چھت کے لیے فرش
ایک شخص کا قول ہے کہ سر کے اوپر چھت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تمھارے پیروں کے نیچےایک فرش موجود ہو :
To have a roof over your head you need a floor under your feet.
چھت اوپر ہوتی ہے مگر وہ ہمیشہ نیچے کے فرش کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ اگر فرش نہ ہو تو چھت کھڑی کرنا بھی ممکن نہیں۔ یہی معاملہ زندگی کا ہے۔ آپ کو پہلے نیچے کی زمین تیار کرنی ہو گی ، اس کے بعد ہی آپ اوپر کی ترقیوں کے مالک بن سکتے ہیں ۔
فرینکلن کا قول ہے’’:ٹوٹی ہوئی کشتی کو ساحل کے قریب ہی رہنا چاہیے‘‘۔ اگر آدمی اس حقیقت کا لحاظ نہ کرے کہ اس کی کشتی ٹوٹی ہوئی ہے اور جوش میں آکر اپنی کشتی کو بیچ سمندر میں ڈال دے تو ایسا جوش ہمیشہ الٹا پڑے گا۔ وہ اس کی کشتی کو بھی ڈبائے گا اور خود اس کو بھی۔ اگر آپ کی کشتی ٹوٹی ہوئی ہے تو آپ یا تو ساحل پر رہیے جہاں پانی بھی کم ہوتا ہے اور خطرہ کے وقت بچاؤ کی تدبیر بھی قریب ہی مل جاتی ہے ۔ اور اگر آپ ساحل پر رہنے پر قانع نہیں ہیں تو پہلے اپنی کشتی کو درست کیجیے ۔ ایسی حالت میں آپ کے عمل کا آغاز لازماً کشتی کو درست کرنے سے ہونا چاہیے نہ کہ ساحل کو چھوڑ کر پانی کے منجدھار میں داخل ہو جانےسے۔
اس اصول کا تعلق زندگی کے ہر معاملے سے ہے۔ اگر آپ ایک مکان بنانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کے پاس تعمیر کا ضروری سامان ہونا چاہیے۔ اگر آپ کسی زبان میں ایک اخبار نکالنا چاہتے ہیں تو اس زبان میں اخبار پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہونی چاہیے ۔ اگر آپ الکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو آپ کے حلقۂ انتخاب میں ایسے ووٹر ہونے چاہئیں جو آپ کو ووٹ دیں۔ ابتدائی بنیاد کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کیا جاسکتا، خواہ وہ فرد سے متعلق ہو یا قوم سے متعلق ۔
ایک پرانی کہا و ت ہے’’:خود کو بدل دو قسمت اپنے آپ بدل جائے گی ‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبت کا سبب آدمی کے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر ۔ آدمی اگر سوچے کہ جو مسئلہ پیدا ہوا ہے اس کا اصلی سبب کہاں ہے تو معلوم ہو گا کہ اس کا سبب اس کی اپنی کوتاہی ہے ۔ جب نا کامی کا اصل سبب اپنی کو تا ہی ہے تو دوسرے کے خلاف شور وغل کرنے سے کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ ناکامی کامیابی میں تبدیل ہو جائے ۔
ایک شخص نے دکان کھولی۔ اس کی دکان چلی نہیں ۔ یہاں تک کہ دیوالیہ پن کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ ایک روز اس کے دوست نے کہا ’’تمہاری دکان اس لیے نہیں چل رہی ہے کہ تمھارے گاہکوں کو پاس کا دکان دار توڑ لیتا ہے‘‘ یہ سن کر دکان دار بولا —’’ تم غلط کہتے ہو ، میرے گاہک کو دوسرا دکان دار توڑتا ہے تو میں دوسرے دکان دار کے گاہک کو کیوں نہیں توڑ لیتا ‘‘ دوکان دار نے معاملہ کو گہرائی کے ساتھ دیکھا۔ وہ سوچنے لگا کہ آخر میری ناکامی کا بنیادی سبب کیا ہے ۔ وہ اس رائے پر پہنچا کہ اس کی ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ گاہکوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے بات نہیں کرتا۔ اس نے طے کر لیا کہ وہ اپنی اس کمزوری کو دورکرے گا۔
اس نے اپنے اوپر قابو پانا شروع کیا ۔ اب کوئی گاہک اس کی دکان پر آتا تو وہ نہایت میٹھے انداز میں بولنے کی کوشش کرتا۔ دھیرے دھیرے اس کا بولنے کا انداز بدل گیا اور اسی کے ساتھ اس کی دکان کی حالت بھی۔ اس نے جب یہ کیا کہ اپنے اندر کی بنیادی کمزوری دور کرلی تو بقیہ کمیاں اپنے آپ دور ہوتی چلی گئیں ۔
