شام کو دہلی سے اعظم گڑھ گئے، اور 2 جنوری 2009 کو دہلی واپس آئے۔ یہ سفر دہلی اعظم گڑھ ایکسپریس کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے ہم لوگ شام کو تقریباً آٹھ بجے روانہ ہوئے اور اگلے دن بارہ بجے اعظم گڑھ پہنچے۔
اعظم گڑھ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایک مسلم نواب تھے، اُن کانام اعظم شاہ تھا۔ اُن کے نام پر تقریباً 1665 ء میں شہر اعظم گڑھ بسایا گیا۔ نواب اعظم شاہ کی فیملی کے لوگ اب بھی شہر کے ایک حصے میں رہتے ہیں، جس کا نام سِدھاری ہے۔ میرے استاد مولانا نجم الدین اصلاحی (وفات 1994) اپنے آخری زمانے میں اِسی سدھاری کی مسجد میں رہتے تھے۔ مولانا نجم الدین اصلاحی کی دو کتابیں مشہور ہیں— یادگارِ سلف، مکتوباتِ شیخ الاسلام۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن سے ہم لوگ دو بڑی کاروں کے ذریعے قافلے کی صورت میں شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں کئی ایسے مقامات آئے جن سے زمانہ ماضی کی کچھ یادیں تازہ ہوگئیں۔ مثلاً راستے میں سڑک کے کنارے ایک قدیم اسکول ہے جو مشن اسکول (قائم شدہ1884) کے نام سے مشہور ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن کے زمانے میں ایک بار میں اِس اسکول کے سامنے سے گزرا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں طلبا کی بھیڑ ہے۔ وہ ایک کھڑکی کے سامنے لائن لگائے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں طلبا کو انعامات تقسیم کیے جارہے ہیں۔ خوش فہمی کے تحت میں بھی اِس لائن میں کھڑا ہوگیا۔ چلتے ہوئے جب میں ونڈو کے پاس پہنچا تو اندر بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا— آئڈنٹٹی کارڈ دکھاؤ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی آئڈنٹٹی کارڈ نہیں۔ اِس کے بعد اُس نے مجھ کو ونڈوسے ہٹا دیا۔
اُس وقت تو میں نے سادگی کے تحت ایسا کیا تھا۔ بعد کو میں نے سوچا کہ ایسا ہی معاملہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ وہاں بھی لوگوں کو خدا کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔بھیڑ کا ہر شخص چاہے گا کہ اس کو یہ خدائی انعام حاصل ہوجائے، اُس وقت ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ جن کے پاس استحقاقی کارڈ ہوگا، اُن کو انعام تقسیم کرنے والے فرشتے مبارک باد دیتے ہوئے انعام عطا کریں گے اور بہت سے لوگ وہ ہوں گے جن کے ساتھ استحقاقی کارڈ موجود نہ ہوگا اور وہ اُس دن خدائی انعام کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ آخرت کے دن کون مستحق قرار پائے گا، اور کون ابدی طورپر استحقاق سے محروم ہو کر قابلِ رد قرار دے دیاجائے گا۔
آگے بڑھتے ہوئے ہم لوگ شبلی نیشنل کالج کے کیمپس میں داخل ہوئے۔ یہاں کالج کے گیسٹ ہاؤس میں میرے لیے اور میرے ساتھیوں کے لیے قیام کا انتظام کیاگیا تھا۔یہ گیسٹ ہاؤس جدید طرز پر بنایا گیا ہے۔ اُس میں ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ اِس گیسٹ ہاؤس کے کمروں کو رزرو کرنے کے لیے ہم اِس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افتخار احمد کے پاس گئے۔ اُن کو جب میرا نام بتایاگیا تو انہوں نے کہا کہ اُن سے اور ان کی ٹیم سے کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا۔ جب تک وہ یہاں ہیں،وہ ہمارے مہمان ہیں۔ میزبان نے بتایا کہ گیسٹ ہاؤس کے اِن کمروں کا یومیہ کرایہ پندرہ ہزار روپئے ہے۔
اِس تعلیمی ادارے کو مولانا شبلی نعمانی (وفات 1914) نے 1883 میں قائم کیا تھا۔ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی خاندانی زمین اس کے لیے وقف کی تھی اور اس کے لیے اپنے رشتے داروں کو بھی راضی کیا تھا۔ پہلے یہ شبلی نیشنل اسکول کے طورپر قائم ہوا تھا۔ اب ترقی کرکے وہ ایک بڑے ڈگری کالج کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اِس وقت اُس کے تین بڑے شعبے ہیں— پرائمری اسکول، ہائی اسکول، ڈگری کالج۔ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں مولانا نظام الدین اصلاحی اور جامعۃ الفلاح (بلریا گنج) کے کئی اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔
اعظم گڑھ میں میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ان کے گھر باقی منزل کے ایک کمرے میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اعظم گڑھ میں میری بیوی کی ایک سہیلی تھیں، اُن کا نام رضیہ تھا۔ رضیہ کے شوہر اور باپ دونوں وکیل تھے۔ معاشی اعتبار سے بظاہر اُن کا تعلق ایک آسودہ فیملی سے تھا۔
ایک دن میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ واپس آکر جب میں باقی منزل میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں میری بیوی سابعہ خاتون (وفات 2006) بیٹھی ہوئی تھیں۔ داخل ہوتے ہی انہوں نے جو پہلی بات کہی، وہ یہ تھی کہ رضیہ کہتی ہیں کہ تمھارے شوہر کوئی معاشی کام نہیں کرتے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی کمائی پررہتے ہیں۔ ان کی زندگی تو اِس طرح گزر جائے گی، لیکن اُن کے بعد تمھارا اور تمھارے بچوں کا کیا حال ہوگا۔ اُس وقت میری بیوی کمرے میں ایک چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھیں اور میں وہاں ان کے پاس کھڑا تھا۔ میں نے کھڑے کھڑے جواب دیا۔ مجھے وہ الفاظ اب تک یاد ہیں جو میں نے اُس وقت کہا تھا۔ میں نے کہا کہ— رضیہ سے کہہ دو کہ یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔
یہ الفاظ جو اچانک میری زبان سے نکلے تھے، غالباً الہامی الفاظ تھے۔ میری بعد کی پوری زندگی اِن الفاظ کی تصدیق بن گئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن کے یہ الفاظ پوری طرح میری زندگی پر صادق آتے ہیں:وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (65:3)۔ یعنی، اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
اعظم گڑھ میں جب میں شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا، اُس وقت مجھے اِس کالج سے متعلق ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ واقعہ میری زندگی کا ایک بے حد سبق آموز واقعہ ہے۔
یہ 1966 کی بات ہے جب کہ میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا اور انگریزی زبان اور انگریزی علوم کے حصول میں بہت زیادہ غرق تھا،ا ُس زمانے میں مجھے یہ احساس ہوا کہ میں جدید مغربی افکار کو سمجھوں۔ برطانیہ کا مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات1970) کو مغربی فکر کا امام سمجھا جاتا ہے۔ میں نے چاہا کہ میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھوں۔ اس کی تلاش میں میں شبلی کالج کی لائبریری میں گیا۔ وہاں ایک الماری میں برٹرینڈرسل کی کتابوںکا ایک سیٹ رکھا ہوا تھا۔ میں نے لائبریرین سے کہا کہ میں اِن کتابوں کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپ بہ یک وقت اِن میں سے کتنی کتابیں مجھے دے سکتے ہیں۔ لائبریرین نے کہا کہ یہاں اِن کتابوں کو کوئی پڑھتا نہیں ہے، یہ صرف یہاں رکھی ہوئی ہیں۔ آپ پورا سیٹ لے جائیے۔ پڑھ کر واپس کر دیجیے گا۔
میں تمام کتابوں کو لے کر واپس اپنے گھر آگیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اُس رائٹر کی کتابیں ہیں جو موجودہ زمانے میں سب سے بڑا ملحد (atheist) انسان سمجھا جاتا ہے۔ یہ سن کر میری بیوی متوحش ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ ضرور گم راہ ہوجائیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ برٹرینڈ رسل اِس دور کا سخت ترین ملحد ہے۔ اِس لحاظ سے، اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام ذوق کے مطابق، خطرے سے خالی نہیں تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اُس سے اِس طرح نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہوچکا تھا۔ برٹرینڈرسل کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے جوکچھ پایا، اُس کا مختصر ذکر میں نے اپنی کتاب ’’مذہب اور سائنس‘‘ میں کیا ہے۔ یہ کتاب اردو کے علاوہ، عربی اور انگریزی زبان میں بھی چھپ چکی ہے۔ میرے مذکورہ علمی تجربے کو اِس کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
اپنی عمر کے ابتدائی دور میں جب میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا تو اکثر میں دار المصنفین جایا کرتا تھا، جو میرے گھر سے بہت قریب تھا۔ یہ علمی ادارہ مولانا شبلی نعمانی نے اپنے آخری زمانے میں قائم کیا تھا۔ اِس ادارے سے میری دلچسپی کا سبب زیادہ تر ہوا کرتا تھا— اہلِ علم سے ملنا، اور یہاں کے کتب خانے سے استفادہ کرنا۔
اُس وقت مولانا مجیب اللہ ندوی (وفات 2006) یہاں بطور رفیق رہا کرتے تھے۔ ایک بار مولانا مجیب اللہ ندوی سے اِس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ آدمی کو کب لکھنے کا کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے استاد مولانا سید سلیمان ندوی (وفات 1953) سے یہ سوال کیا تھا۔ انہوں نے اِس کاجواب اِن الفاظ میں دیا تھا— اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے۔ اس کے بعد لکھو۔
اعظم گڑھ کے زمانۂ قیام میں میرا سارا وقت کتابوں کے مطالعے میں گزرتا تھا۔ اُس زمانے میں میرا حال یہ تھا کہ میں نہ صرف اپنے گھر پر یا لائبریریوں میں کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا، بلکہ راستہ چلتے ہوئے بھی میرے پاس کتاب ہوتی تھی اور دونوں ہاتھ میں لیے ہوئے میں اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ میری عادت تھی کہ میں ہمیشہ ٹریفک اصول کے مطابق، بالکل بائیں طرف (extreme left) چلتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات 1985) کو معلوم ہوا کہ میں راستہ چلتے ہوئے کتاب پڑھتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص ضرور ایک دن سڑک پر کسی سواری سے ٹکرا کر مرے گا۔
دار المصنفین کا کتب خانہ مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کوششوں سے قائم ہوا تھا۔ اِس کتب خانے میں قرآن کی عربی تفاسیر، حدیث کی کتابیں اور اسلامی تاریخ کے موضوع پر عربی زبان میں تقریباً تمام مستند کتابیں موجود تھیں۔ اِس طرح مجھے ایک ہی کتب خانے میں اسلام کے بنیادی موضوعات پر گہرے مطالعے کا موقع مل گیا۔
کارل مارکس (وفات 1883) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اُس نے اقتصادیات اور اُس کے متعلق موضوعات کا تفصیلی مطالعہ جرمنی کے کتب خانے میں کیا تھا۔ اُس زمانے میں اُس کے انہماک کا حال یہ تھا کہ صبح کو جب لائبریری کا دروازہ کھلتا تو کارل مارکس پہلا شخص تھا جو اُس کے اندر داخل ہوتا۔ اِسی طرح شام کو جب لائبریری کا دروازہ بند ہوتا تو کارل مارکس آخری شخص تھا جو اُس سے باہر نکلتا تھا۔ دارالمصنفین کے کتب خانے میں مطالعے کے دوران میرا بھی عرصہ دراز تک یہی حال رہا۔
دوپہر کے وقت لنچ (lunch) کے لیے کتب خانہ بند کیا جاتا تھا۔ میں نے وہاں کے لائبریرین سے کہہ دیا تھا کہ آپ باہر سے دروازہ بند کرکے چلے جائیں اور مجھ کو کتب خانے کے اندر چھوڑ دیں۔ اُس زمانے میں مجھے دوپہر کے کھانے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ اِس بنا پر کبھی کبھی بھوک سے مجھے چکر آجاتا تھا۔ اُس زمانے کا ایک واقعہ میں نے اپنی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں اِن الفاظ میں نقل کیا ہے
’’دار المصنفین (اعظم گڑھ) کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے۔ چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علمِ کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہوچکے ہیں اور تمام لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جاچکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے۔ ایک طرف میں ہوںاور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اُس وقت میری کیفیت یہ ہوچکی تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیاہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اُس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں، مگر اٹھا تو کم زوری کی وجہ سے مجھے چکر آگیا اور میں سمت بھول گیا۔ یہ میرا مدت کا جانا پہچانا کمرہ ہے، مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ کتابوں کی متعلقہ الماری فلاں سمت میں موجود ہے‘‘ (صفحہ 14)۔
30 دسمبر 2008 کو میں اپنی ٹیم کے کچھ افراد کے ساتھ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ جامعۃ الفلاح (بلریا گنج، اعظم گڑھ) کے کچھ اساتذہ، مولانا نظام الدین اصلاحی کے ہم راہ ملاقات کے لیے آئے۔ ان حضرات سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ پھر انہوں نے ہم لوگوں کو جامعۃ الفلاح آنے کی دعوت دی۔ میں نے اِس دعوت کو قبول کرلیا اور اِس کے مطابق، اگلے دن صبح کو مولانا نظام الدین اصلاحی کے ساتھ جامعۃ الفلاح کا سفر ہوا۔
جامعۃ الفلاح عربی اور دینی تعلیم کا ایک مشہور ادارہ ہے۔ جامعۃ الفلاح پہنچ کر اس کے مختلف شعبوں کودیکھنے کا اتفاق ہوا اور یہاں اساتذہ اور طلبا سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اِس تعلیمی ادارے کا آغاز 1954 میں ایک معمولی مکتب سے ہوا تھا۔ اِس کے بعد حکیم محمد ایوب (وفات 2004 ) اور دوسرے اصحاب کی مسلسل کوشش سے وہ اب ایک بڑے جامعہ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اِس وقت جامعہ کے دو بڑے حصے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک حصے کا تعلق طلبا سے ہے، اور دوسرے حصے کا تعلق طالبات سے۔ دونوں میں عالمیت اور فضیلت تک تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی مجموعی تعداد تقریباً چار ہزار ہے۔ طلبا کے مقابلے میں طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔
جامعۃ الفلاح میں میرے دو خطابات ہوئے۔ ایک، طلبا کے درمیان اور دوسرا، طالبات کے درمیان۔ طلبا سے خطاب کا انتظام یہاں کے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ طلبا اور اساتذہ دونوں یہاں موجود تھے اور پورا ہال مکمل طورپر بھرا ہوا تھا۔ طلبا کے سامنے خطاب کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا، اُس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
میرے سامنے نوجوان طلبا بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب میں نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا نے نوجوانوں کی شکل میں اپنی زمین پر کچھ پھول کھلائے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ یہ پھول مہکیں اور دنیا کو اپنی خوش بو سے معطر کردیں۔ میں نے کہا کہ اِس مدرسے کا نام الفلاح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی مدرسے کا سب سے زیادہ درست نا م ہے۔ کیوں کہ مدرسہ آدمی کو حقیقی فلاح کاراز بتاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو سب سے پہلے شعوری طورپر یہ جاننا چاہیے کہ آپ نے یہاں آکر زندگی کا صحیح آغاز پالیا ہے۔ آپ نے یہاں آکر علم سے اپنی زندگی کا آغاز کیا ہے۔ اوریہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کا آغاز علم (اقرأ) سے ہوا ہے۔ جس آدمی نے زندگی کا صحیح آغاز پالیا، وہ ضرور اس کے صحیح انجام تک پہنچے گا۔ اِسی حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— میرے آغاز کار کا طریقہ شروع سے آغاز کرنا ہے:
My way is to begin from the beginning.
اِس موقع پر طلبا کی نسبت سے جو باتیں میں نے بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حصولِ علم کے لیے روحِ تجسس (spirit of inquiry) لازمی طورپر ضروری ہے۔ آپ لوگوں کو اپنے اندر تجسس کی اسپرٹ نہایت گہرائی کے ساتھ پیدا کرنا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ زندگی کی کامیابی کے لیے حضرت علی کا ایک قول بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ قول یہ ہے— قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ
The value of a person lies in excellence.
اِس کے بعد کلّیۃ البنات میں جامعہ کی طالبات سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔یہ طالبات نہایت ڈسپلن کے ساتھ جامعہ کے ایک حصے میں بٹھائی گئی تھیں۔ میں نے اپنی تقریر میں ایک مغربی مفکر کے اِس قول کو دہرایا— ہر بڑے کام کے آغاز میں ایک عورت موجود ہوتی ہے:
There is a woman at the beginning of all great things.
اِس کی تفصیل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ کا یہ مدرسہ آپ کو اِسی قسم کی عظیم خاتون بنانے کے لیے قائم کیاگیا ہے۔ میں نے کہا کہ تاریخ کی عظیم خاتون عائشہ صدیقہ تھیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ مدرسۂ نبوت کی ایک کامیاب طالبہ تھیں۔ تجربے سے معلوم ہوتاہے کہ عورت کے اندر اخذ (grasp)کی صلاحیت مَردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اُس کا ایک ثبوت حضرت عائشہ کی مثال ہے۔
صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ کی عام پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا:مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی، جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو امور کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ آسان تر کا انتخاب کیا۔ یہاں قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ رسول اللہ نے لفظی طورپر کبھی یہ بات نہیں کہی تھی۔ اِس کے باوجود عائشہ نے رسول اللہ کی پالیسی کے بارے میں اِس اہم اصول کو اخذ کیا۔ اِس قسم کی اخّاذیت کا ثبوت کسی مرد کے یہاں نہیں ملتا۔
میں نے کہا کہ انگریزی کا ایک مقولہ ہے— لیڈیز فرسٹ (ladies first)۔ اِس مقولے کی سب سے اعلیٰ مثال پیغمبرانہ تاریخ میں ہے، اور وہ حضرت ہاجرہ کی مثال ہے۔ یہ دراصل ہاجرہ کی عظیم قربانی تھی جس کے ذریعے ہیروؤں کی وہ نسل (nation of heroes) ظہور میں آئی جس میں رسول اور اصحابِ رسول جیسے اعلیٰ افراد پیداہوئے۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل (process) تھا جس کا آغاز ایک عورت کی بے مثال قربانی سے ہوا۔
میں نے کہا کہ ہر عورت کے لیے اِس دنیا میں ایک بڑا رول مقدر ہوتا ہے۔ اِس رول کو ادا کرنے کی صرف ایک خاص شرط ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا۔ ہر وہ چیز جو آپ کو اپنے مقصد ِ اعلیٰ کی طرف کامل توجہ دینے سے ہٹائے، وہ ڈسٹریکشن کا ذریعہ ہے۔ مثلاً شاپنگ، آؤٹنگ، فیشن، تقریبات اور اولاد، وغیرہ۔ اسلام کے مطابق، اولاد ایک آزمائش (التّغابن،64:15) ہے۔ اولاد کے بارے میں والدین کی ذمے داری اُن کی حقیقی ضرورت کو پورا کرنا ہے، نہ کہ اُن کو قلبی محبت کا مرکز بنانا۔قلبی محبت کا مرکز صرف خداوند ِ ذوالجلال ہے، نہ کہ اولاد۔
ہر انسان کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ عورت کا ہے۔ عورت کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ موجود ہے، اور وہ اُس کا آرائش پسندانہ مزاج ہے۔ عورت کو اپنی اِس کمزوری کے بارے میں شعوری طورپر زیادہ بیدار ہونا چاہیے۔ ورنہ ایسا ہوگا کہ عورت کے اوپر اُس کا آرائش پسندانہ مزاج غالب آجائے گا اور وہ زندگی میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔
جامعۃ الفلاح کے پروگرام میں شرکت کے بعد ہم لوگ بذریعہ کار بڈھریا گئے۔اعظم گڑھ شہر سے بڈھریا کا فاصلہ 27 کلومیٹر ہے۔ بڈھریا میرا آبائی وطن ہے۔ راستے میں سڑک کے کنارے چند مقامات آئے۔ اُن میں سے ایک پھریہا تھا۔ پھریہا اعظم گڑھ کا وہ گاؤں ہے جہاں 1863 میں مشہور مفسر قرآن مولانا حمید الدین پیدا ہوئے۔ مولانا حمیدالدین نے پھریہا کی تعریب کرکے اُس کو فراہا بنایا اور پھر اس میں یائے نسبت شامل کرکے اپنے نام کے ساتھ فراہی لکھنا شروع کیا۔تعریب کا یہ ذوق اِس علاقے میں کافی بڑھا اور کئی گاؤں کے لوگوں نے اس کی تقلید کی۔ مثلاً سیدھا کے لوگ اپنے کو مستقیمی لکھنے لگے۔ چھاؤں کے لوگ اپنے کو ظلّی لکھنے لگے۔ اَساڑھا کے لوگ مطری لکھنے لگے، وغیرہ۔
مولانا حمید الدین فراہی کا انتقال 1930 میں ہوا۔ میں نے اُن کو دیکھا نہیں۔ لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کے دو خاص شاگردوں سے مجھے حصول علم کا موقع ملا— مولانا امین احسن اصلاحی (وفات1998)، اور مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات1985)۔مولاناحمید الدین فراہی کے بارے میں کئی لوگوں نے اُن کے مختصر تذکرے شائع کیے ہیں۔ مثلاً سید سلیمان ندوی، مولانا امین احسن اصلاحی، وغیرہ۔ لیکن مولانا حمید الدین فراہی پر زیادہ جامع کتاب ڈاکٹر شر ف الدین اصلاحی (مقیم اسلام آباد، پاکستان) نے ’’ذکرِ فراہی‘‘ کے نام سے شائع کی ہے۔ یہ کتاب 840 صفحات پرمشتمل ہے۔ اِس کتاب کی تیاری میں تقریباً 18 سال صرف ہوئے ہیں۔ میرے پاس کتاب کا وہ نسخہ ہے جو 2001 میں دائرۂ حمیدیہ (مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ) سے شائع ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اِس کتاب کا ایک ایڈیشن دار التذکیر (لاہور) نے شائع کیا ہے۔ اِس میں مصنف نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔
پھریہا کا گاؤں ایک سڑک کے کنارے واقع ہے۔ یہ سڑک انگریزوں کے زمانے میں بنائی گئی تھی۔ لیکن پھریہا سے ہمارے گاؤں تک پختہ سڑک نہ تھی۔ اب یہاں اچھی سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی اِس سڑک پر گزرتے ہوئے وہاں پہنچی جہاں کُنور ندی واقع ہے۔ یہ ندی ہمارے گاؤں کی سرحد پر ہے۔ اِس ندی کے اوپر ایک پُل ہے۔اُس زمانے میں یہ پل میرے لیے غارِ حرا کی مانند بن گیا۔ میں صبح وشام یہاں آتا اور پل کی فصیل پر بیٹھ کر سورج کے نکلنے اور سورج کے ڈوبنے کا منظر دیکھتا رہتا۔ پل کے نیچے دریا بہہ رہا ہوتا تھا۔چاروں طرف دور تک درخت اور کھیت کے سرسبز مناظر تھے جن کے اوپر چڑیاں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اوپر نیلے آسمان کا پُرشکوہ منظر ہوتا تھا۔ یہاں میں دیر تک اکیلا بیٹھا رہتا تھا اور فطرت کے مناظر میں کھویا ہوا اُس کو دیکھتا رہتا تھا۔ یہ پل گویا کہ میرے لیے تلاشِ حق کے طویل سفر کا ایک ابتدائی مرحلہ تھا۔ فطرت کی یہ دنیا میرے لیے ایک کھلی تربیت گاہ کے ہم معنی بن گئی۔
کنور ندی کے اِس پل سے آگے بڑھ کر ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہمارے سامنے وہ اسکول تھاجس کے سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ ہمارے گاؤں میں تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ڈاکٹر عبد العلی کے خاندان نے ’’درس گاہِ اسلامی‘‘ کے نام سے ایک مکتب قائم کیا تھا۔ اس میں اب کافی توسیع ہوچکی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم اِسی درس گاہ میں ہوئی۔ میرے بچپن کے زمانے میں یہاں مولانا فیض الرحمن اصلاحی (وفات1972) اُس کے معلم تھے۔ وہ مدرسۃ الاصلاح کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات 1945) کے صاحب زادے تھے۔ اُن سے میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اِس کے بعد میرے چچا صوفی عبد المجید خاں (وفات 1949 ) نے مزید تعلیم کے لیے مجھے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ ) میں داخل کرایا۔
بڈھریا میرا مسقطِ رأس(birth place) ہے۔ یکم جنوری 1925 کو جب کہ میں پیدا ہوا، اُس وقت بڈھریا صرف ایک دور افتادہ (remote) معمولی گاؤں تھا۔ سیاسی سرگرمیاں یا تمدنی ترقیاں ابھی تک یہاں نہیں پہنچی تھیں۔ میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں ہوئی۔ یہاں میرے استاذ مولانا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میرے بچپن اور جوانی کی پوری عمر اِسی ماحول میں گزری۔
میری زندگی کا سب سے انوکھا واقعہ یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں کس طرح دعوت الی اللہ میرا مشن بن گیا۔ اُس وقت میرے خاندان میں زیادہ تر شعر و شاعری کا ماحول تھا۔ ہم لوگ اکثر بیت بازی کیا کرتے تھے۔ 1938 میں میرے چچا صوفی عبد المجید خاں نے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں میرا داخلہ کرایا تو یہاں بھی کوئی شہری ماحول نہ تھا۔ مدرسے کا تعلیمی ماحول بھی تمام تر نظمِ قرآن کے مخصوص فراہی فکر پر مبنی تھا۔ اِس پوری مدت میں کہیں بھی میں نے یہ بات نہیں سنی کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کرنا لازمی طورپر مسلمانوں کی شرعی ذمے داری ہے۔ مدرسے میں اور مدرسے کے باہر میں نے اسلامیات کا جو مطالعہ کیا، اُس میں بھی دعوت کا یہ تصور حذف تھا۔ قرآن کی تفسیروں میں سے کوئی بھی تفسیر دعوت الی اللہ کے تصور کے تحت نہیں لکھی گئی۔ حدیث کے مجموعوں میں جو تراجمِ ابواب ہیں، اُن میں سے کسی بھی کتاب میں دعوت کو ترجمہ باب نہیں بنایا گیا ہے۔ فقہ کے موضوع پر بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سیاسی اور غزواتی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ مسلم تاریخ میں جو بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سارے ابواب ہیں، مگر اُس میں دعوت کا باب موجود نہیں۔ مثلاً الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی، وغیرہ کی کتابیں۔ ایسی حالت میں یہ ایک انتہائی انوکھی بات ہے کہ کس طرح بعد کے دور میں دعوت الی اللہ میری زندگی کا واحد مشن بن گیا۔
اسی طرح میری زندگی کا ایک انوکھا پہلو یہ ہے کہ میرے زمانے میں، مسلم دنیا میں ہر طرف، ادبی ذہن چھایا ہوا تھا۔ ادب اور شاعری کا اسلوب غالب اسلوب کی حیثیت رکھتا تھا۔یہ ذہن اتنا زیادہ عام تھا کہ اِس معاملے میں مسلمانوں کے روایتی طبقہ اور انگریزی داں طبقہ کے درمیان کوئی فرق موجود نہ تھا۔ مسلمانوں کا یہ عمومی ذہن آج تک بدستور قائم ہے۔ ایسی حالت میں یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ اِس معاملے میں کس طرح میں پوری مسلم ملت میں ایک واحد استثنا بن گیا۔ میرے اندر سائنٹفک تھنکنگ پیدا ہوئی۔ میں نے حوصلہ شکن ماحول میں انگریزی زبان سیکھی۔ میں نے جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اور یہ سب کچھ صرف اِس لیے تھا کہ میں عصری ذہن کے سامنے اسلام کی دعوت کو موثر انداز میں پیش کرسکوں، حتی کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہی میرا اصل موضوع بن گیا۔
میرے ساتھ یہ جو استثنائی معاملہ پیش آیا، اُس پر جب میں غور کرتا ہوں تو اِس کی کوئی بھی توجیہ اِس کے سوا سمجھ میں نہیں آتی کہ اُس کو قرآن کے الفاظ میں اجتباء(انتخاب) کا ایک معاملہ سمجھا جائے۔ اجتباء کے لفظی معنیٰ ہیں— چن لینا (to choose)۔ اجتباء کے بارے میں قرآن کا تصور یہ ہے کہ خدا، دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے کسی انسان کو چن لیتا ہے، پھر اُس کے لیے ایسے اسباب فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے میں دعوت الی اللہ کے کام کو مطلوب اندازمیں کرسکے۔ دعوت کا کام کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی کا کام ہے۔ اِس قسم کی نمائندگی بلاشبہ اِس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ یہ کام صرف وہی انسان کرسکتا ہے جس کو خداوند ِ ذوالجلال کی خصوصی نصرت اور توفیق حاصل ہوئی ہو۔
اجتباء کا لفظ مختلف صورتوں میں قرآن میں 10 بار استعمال ہوا ہے۔امام راغب الاصفہانی (وفات 1108 ء) نے لکھا ہے کہ قرآن کے مطابق، اجتباء کا معاملہ پیغمبر اور غیر پیغمبر دونوں کے ساتھ پیش آتا ہے(مفردات القرآن، صفحہ 87)۔ اجتباء کے اِس معاملے کا تعلق صُلحاء اور اَتقیاء سے نہیں ہے۔ اُن کا معاملہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ اجتباء کا تعلق دراصل اُس مخصوص عمل سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت قرار دیا ہے (الحج، 22:40) یعنی دعوت الی اللہ کا عمل۔
میری شخصیت کا ارتقا جو بڈھریا اور سرائے میر اور اعظم گڑھ جیسے ماحول میں ہوا، وہ اتنا زیادہ انوکھا ہے کہ بظاہر اس کو اجتباء کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
مدرسۃ الاصلاح کے ذمے داروں کو معلوم ہوا کہ میں اعظم گڑھ آرہا ہوں تو انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے مولانا محمد ذکوان ندوی سے ربط قائم کیا۔ اس کے بعد مدرسۃ الاصلاح کا ایک پروگرام بنا۔پروگرام کے مطابق، مدرسۃ الاصلاح کے دو اساتذہ مولانا انیس احمد اصلاحی، مولانا سرفراز احمد ندوی بڈھریا آئے۔ ان کے ساتھ 31 دسمبر2008 کی شام کو مدرسۃ الاصلاح کا سفر ہوا۔ ہمارے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم کے افراد بھی شامل تھے۔
مدرسۃ الاصلاح 1908 میں قائم ہوا۔ اِس علاقے کے ایک مسلم زمین دار نے مدرسے کے لیے ایک بڑی زمین وقف کردی۔ اِسی زمین پر مدرسۃ الاصلاح کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بانی مولانامحمد شفیع (وفات1945) تھے، جو ایک قریبی گاؤں سیدھا سلطان پور کے رہنے والے تھے۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل کے تذکرے کے تحت بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں اُن کی عربی اور فارسی تعلیم کے لیے مولانا محمد شفیع صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میری براہِ راست ملاقات مولانا محمد شفیع صاحب سے نہیں ہوئی، البتہ میں اُن کے صاحب زادگان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اُن سے میرے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی، مولانا عبد الرحمن پرواز اصلاحی، وغیرہ۔ مدرسۃ الاصلاح کے تعارف نامے میں بتایا گیا ہے کہ— مولانا شبلی نعمانی نے اس کے ابتدائی اَغراض ومقاصد اور طریقۂ کار کا اجمالی خاکہ تیار کیا۔ مولانا حمید الدین فراہی نے اس کے ابتدائی دور سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بحیثیت ناظم مدرسۃ الاصلاح کی خدمت کی۔ مولانا فراہی نے اس کے اغراض ومقاصد کی تکمیل کی اور اس کے لیے نصاب تعلیم مقرر کیا۔
مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہونے کے بعد ایک شخص جو پہلی چیز محسوس کرتا ہے، وہ یہاں کی سادگی ہے۔ ہم لوگ مدرسے کے مختلف حصوںمیں گئے۔ ہر جگہ ہم نے نمایاں طورپر جو چیز دیکھی، وہ اس کی سادگی تھی۔ یہاں کے لوگ بھی سادہ اور متواضع نظر آئے۔ مدرسۃ الاصلاح کا یہ ماحول غالباً اُس کے بانیوں کے تصور کی بناپر ہے۔ یہ روایت وہاں اب تک باقی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی کو یہاں کی سادگی سب سے زیادہ پسند تھی، اور انہوں نے اس کو قائم رکھنے کی سخت تاکید کی تھی۔ مولانا حمید الدین فراہی اُس زمانے میں دار العلوم حیدر آباد میں پرنسپل تھے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اُن کو مدرسۃ الاصلاح کے متعلق اپنے ایک خط مورخہ 19 اپریل 1910 میں لکھا کہ—’’کیا تم چندروز سرائے میر کے مدرسے میں قیام کرسکتے ہو۔ میں بھی شایدآؤں۔اُس کا نظم ونسق درست کردیا جائے۔ اُس کو گروکُل کے طورپر خالص مذہبی مدرسہ بنانا چاہیے، یعنی سادہ زندگی، قناعت اور مذہبی خدمت اس کا مطمحِ زندگی ہو‘‘ (مکاتیبِ شبلی، جلد2، صفحہ 33)۔
مجھ کو 1938 میں مدرسۃ الاصلاح میں داخل کیاگیا۔ اُس وقت یہ مدرسہ چند چھوٹی عمارتوں پر مشتمل تھا۔ اب وہاں کئی بڑی بڑی عمارتیں بن گئی ہیں۔ مثلاً اُس وقت یہاں کا کتب خانہ (دار المعلومات) صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ اب یہاں کتب خانے کے لیے ایک مستقل عمارت بن گئی ہے جس میں کتب خانہ قائم ہے۔
اِس دار المعلومات سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہاں میں تقریباً روزانہ آتا تھا اور کتابوں اور جرائد کا مطالعہ کرتا تھا۔ اُس وقت یہاں مصر کا ایک عربی جریدہ آتا تھا۔ اُس کا نام ’’المقتطَف‘‘ تھا۔ اُس میں ایک بار ایک دل چسپ چیز چھپی تھی۔ اُس میں ایک عمل بتایاگیا تھا جس کے مطابق، آدمی اپنے مستقبل کے بارے میں جان سکتا تھا۔ وہ عمل یہ تھا کہ مخصوص تعداد میں ’’ابراکادابیسن کاتن‘‘ کہو۔ ا س کے بعد ایک خاص عمل کرکے اپنا نتیجہ نکالو۔ اُس وقت امتحان کا زمانہ تھا اور جلد ہی مجھے سالانہ امتحان دینا تھا۔ میں نے مذکورہ عمل کو دہرایا۔ اُس کے بعد اِن الفاظ میں نتیجہ نکلا:سَتَنْجَحُ نَجَاحًا كَبِيرًا(تم جلد ہی ایک بڑی کامیابی حاصل کروگے)۔ اِس کے بعد امتحان ہوا تو میں اپنے درجے میں فرسٹ آیا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا، ورنہ کسی بھی عمل کے ذریعے مستقبل کو جاننا ممکن نہیں۔
31 دسمبر 2008 کو مغرب کی نماز کے بعد مدرسے کی وسیع مسجد میں طلبا اور اساتذہ کا ایک اجتماع ہوا۔ اِس موقع پر مجھے خطاب کے لیے یہ عنوان دیاگیا تھا— عصرِ جدید اور نوجوانوں کی ذمے داریاں۔ اِس موضوع پر میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ دورِ جدید کو معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دورِ جدید کے ذہن کو معلوم کیا جائے۔ اِس معاملے میں علامہ الشاطبی نے اپنی کتاب میں درست طورپر لکھا ہے کہ استدلال نام ہے فریقِ ثانی کے مسلمّۂ عقلی پر اس کو ایڈریس کرنے کا(الموافقات للشاطبی، جلد5، صفحہ415)۔ اِس لیے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آج کے انسان کو موثر طورپر اسلام کا پیغام پہنچائیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ آج کے انسان کا طرزِ فکر کیا ہے اور کون سا طرزِ استدلال اس کے لیے قابلِ قبول استدلال بن سکتا ہے۔
مدرسۃ الاصلاح کے زمانہ قیام کی بہت سی یادیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اِس سفر نامے کے ذیل میں اُن میں سے کچھ کا تذکرہ کردیا جائے۔گاؤں کے مدرسے میں میرے استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میں نے اِسی مدرسے میں عربی اور فارسی کی تعلیم شروع کردی تھی۔ اسی زمانے میں میں نے عربی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً کتاب النحو، کتاب الصرف (مولانا عبد الرحمن، امرت سری)۔ اِسی طرح میں نے یہاں فارسی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً گلستاں اور بوستاں (شیخ سعدی شیرازی)۔ اُس زمانے میں یہ سب کتابیں مجھ کو ایک معمّہ کی طرح نظر آتی تھیں۔ اُس زمانے میں میرے اندر نہ عربی کا کوئی ذوق پیدا ہوا تھا اور نہ فارسی کا کوئی ذوق۔
1938 میں مجھے مدرسۃ الاصلاح میں داخل کرایا گیا۔ یہاں میں نے دوبارہ عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے کہ میں اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آگیا ہوں۔ اب ہر مضمون میری سمجھ میں آنے لگا، یہاں تک کہ میں امتحانات میں اچھے نمبر سے پاس ہونے لگا۔
اِس ذاتی تجربے سے میں نے یہ جانا کہ تعلیم کے لیے ایک پورا ماحول درکار ہوتا ہے۔ عربی علوم کی تعلیم کے لیے مدرسے کا ماحول ضروری ہے۔ اِسی طرح انگریزی علوم کی تعلیم کے لیے کالج اور یونی ورسٹی کا ماحول ضروری ہے۔ انفرادی طورپر پڑھنے سے نہ کسی کو عربی علوم میں درک حاصل ہوسکتا ہے اور نہ انگریزی علوم میں۔ اِس عموم میں استثنا ہوسکتا ہے، لیکن ایسا استثنا صرف ایک نادر استثنا (rare exception) ہے۔
میرے زمانہ تعلیم میں مولانا امین احسن اصلاحی (وفات1998) مدرسۃ الاصلاح کے صدر مدرس تھے۔ میرے تجربے کے مطابق، مولانا موصوف ایک بہترین مدرس تھے۔ وہ اگر مدرسے میں مستقل قیام کرتے تو وہ زیادہ بڑا کام کرسکتے تھے۔ تقسیم ملک (1947) کے وقت وہ پاکستان چلے گئے اور وہیں اُن کا انتقال ہوگیا۔ میرے نزدیک، مولانا موصوف کا مدرسۃ الاصلاح چھوڑ کر پاکستان جانا کوئی درست فیصلہ نہ تھا۔ اگروہ آخر وقت تک مدرسے میں قیام کرتے تو وہ تعمیر ِ افراد کی صورت میں ملت کو زیادہ بڑا فائدہ پہنچا سکتے تھے۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے اندر ایک خاص صفت تھی جو میں نے اپنے تجربے میں کسی اور استاد کے اندر نہیں پائی، وہ ہے تدریس کے دوران ذہنی تربیت کی غذا دیتے رہنا۔ اِس نوعیت کا ایک نمایاں واقعہ وہ ہے، جو اونٹ کے سم کے حوالے سے زیرِ نظر کتاب کے ایک باب ’’اسلامی تعلیم‘‘ میں نقل کیا گیا ہے۔مدرسے کا یہ واقعہ میرے لیے اتنا موثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تاکہ میں ا س کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء ً مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (Spirit of Inquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سائنسی دریافتوں کا آغاز شبہات (doubts) سے ہوا۔ سائنس داں ایک واقعے کو دیکھتا ہے، پھر اس کے اندر ایک شبہ پیداہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ وہ اس کی تحقیق میں لگ جاتا ہے۔ آخر کار وہ ایک ایسی حقیقت کو دریافت (discover) کرتا ہے جو اِس سے پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ برٹرینڈ رسل کی کتاب وِل ٹو ڈاؤٹ (Will to Doubt) خاص اِسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔
اِس معاملے کی ایک مثال بھاپ کی طاقت (steam power) کی دریافت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برٹش سائنس داں جارج اسٹفنسن (George Stephenson, 1781-1848) ایک دن اپنے گھر پر تھا۔ اُس نے دیکھا کہ اس کے گھر والے ایک برتن میں پانی گرم کررہے ہیں۔ جب اُس کا درجہ حرات ایک خاص نقطے پر پہنچا تو اندر سے اُبال آیا اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن اٹھ گیا۔ اُس کو دیکھ کر جارج اسٹفنسن اس کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے جاننا چاہا کہ برتن میں ابال کیوں آیا اور ڈھکن اوپر کیوں اٹھ گیا۔
اِس پر غور کرتے ہوئے وہ اِس دریافت تک پہنچا کہ پانی کادرجۂ حرارت جب 100 ڈگری سے زیادہ ہوجاتا ہے تو پانی کے سالمات (molecules) ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس کے ایٹم (atoms) منتشر ہونے لگتے ہیں۔ اِس ایٹمی انتشار (atomic disintegration) سے جو طاقت پیدا ہوتی ہے، اس کا نام اسٹیم پاور (steam power) ہے۔جارج اسٹفنسن نے اِس اسٹیم پاور کو دریافت کرکے اس کو انجن میں استعمال کیا اور اس طرح اس نے پہلی بار 1814 میں ایک دخانی انجن (locomotive) کو چلایا۔
دینی مدارس میں عام طورپر تقدس (holiness) کا مزاج چھایا ہوا ہوتا ہے۔ جہاں تقدس آیا، وہاں پُراسراریت آگئی۔ اِس ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چیزوں کو مقدس سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اُن پر مزید غور فکر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اِس طرح تقدس کا مزاج فکری ارتقا کے لیے قاتل بن جاتا ہے۔ فکری ارتقا کا آغاز شبہ(doubt) سے ہوتا ہے۔ شبہ سے آغاز کرکے آدمی حقیقت کی شعوری دریافت تک پہنچتا ہے۔جہاں شبہ کو عیب سمجھ لیا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا آغاز بھی نہیں ہوگا۔ (اس حقیقت کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کرنے کے لیے دیکھیےمولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتاب، اسلام دورِ جدید کا خالق)۔
مدرسۃ الاصلاح ریلوے لائن کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں یہ ریلوے لائن برٹش دور میں 1901 میں بچھائی گئی تھی۔ میرے ایک استاد مولانا نور الہدی اصلاحی (وفات 1972) تھے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ہماری کلاس چل رہی ہے۔ اِس دوران ریلوے اسٹیشن سے انجن کی سیٹی کی آواز آئی اور پھر مخصوص آواز کے ساتھ ٹرین چلنے لگی۔ اُس وقت مولانا نورالہدی اصلاحی اپنا یہ شعر پڑھتے تھے:
پُو سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی رِل گڑی، رِل گڑی، رِل گڑی
اُس زمانے کا جو ماحول تھا، اُس کی یہ ایک مثال ہے۔ اپنی نوجوانی کی عمر میں، میں ریلوے کے بارے میں اِس سے زیادہ اور کچھ نہ جان سکا۔ بعد کو میں نے جواہر لال نہرو (وفات 1969) کی کتاب خود نوشت (Autobiography) پڑھی۔ اُس میں مصنف نے لکھا تھا کہ انگریزوں نے انڈیا میں جو ریلوے لائن بچھائی ہے، وہ ریلوے نہیں ہے، بلکہ یہ لوہے کی زنجیریں ہیں۔ ان کو انگریزوں نے انڈیا کو اپنی غلامی میں جکڑنے کے لیے بچھایا ہے۔
آزادی سے پہلے کے دور میں، میں ریلوے کے بارے میں اتنا ہی جان سکا تھا۔ اُس زمانے میں ہر طرف اِسی قسم کی منفی باتیں چھائی ہوئی تھیں جو دوسروں کی طرح میرے ذہن کی بھی کنڈیشننگ کررہی تھیں۔ بعد کو جب میں نے براہِ راست طورپر چیزوں کا مطالعہ کیا تو میں نے ذاتی دریافت کے ذریعے یہ جانا کہ برٹش جو نو آبادیاتی نظام کے تحت انڈیا میں آئے، وہ ایک تاریخی عمل کا جز تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انڈیا میں اُن کا آنا جدید سائنس اور انگریزی زبان کا انڈیا میں آنا تھا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب (The Discovery of India) میں لکھا ہے کہ عرب جو ہندستان میں آئے، وہ یہاں ایک شان دار کلچر (brilliant culture) لے کر آئے۔ اِسی طرح برٹش جو انڈیا میں آئے، وہ انڈیا میں ایک شان دار سائنس لے کر آئے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اُن کا انڈیا میں آنا تاریخ کا ایک مثبت واقعہ تھا، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی منفی واقعہ۔
انڈیا میں جو بڑے بڑے عربی مدارس ہیں، اُن سب میں مشترک طورپر ایک نقص پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ یہ تمام مدارس، تعلیم برائے مسلک کے اصول پر قائم کیے گئے ہیں۔ جب کہ صحیح یہ ہے کہ مدارس کو تعلیم برائے تعلیم کے اصول پر قائم کیاجائے۔ ہر مدرسے کا اپنا ایک مسلک ہے اور یہی مسلک اس کی تمام تعلیمی سرگرمیوں میں چھایا رہتا ہے۔ مدرسۃ الاصلاح کا اِس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔ مدرسۃ الاصلاح کا مسلک مولانا حمید الدین فراہی کے تصورِ نظمِ قرآن پر قائم ہے۔ نظم قرآن کی الگ سے جو بھی حیثیت ہو، لیکن اس کو مدرسے کا مسلک قرار دینا ہرگز درست نہیں۔
اہلِ علم عام طورپر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طورپر تعصب اور کٹر پن کا مزاج ہوتا ہے، جب کہ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طورپر تعصب اور کٹرپن کا مزاج نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب یہی ہے کہ مدارس میں ’’تعلیم برائے مسلک‘‘ کا اصول رائج ہے، جب کہ سیکولر ادارے’ تعلیم برائے تعلیم‘‘ کے اصول پر چلائے جاتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔’’تعلیم برائے مسلک‘‘ کا ایک بہت بڑا نقصان ہے، وہ یہ کہ اِن اداروں میں آزادانہ تفکیر کا ماحول نہیں ہوتا۔ اور آزادانہ تفکیر کا خاتمہ ہمیشہ ایک بھاری قیمت پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایسے ماحول میں تخلیقی فکر (creative thinking) ختم ہوجاتی ہے۔ تخلیقی فکر کا نشو ونما نہ پانا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کسی بھی دوسری چیز سے ممکن نہیں۔
مدرسۃ الاصلاح سے رات ہی کو ہم لوگ بڈھریا واپس آئے، جو تقریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہم نے بڈھریا میں رات گزاری۔ یکم جنوری 2009 کی صبح کو ہم لوگ قافلے کی صورت میں چھاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ چھاؤں میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور یہاں کئی گھنٹے قیام کیا۔
اس کے بعد ڈاکٹر احمد صفی انصاری کے ساتھ ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ واپسی میں ہماری گاڑی بارہ گھنٹے لیٹ تھی۔ یہ تاخیر کہر (fog) کی وجہ سے ہوئی تھی۔ دوبارہ ہم لوگ اسٹیشن پہنچے توگاڑی آچکی تھی۔ ہم لوگ گاڑی پر سوار ہوگئے۔ اعظم گڑھ اسٹیشن سے ہم دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو رات کے تقریباً بارہ بج چکے تھے۔ یہ رات کا وقت تھا، اِس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔اگلے دن 2جنوری 2009کو رات ایک بجے ہم لوگ دہلی پہنچے۔ (الرسالہ، مئی 2009)
