قبولِ اسلام
مکہ میں دو آدمی ایسے تھے جو اپنے قائدانہ اوصاف کے اعتبار سے ممتاز تھے۔ ایک عمرو بن ہشام (ابوجہل) اور دوسرے عمر بن الخطاب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ، عمرو بن ہشام یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ اسلام کی تائید فرما:اللهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر11657)۔اس کے کچھ دنوں بعد عمر بن الخطاب نے اسلام قبول کر لیا۔
عمر بن الخطاب پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت کے بہت مخالف تھے۔ ایک روز انہیں سخت غصہ آیا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ پیغمبر اسلام کو قتل کر ڈالیں۔ وہ تلوار لے کر اپنے گھر سے نکلے۔ راستہ میں نُعیم بن عبداللہ ملے۔ انہوں نے پوچھاکہ عمر ، اس دوپہر میں کہاں جا رہے ہو۔ عمر نے کہا کہ محمد کو قتل کرنے کا ارادہ ہے۔ اس صابی نے قریش کے معاملہ میں تفریق ڈال دی ہے۔ اس نے ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا ہے اورہمارے دین پر عیب لگایا ہے اور ہمارے معبودوں پر سبّ دشتم کیا ہے۔
نعیم نے کہا کہ اے عمر، خدا کی قسم ، تمہارے نفس نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم محمدکو قتل کر ڈالو گے اور بنو عبدمناف تم کو چھوڑ دیں گے کہ تم زمین پر چلتے پھرتے رہو۔ پھر انہوں نے کہاکہ محمد سے پہلے تم اپنے گھرکی خبر لو۔ عمرنے پوچھا کہ کون سا گھر۔ نعیم نے کہاکہ تمہاری بہن فاطمہ اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید نے محمد کا دین قبول کر لیا ہے۔ پہلے تمہیں ان کی اصلاح کرنا چاہیے۔
یہ سن کر عمر کا غصہ اور بڑھ گیا۔ اسی حال میں وہ اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ اس وقت بہن اور بہنوئی دونوں گھر میں تھے اور ایک مسلمان خباب ان کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ عمر کی آہٹ پا کر خباب چھپ گئے۔ عمر نے اندر داخل ہوتے ہی اپنی بہن اور بہنوئی سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم دونوں صابی ہو گئے ہو۔ بہنوئی نے کہا کہ اے عمر ، اگر باپ دادا کا دین برحق نہ ہو اور دوسرا دین برحق ہو تو ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ جواب سن کر عمر کا غصہ تیز ہو گیا ، انہوں نے بہنوئی کو مارنا شروع کر دیا۔ بہن چھڑانے کے لیے آئیں تو بہنوئی کو چھوڑ کر بہن کو مارنے لگے یہاں تک کہ ان کے چہرہ سے خون بہنے لگا۔ بہن نے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے ، تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرو، اب تو ہم اسلام قبول کر چکے ہیں۔
بہن کو خون آلود دیکھ کرعمر کا غصہ ٹھنڈاہو گیا اور ان کا ضمیر جاگ اٹھا ۔ انہوں نے بہن سے کہا کہ جو کتاب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھ کو دکھاؤ۔ اب خباب بھی باہر نکل آئے۔ وہ لوگ اس وقت قرآن میں سے سورہ طٰہٰ پڑھ رہے تھے۔ یہ مجھ کو دکھاؤ۔ اب خباب بھی باہرنکل آئے۔ وہ لوگ اس وقت قرآن میں سے سورہ طٰہٰ پڑھ رہے تھے۔ یہ سورہ لکھی ہوئی عمر کو دی گئی۔ انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ ہر ہر آیت ان کے دل میں اترتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ شدید تاثرکے تحت ان کی زبان سے نکلا:مَا أَحْسَنَ هَذَا الْكَلَامَ وَأَكْرَمَهُ(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 345)۔یعنی، کتنا اچھا اورکتنا اعلیٰ کلام ہے یہ۔
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ پہاڑی کے اوپر دارِ ارقم میں تھے۔ عمر کی فرمائش پر خباب ان کو لے کر دارارقم کی طرف چلے۔ پہنچ کر دروازہ پر دستک دی۔ اندر سے ایک مسلمان نے جھانک کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ عمر تلوار اپنے کندھے پر لٹکائے ہوئے کھڑے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ سے کہاکہ یہ تو عمر ہیں جو تلوار لے کر آئے ہیں۔ حضرت حمزہ نے کہاکہ ان کو اندر آنے دو۔ اگر وہ اچھے ارادہ سے آئے ہیں تو خوشی کی بات ہے اور اگر وہ برے ارادہ سے آئے ہیں تو ہم انہیں کی تلوار سے ان کو قتل کر دیں گے۔
عمر مکان کے اندر داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ان کی طرف آئے۔ آپ نے ان کی چادر پکڑ کر کھینچی اور کہا ’’اے ابن خطاب ، کیا چیز ہے جو تم کو یہاں لے آئی ، خدا کی قسم ، ایسا نظر آتا ہے کہ تم باز نہیں آؤ گے یہاں تک کہ خدا تمہارے اوپر کوئی قہر نازل کرے‘‘۔ عمر نے کہاکہ اے محمد، میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاؤں اوراس چیز کا اقرار کروں جو آپ اللہ کے یہاں سے لائے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔ اس سے گھر والوں نے جانا کہ عمر نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمر خانہ کعبہ میں گئے۔ وہاں قریش کے لوگ موجود تھے۔ انہوں نے سب کے سامنے اپنے قبول اسلام کا اظہار کیا۔ اس پر کچھ لوگ اٹھ کر انہیں مارنے لگے۔ مگر حضرت عمر بہت طاقتور آدمی تھے ۔ انہوں نے سب کو ڈھکیل دیا اور بلند آواز سے اسلام کی صداقت کا اعلان کیا۔
حمزہ بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ وہ نبوت کے چھٹے سال ایمان لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز صفا پہاڑی کی طرف سے گزر رہے تھے۔ وہاں آپ کی ملاقات ابوجہل (عمر بن ہشام) سے ہوئی۔ اس نے آپ سے بہت برے انداز میں کلام کیا۔ آپ کچھ جواب دیے بغیر وہاں سے گزر گئے۔ عبداللہ بن جدعان کی ایک خادمہ یہ پورا واقعہ دیکھ رہی تھی۔ وہ آپ کے چچا حمزہ کے پاس گئی۔ اس نے ان سے کہاکہ اے ابو عمارہ ، کاش تم اس وقت موجود ہوتے جب عمر بن ہشام تمہارے بھتیجے کو گالی دے رہا تھا اور ان کو تکلیف پہنچا رہاتھا۔
حمزہ ابھی شکار کھیل کر واپس آئے تھے اور لوہے کی کمان ان کے ہاتھ میں تھی۔ وہ کمان لیے ہوئے ابو جہل کی تلاش میں نکلے۔ اس کو کعبہ کے پاس پا لیا۔ ابوجہل وہاں ایک جماعت کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ حمزہ نے قریب جا کر ابوجہل کو اپنی کمان سے مارا۔ اس کا سر زخمی ہو گیا اور خون نکل آیا۔ انہوں نے کہا کہ تم محمد کے دشمن بنے ہوئے ہو اور ان کو گالیاں دیتے ہو تو سن لو کہ میرا دین بھی محمد کا دین ہے:دِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر2926)۔
ابوجہل کے ساتھی اٹھے کہ حمزہ کو پکڑیں اور انہیں ماریں۔ مگر ابوجہل نے اپنے آدمیوں کو منع کر دیا۔ اس نے کہاکہ ابو عمارہ کو چھوڑ دو، کیوں کہ خدا کی قسم میں نے ان کے بھتیجے کو آج بہت زیادہ برا کہہ دیا تھا:دَعُوا أَبَا عُمَارَةَ، فَإِنِّي وَاَللهِ قَدْ سَبَبْتُ ابْنَ أَخِيهِ سَبًّا قَبِيحًا (سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 292)۔
روایات میں آتا ہے کہ حمزہ جب اپنے گھر واپس آئے تو مکہ کے کچھ لوگ ان سے ملے اور ان کو شرم دلائی کہ تم صابی ہو گئے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دیا۔ اس سے حمزہ کے اندر شبہ پیدا ہو گیا۔ وہ بے چین ہو گئے۔ انہیں رات بھر نیند نہیں آئی۔ صبح کو حرم کعبہ میں گئے اور وہاں انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ، اگر محمد کا راستہ سچا راستہ ہے تو اس کی تصدیق میرے دل میں ڈال دے۔ ورنہ میں جس حالت میں پڑ گیا ہوں اس سے میرے لیے نکلنے کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔ میرا سینہ حق کے لیے کھول دے اور شک اور تردد کو مجھ سے دور کر دے۔
اسی کے ساتھ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ سے اپنے دل کا حال بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سمجھایا۔ آپ کو جہنم سے ڈرایا اور جنت کی بشارت دی۔ اس کے بعد اللہ نے ان کے دل میں یقین ڈال دیا۔ اسلام کی صداقت پر ان کو پورا اطمینان ہو گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صادق ہیں۔ اے میرے بھتیجے ، اپنے دین کا اعلان کرو۔ خدا کی قسم ، وہ سب کچھ جس پر آسمان سایہ کیے ہوئے ہے ، اگر مجھے دیا جائے تب بھی میں تمہارے دین کو نہیں چھوڑوں گا۔
مکہ میں اسی طرح ایک ایک کر کے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔ کوئی شخص پہلے ہی سے بتوں کی عبادت کو پسند نہیں کرتا تھا۔ ا س نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے توحید کی بات سنی تو وہ اس کو اپنے دل کی آواز محسوس ہوئی۔ وہ فوراً آپ کا مومن بن گیا۔ کسی نے شام و فلسطین کے سفروں میں عیسائی عالموں سے سنا تھاکہ جزیرۂ عرب میں ایک نبی پیدا ہونے والے ہیں۔ اس نے جب آپ کی شخصیت اور آپ کے کلام کو جانا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہی وہ نبی ہیں۔ چنانچہ اس نے آپ کے ہاتھ پر ایمان کی بیعت کر لی۔ کسی نے خواب دیکھا کہ آپ اس کو آگ کے گڑھے سے کھینچ کر نکال رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ آپ سے ملا۔ اس پر آپ کی صداقت کھلی اور اس نے ایمان قبول کر لیا۔
ابتدائی دور میں میں یہی صورت جاری رہی۔ مختلف اسباب کے تحت لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوتے۔ تحقیق کے بعد جب آدمی کا دل گواہی دیتاکہ واقعی آپ خدا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں تو وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھی بن جاتا۔ اس طرح مکہ اور اطراف مکہ کے لوگ انفرادی طور پر آپ کی نبوت کو مان کر آپ کے گروہ میں شامل ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کی ایک قابل لحاظ جماعت بن گئی۔
