تشدّدکاکوئی جوازنہیں
تشدّد انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ تشدّد انسانیت کا قتل ہے۔ تشدّد تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس کےباوجود لوگ کیوں تشدّدکرتےہیں۔اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ایسے لوگ خود ساختہ طور پر اپنے لیے تشدّد کا ایک جواز (justification) ڈھونڈلیتے ہیں۔ وہ بطورخودیہ خیال قائم کرلیتےہیں کہ فلاں وجہ سےان کےلیے تشدّد کرنا جائز ہے۔
مگرحقیقت یہ ہےکہ تشدّدکاہرجوازجھوٹاجوازہے۔کوئی فردیاگروہ جب بھی تشدّد کرتا ہے، عین اسی وقت اس کےلیے عدم تشدّدیاپُرامن طریق کار موجود ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں تشدّدکیوں۔جب تشدّدکےبغیرعمل کرنےکاموقع موجود ہوتوتشدّدکیوں کیا جائے۔حقیقت یہ ہےکہ تشدّدمطلق طورپرقابل ترک ہےاورامن مطلق طورپرقابل اختیار۔ آدمی کو چاہیےکہ وہ کسی بھی عذرکی بناپرتشدّدنہ کرے،وہ ہرصورت حال میں پُرامن طریق عمل پرقائم رہے۔
