غزوۂ مُریسیع یا بنی المصطلق
شعبان5ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ حارث بن ابی ضرار سردار بنی المصطلق نے ایک بڑی فوج جمع کی ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمی کو تحقیق حال کے لیے روانہ کیا۔ بریدہ نے آ کر بیان کیا کہ خبر صحیح ہے۔ آپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا۔
صحابہ فوراً تیار ہوگئے۔ تیس گھوڑے ساتھ لیے جس میں سے دس مہاجرین کے اور بیس انصار کے تھے۔ مدینہ میں زید بن حارثہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نیز ام سلمہ کو ساتھ لیا۔ اور جا کر ان سے مقابلہ آرا ہوئے۔ مسلمانوں کو اس میں فتح حاصل ہوئی۔
اس موقع پر یہ واقعہ پیش آیا کہ دوران سفر پانی کے ایک چشمے پر مہاجر وانصار کے درمیان جھگڑا چھڑ گیا۔ چنانچہ مہاجر نے یاللمہاجرین اور انصار نے یاللانصار کہہ کر اپنے اپنے لوگوں کو پکارا۔ رسول اللہ نے جب یہ آوازیں سنیں تو فرمایا، یہ جاہلیت کی نسبی آوازیں کیسی۔ لوگوں نے صورتحال سے آپ کو باخبر کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 18041)۔ یعنی، ان باتوں سے باز آ جاؤ کیوں کہ یہ گندی اور بدبودار ہیں۔
