حقیقی عالم

عبد اللہ بن المبارک (وفات181ھ)کا ایک قول ہے:

لَا يَزَالُ الْمَرْءُ عَالِمًا مَا طَلَبَ الْعِلْمَ، فَإِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ؛ فَقَدْ جَهِلَ (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر308)۔یعنی، آدمی اس وقت تک عالم رہتا ہے جب تک وہ علم سیکھتا رہے۔ جب وہ گمان کرے کہ وہ عالم ہوگیا تو پھر وہ جاہل ہوگیا۔

عباس محمود العقاد کہا کرتے تھے کہ علم پڑھنے کا نام ہے۔  وہ بہت افسوس کرتے تھے کہ اکثر لکھنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ وہ لکھتے ہیں)العَقَّادُ كَانَ يَقُولُ: العِلْمُ هُوَ القِرَاءَةُ. وَكَانَ يَأْسَفُ أَبْلَغَ الأَسَفِ، لِأَنَّ كَثِيرًا مِنَ الكُتَّابِ يَكْتُبُونَ أَكْثَرَ مِمَّا يَقْرَؤُونَ(رابطۃ العالم الاسلامی، رجب 1405ھ۔

)اوراقِ حکمت ، ڈائری،17اپریل 1985(

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion