تشدّدکاکوئی جوازنہیں

تشدّد انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ تشدّد انسانیت کا قتل ہے۔ تشدّد تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس کےباوجود لوگ کیوں تشدّدکرتےہیں۔اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ایسے لوگ خود ساختہ طور پر اپنے لیے تشدّد کا ایک جواز (justification) ڈھونڈلیتے ہیں۔ وہ بطورخودیہ خیال قائم کرلیتےہیں کہ فلاں وجہ سےان کےلیے  تشدّد کرنا جائز ہے۔

مگرحقیقت یہ ہےکہ تشدّدکاہرجوازجھوٹاجوازہے۔کوئی فردیاگروہ جب بھی تشدّد کرتا ہے، عین اسی وقت اس کےلیے عدم تشدّدیاپُرامن طریق کار موجود ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں تشدّدکیوں۔جب تشدّدکےبغیرعمل کرنےکاموقع موجود ہوتوتشدّدکیوں کیا جائے۔حقیقت یہ ہےکہ تشدّدمطلق طورپرقابل ترک ہےاورامن مطلق طورپرقابل اختیار۔ آدمی کو چاہیےکہ وہ کسی بھی عذرکی بناپرتشدّدنہ کرے،وہ ہرصورت حال میں پُرامن طریق عمل پرقائم رہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion