تقابل کا مسئلہ
امریکہ کے ایک سفر میں میری ملاقات کچھ ایسے مسلمانوں سے ہوئی جو ہندستان سے جا کر امریکہ میں آباد ہو گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے۔ ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ امریکہ میں ہمارے لیے پیس (امن) ہے ، اور ہندستان میں ہمارے لیے پیس نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے۔ پیس کا تعلق کسی ملک سے نہیں۔ بلکہ پیس کی ایک قیمت ہے، آپ جہاں بھی وہ قیمت ادا کریں، وہاں آپ کو پیس مل جائے گا۔ یہ قیمت ایڈ جسٹمنٹ ہے۔
پھر میں نے کہا کہ امریکہ میں بھی مسلمانوں کے لیے وہ تمام مسائل موجود ہیں جو ہندستان میں ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہندستان میں وہ ان مسائل کو لے کر بے برداشت ہو جاتے ہیں۔ اور امریکہ میں ان مسائل کے اوپر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ان کے لیے امن ہے اور ہندستان میں ان کے لیے امن نہیں۔ میں نے کہا کہ ہندستان میں مسلمانوں کے لیے پرسنل لاء میں مداخلت کا مسئلہ ہے ، ملازمتوں میں امتیاز کا مسئلہ ہے، درسی کتابوں میں غیر اسلامی مضامین کا مسئلہ ہے ، مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسائل امریکہ میں بھی پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہندستان میں ان چیزوں کو لے کر احتجاجی سیاست چلاتے ہیں اور امریکہ میں ان چیزوں کو نظر انداز کر کے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی روش میں اسی فرق نے بے امنی کا مسئلہ پیدا کیا ہے، نہ کہ دو ملکوں کے فرق نے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اکثر لوگ غلط تقابل میں مبتلا رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر فکری غلطیاں غلط تقابل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ صحیح تقابل سے صحیح فکر بنتی ہے اور غلط تقابل سے غلط فکر۔ اس دنیا میں صحیح رائے صرف دو لوگ قائم کر سکتے ہیں جو اس فکری حکمت کو جانیں۔ جو لوگ اس فکری حکمت سے محروم ہوں وہ صحیح رائے سے بھی محروم رہیں گے۔
