عمومی صحبت

رسول اللہ ﷺ کی عمومی صحبت جو اکثر مسجد میں یا کسی اور مجلس میں آپ کے اصحاب کو حاصل ہوتی تھی، اس کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔اس سےاندازہ ہوگاکہ آپ کی مجلسوں میں اصحاب رسول کوکس طرح ذہنی تعمیرکی خوراک ملتی رہتی تھی۔

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟ قُلْتُ:أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ أَوْ أَلْحَقَكَ. قَالَ:أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ تَصْبِرُ حَتَّى ‌تَلْقَانِي (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4759)۔ یعنی، ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس وقت تمہارا حال کیا ہوگا جب میرے بعد والے حکمراں آئیں گے۔ وہ فیٔ (اموال حکومت) کو اپنے لیے خاص کرلیں گے۔ میں نے کہا کہ اس خدا کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تلوار کو اپنے کندھے پر رکھوں گا اور پھر اس سے انہیں ماروں گا یہاں تک کہ میں آپ سےمل جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ کیامیں تم کو اس سے زیادہ بہتر بات نہ بتاؤں۔ تم صبرکرو،یہاں تک کہ تم مجھ سےمل جاؤ۔

پیغمبراسلامﷺنےاس ارشادکےذریعے اپنےاصحاب کوایک نئی فکری روشنی دی۔ عام طورپرایساہوتاہےکہ لوگ جب اپنےحکمرانوں میں بگاڑدیکھتےہیں تووہ اصلاحِ سیاست کے نام پران سےمتشدّدانہ ٹکراؤشروع کردیتےہیں۔رسول اللہ نےبتایاکہ بگاڑ کے زمانے میں حکمرانوں سےٹکراکرشہیدہوجانےسےزیادہ بہتربات یہ ہےکہ ان کے بگاڑ پر صبرکیا جائے، اوریہ سب اس وقت تک جاری رکھاجائےجب کہ انسان کی موت آجائے۔

اس حدیث میں ’’صبر‘‘ سے مرادبےعملی نہیں ہےبلکہ اس سےمرادایک عظیم ترین عمل ہے۔ اس کامطلب یہ ہےکہ حکمرانوں سےنزاع کاطریقہ چھوڑکراپنےعمل کےلیے غیر نزاعی طریقہ ڈھونڈنا اور اس پر کار بند ہو جانا۔سیاسی نزاع کا طریقہ ہمیشہ بے صبری کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس کےمقابلےمیں نزاع کواوائڈکرتےہوئےعمل کرنااس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنے جذبات پرکنٹرول کرکےصابرانہ اندازمیں اپنےعمل کی منصوبہ بندی کرے۔

یہ ایک عظیم حکمت تھی جوپیغمبراسلامﷺنےاپنےاصحاب کوتلقین فرمائی،صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین نے اس حکمت کو سمجھا اور اس پر بھرپور عمل کیا۔ اس کے نتیجے میں دور اوّل میں وہ عظیم اسلامی کام انجام پایاجومذکورہ صابرانہ سیاست کےبغیرنہیں ہوسکتا تھا۔

جیسا کہ معلوم ہے، خلفائے راشدین کےبعدفوراًسیاست میں بگاڑ آگیا۔ مسلم حکمراں شریعت کے مقرر راستے سے ہٹ گئے۔ اس زمانے میں اگر اہل ایمان اپنے حکمرانوں سےمتشدّدانہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیارکرتےتواس کانتیجہ یہ ہوتاکہ پہلی اور دوسری نسل کے تما م بہترین لوگ قتل کردیےجاتے۔ابتدائی نسل کےوہ تمام تاریخ سازلوگ قبروں میں دفن ہوجاتے۔ اسلام کی عظیم تاریخ بننےکی نوبت ہی نہ آتی جو ان لوگوں کےذریعہ بنی۔

مثلاًابتدائی نسل کےیہی وہ لوگ ہیں جوسیاسی ٹکراؤکےمحاذکوچھوڑکرپُرامن دعوت کے میدان میں سرگرم ہوگئےاورکروڑوں لوگوں کواسلام کےدائرہ میں داخل کر دیا۔انہوں نے دور پریس سے پہلے قرآن کی حفاظت اور اشاعت کا وہ عظیم کام انجام دیا جس کی مثال دوسری آسمانی کتابوں میں نہیں ملتی۔انہوں نےلاکھوں حدیثوں کوجمع کرکےان کی چھان بین کی اورصحیح احادیث کےمجموعےتیارکرکےدنیاکوعلم حدیث کاقیمتی تحفہ دیا۔انہوں نےفقہ کی تدوین کا وہ عظیم کام انجام دیاجس کی مثال کسی اوردین میں موجودنہیں۔

اسی طرح یہی ابتدائی نسل کے لوگ ہیں جنہوں نے حکومتی بگاڑ سے صرفِ نظر کرکے تمام اسلامی علوم کو مدون کیا۔ مثلاً سیرت، تاریخ، عقائدوکلام، عربی زبان کے لغات تیار کرنا، نحواورصرف اوربلاغت اور دوسرےمتعلق علوم کی ترتیب و تدوین۔

دور اوّل کے اہل ایمان کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام ہر اعتبار سے ایک محفوظ اور معتبر تاریخی دین بن گیا۔جب کہ کسی بھی دوسرےمذہب کویہ حیثیت حاصل نہیں۔ اور یہ تمام کارنامےصرف اس لیےانجام پائےکہ دورِ اوّل کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کی دی ہوئی رہنمائی کی بناپر یہ حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ انہوں نے سیاسی بگاڑ کے مقابلے میں متشدّدانہ ٹکراؤکاطریقہ چھوڑ دیا، اور خدمت اسلام کے ان بقیہ شعبوں میں پُرامن طور پر سرگرم عمل ہوگئے، جو غیر نزاعی میدان میں انھیں حاصل تھا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion