بناوٹی قصے

شیخ ابو یزید قرطبی فرماتے ہیں۔ میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار بار لا الہ الا اللہ پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے۔ میں نے یہ خبر سن کر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کے لیے بھی پڑھا۔ اور کئی نصاب خود اپنے لیے پڑھ کر ذخیر ہ آخرت بنایا۔

ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق مشہور تھا کہ وہ صاحب کشف ہے۔ جنت و دوزخ کا بھی اس کو کشف ہوتا ہے۔ مجھے اس کی صحت میں کچھ تردد تھا۔ ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا۔ دفعۃً اس نے ایک چیخ ماری اور اس کا سانس پھولنے لگا۔ اس کی ماں مر چکی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں نے ابھی اپنی ماں کو دیکھا ہے۔ وہ دوزخ میں جل رہی ہے۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ میرے پاس لا الہ الا اللہ کے پڑھے ہوئے جو نصاب ہیں، ان میں سے ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں۔ اس طرح نوجوان کی سچائی کا بھی تجربہ ہو جائیگا۔ چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ، ان نصابوں میں سے جو اپنے لیے پڑھے تھے ، اس کی ماں کو بخش دیا۔ یہ میں نے چپکے ہی سے اپنے دل میں بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی۔ مگر اس کے بعد فوراہی وہ نوجوان کہنے لگا کہ چچا، میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔(84)

یہ ایک معمولی سی مثال ہے۔ اس طرح کے بے شمار قصے گھڑ گھڑ کر امت کے اندر پھیلا دیے گئے ہیں۔ پچھلی صدیوں میں لا تعداد کتابیں لکھی گئی ہیں جو اس قسم کی بناوٹی کہانیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان قصوں اور کرامات کی جعلی داستانوں نے بہت سے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ ان کے ذریعہ مذہب کی دکانیں قائم کریں۔ کیوں کہ عوام بہت جلد طلسماتی قصوں کے فریب میں آجاتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion