تقلید اور اجتہاد
انسانی ذہن کی دو قسمیں ہیں:تقلیدی اور اجتہادی۔ تقلیدی ذہن اور اجتہادی ذہن کے فرق کو سادہ طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ تقلیدی ذہن سے مراد بند ذہن ہے اور اجتہادی ذہن سے مراد کھلا ذہن۔ تقلیدی انسان کا ذہنی سفر ایک حد پر پہنچ کر رک جاتا ہے۔ اس کے بر عکس اجتہادی انسان کا ذہنی سفر برابر آگے کی طرف جاری رہتا ہے ، وہ موت سے پہلے کبھی ختم نہیں ہو تا۔ اس فرق کو ایک مثال سے سمجھیے۔
شیکسپئر انگریزی زبان کا بہت بڑا ادیب ہے۔ اس کی وفات 1916ء میں ہوئی۔ دوسرا، بعد کے زمانے کا انگریزی ادیب جارج بر ناڈ شا ہے ، جس کی پیدائش1856ء میں ہوئی۔ زمانۂ عمل کے اعتبار سے دونوں کے درمیان تقریباً تین سو سال کا فاصلہ ہے۔ برناڈ شا کا مقام انگریزی ادب کی تاریخ میں شیکسپئر سے کم ہے۔ برناڈ شا نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ — میر اقد اگرچہ شیکسپئر سے چھوٹا ہے مگر میں شیکسپئر کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔
I am smaller in stature than Shakespeare, but I stand upon his shoulder.
یہ مجتہدانہ طرزِ فکر کی ایک مثال ہے۔ اس طرز ِفکر سے بلند نظری اور حوصلہ مندی پیدا ہوتی ہے۔ جس معاشرہ کے لوگوں میں یہ مزاج ہو وہاں ذہنی ارتقاء کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گا۔ ہر نسل کے افراد پچھلے لوگوں کے علمی سرمایہ پر اضافہ کر یں گے اور اس کو مزید ترقی دے کر اگلی نسل تک پہنچاتے رہیں گے۔
