کامِل آزادی
قدیم عرب میں ایک رواج تھا جس کو ظِہار کہتے تھے۔ ایک شخص اپنی بیوی سے غصہ ہوکر کہہ دیتاکہ أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي ( تو میرے لیے میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے)۔ جو شخص ایسا کہہ دیتا اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی۔
مدینہ میں یہ واقعہ ہواکہ ایک مسلمان حضرت اوس بن صامت نے کسی بات پر اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کو ایسا ہی کہ د یا۔ اب بظاہر خولہ اپنے شوہر کے لیے حرام ہوگئیں۔ ان کے کئی بچے تھے، ان کو سخت پر یشانی ہوئی اور وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیںاور پوراقصہ بتا یا۔ اس وقت تک اس بارے میں قرآن میں کوئی حکم نہیں اتراتھا۔ آپ نے فرمایا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تواب ان کے لیے حرام ہوگئی۔
یہ سن کر حضرت خولہ فریاد اور شکوہ کرنے لگیں کہ گھر ویران ہو جائے گا۔ میر ی اولاد تباہ ہو جا ئے گی۔ انھوں نے کہا کہ اے خداکے رسول، میرے شوہرنے یہ الفاظ تو نہیں کہے کہ میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موافق جو اب نہیں ملا تو وہ اﷲ کے آگے رونے گڑگڑانے لگیں کہ خدا یا مجھے اس مصیبت سے بچا۔ میں تجھی سے اس معاملہ کی فریاد کرتی ہوں۔
اس کے بعد سورہ مجادلہ اتری جس میں ظِہار کے بارے میں اسلام کا حکم بتایا گیا ہے۔ یہ سورہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ اﷲ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑتی تھی اور اﷲ سے فریاد کررہی تھی۔ اور اﷲتم دونوں کی باتین سن رہا ہے، بے شک وہ سننے اور دیکھنے والا ہے(58:1)۔تفسير عبد الرزاق 3165
انھیںحضرت خولہ کا واقعہ ہے۔ بعد کے زمانہ میں جب کہ حضرت عمر فاروق اسلامی سلطنت کے خلیفہ تھے۔ ایک روز آپ کہیں جارہے تھے کہ راستہ میں حضرت خولہ ملیں جو اس وقت کافی بوڑھی ہوچکی تھیں۔ حضرت عمر نے ان کو سلام کیا۔ انھوں نے سلام کا جو اب دیا اور پھر کہا’’:اے عمر، ایک وقت تھاکہ میں نے تم کو عکا ظ کے بازار میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عُمیر کہے جاتے تھے، تم ہاتھ میں لکڑی لیے ہوئے بکریاں چراتے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ تم عمر کہے جانے لگے۔ اور تم امیر المومنین کہے جاتے ہو۔ دیکھو ،رعایا کے معاملہ میں اﷲ سے ڈرتے رہنا۔ اور یا د رکھوکہ جو شخص اﷲ کی پکڑ سے ڈرتا ہے اس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے۔ اور جو آدمی موت سے نہیں ڈرتا اس کے بارے میں ڈرہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جس کو وہ پانا چاہتا ہے‘‘۔
اس وقت ایک صاحب حضرت عمر کے ساتھ تھے جن کانام جارو دعبدِی تھا، انھوں نے کہا کہ اے عورت:تونے امیرالمومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔ حضرت عمر نے کہا انھیں بولنے دو تم جانتے ہوکہ یہ کون ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کی بات سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی،عمر کو تو بدرجہ اَولی ان کی بات سننا چاہیے۔(تاريخ المدينة لابن شبة، جلد2،صفحہ 394)
