سرسری مطالعہ
سرسری مطالعہ سے جو رائے قائم کی جاتی ہے وہ تحقیق کے بعد اکثر غلط ثابت ہوتی ہے ۔
معاویہ بن ابی سفیان (680-605ء) ایک ممتاز صحابی تھے۔ ان کے بارے میں ایک صاحب لکھتے ہیں:
’’دیت کے معاملہ میں بھی حضرت معاویہ نے سنت کو بدل دیا۔ سنت یہ تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کے برابر ہو گی۔ مگر حضرت معاویہ نے اس کو نصف کر دیا، اور باقی خود لینی شروع کر دی‘‘
معاہد کی دیت کے بارے میں نبی ﷺ سے مختلف اقوال مروی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے: دِيَةُ ذِمِّيٍّ دِيَةُ مُسْلِمٍ ( السنن الکبری للبیھقی، حدیث نمبر16352) دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہوگی: عَقْلُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ ( نيل الأوطار، جلد7، صفحہ 79)۔ اس بنا پر عہد صحابہ سے یہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہونی چاہیے، اور کچھ لوگ مسلمان اور معاہد کی دیت میں فرق نہیں کرتے۔ حضرت معاویہ نے دراصل دو رایوں میں سے ایک رائے کو ترجیح دی ہے، نہ کہ خود کوئی نئی رائے پیدا کی ہے۔
’’باقی خود لینی شروع کر دی‘‘ کے الزام کی حقیقت یہ ہے کہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں امام زہری کا مقولہ ان لفظوں میں نقل کیا ہے: معاویہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے معاہد کی دیت کو کم کر کے نصف کر دیا اور نصف اپنے واسطے لےلی: وَأَخَذَ النِّصْفَ لِنَفْسِهِ (البداية والنهاية ، جلد11، صفحہ449)۔ یہ عبارت سرسری نظر میں مغالطہ آمیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس کی وجہ اس کا جمال ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے معاملہ کو تفصیلی شکل میں پیش کیا ہے۔ ان کا بیان اس کو واضح کر دیتا ہے کہ یہاں اپنی ذات سے مراد حکومتی خزانہ ہے۔ بیہقی نے اپنی سنن میں امام زہری کا مقولہ ابن جریح کی سند سے تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے وہاں الفاظ یہ ہیں :
فَلَمَّا كَانَ مُعَاوِيَةُ، أَعْطَى أَهْلَ الْمَقْتُولِ النِّصْفَ، وَأَلْقَى النِّصْفَ فِي بَيْتِ الْمَالِ (السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر16354)۔ یعنی، جب معاویہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے آدھی دیت مقتول کے رشتہ داروں کو دی اور آدھی بیت المال میں داخل کر دی۔
