انقلابی فیصلہ

حضرت ابوبکر صدیق  ؓ کی خلافت کے زمانہ میں جب قرآن جمع کیا گیا تو آپ نے حکم دیا کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی لکھا ہوا حصہ ہو، وہ اس کو لے آئے۔ چنانچہ ایک بڑا ڈھیر جمع ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت زید بن ثابت انصاریؓ نے دوسرے حافظوں کی مدد سے قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں تحریر کیا۔ زید بن ثابتؓ کا یہ مصحف قریش کے لہجہ پرتھا، جب کہ جمع شدہ ٹکڑوں میں کوئی ٹکڑا قریش کے لہجہ پر تھا اور کوئی دوسرے قبائل کے لہجہ پر۔ مذکورہ قرآن جب مرتب ہو گیا تو صحابہ کی متفقہ رائے کے مطابق ، تمام بچے ہوئے ٹکڑے جلا دیے گئے۔ یہی واقعہ دوبارہ خلیفہ سوم حضرت عثمان کے زمانہ میں ہوا جب کہ مصحف صدیقی کے مطابق نسخے تیار کیے گئے ، اور بقیہ لوگوں کے بطور خود لکھے ہوئے تمام مصحف صحابہ کی رائے سے جلا کر ختم کر دیے گئے۔

وہ لوگ جو کبھی پتھروں کے تقدس کے قائل تھے، ان کے لیے کلامِ الٰہی کی تختیوںکو نذر آتش کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ ایک عظیم الشان انقلابی فیصلہ تھا جو حقائق کے اعلیٰ شعور کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اصل یہ ہے کہ اصحاب رسول جو مختلف عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے ، فطری طور پر انہوں نے اپنے اپنے لہجہ پر قرآن کی آیتیں لکھ رکھی تھیں۔ اگر ان کے لکھے ہوئے یہ مختلف اوراق اور ٹکڑے جلائے نہ جاتے تو بعد کو ہر ٹکڑا ایک مستقل فتنہ بن جاتا۔ کیوں کہ ہر ٹکڑا اور ہر ورق کسی صحابی کی طرف منسوب ہو کر مقدس بن جاتا۔ اس کے بعد قرآن کے متن کے بارے میں اتنا اختلاف پیدا ہوتا کہ نہ قرآن محفوظ رہتا اور نہ امّت مسلمہ۔ ان ٹکڑوں کو اگر زمین میں گاڑ دیا جاتا یا دریا میں ڈال دیا جاتا تب بھی لوگ کسی نہ کسی طرح ان کو حاصل کر لیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جلانے کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر ان کو ختم کرنے کی نہ تھی۔ اس انقلابی فیصلہ تک پہنچنے کے لیے وہ برتر فکر درکار تھی جو جذباتی احترام سے اوپر اٹھ کر حقیقت کے تقاضوں کو دیکھ لیتی ہے۔ اصحاب رسول کو ان کے ایمان نے یہی انقلابی فکر عطا کی تھی۔ اور یہی انقلابی فکر ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ کے مقام پرکھڑا کرتی ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion