کتنا فرق

سترھویں صدی میں جب کہ مغربی قو میں ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئیں، ان سے پہلے ان کے سیّاح کثرت سے ان ملکوں میں آئے۔ انہوں نے یہاں کی مقامی زبانیں سیکھیں، لوگوں سے میل جول پیدا کیا۔ لمبی لمبی مدت تک یہاں رہے۔ اس کے بعد انہوں نے یہاں کے حالات کے بارے میں تفصیل سے کتابیں لکھیں اور اپنی حکومتوں اور اپنی قوموں کو یہاں کے حالات سے باخبر کیا۔

انہیں میں سے ایک فرانسیسی سیاح ڈاکٹر برنیر(Bernier) ہے۔ وہ ایک باقاعدہ تعلیم یافتہ طبیب تھا۔ اس کے طب نے اس کو موقع دیا کہ وہ جہاں جائے وہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے درمیان گھل مل کر رہ سکے ۔ وہ اپنے اس فن کی وجہ سے اعلیٰ شخصیتوں تک رسائی کے قابل ہوگیا۔ برنیر1620ء میں پیدا ہوا۔1647 میں اس نے جرمنی، پولینڈ، سوئزرلینڈ، اور اٹلی کی سیاحت کی اور ان ملکوں کی سماجی اور سیاسی زندگی کو قریب سے دیکھا۔ 1654 میں برنیر ایشیا کے لیے روانہ ہوا۔ چند سال تک شام، مصر، فلسطین وغیرہ میں گھوما اور 1658ء میں ہندوستان میں سورت کی بندرگاہ پر اترا۔ یہ شاہ جہاں کا آخری زمانہ تھا اور اس کے بیٹوں میں اقتدار کی جنگ جاری تھی۔

برنیر ہندستان میں چودہ سال تک رہا۔ یہاں وہ سورت سے لے کر کشمیر تک بے شمار بستیوں میں گیا اور ہندستانی زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ وہ لکھتا ہے کہ میں نے پلوٹارک کے اس قول پر عمل کیا ہے کہ جزئی اور معمولی باتوں کو بھی ضرور جاننا چاہیے۔ کسی قوم کے متعلق رائے قائم کرنے کے لیے وہ بڑی بڑی باتوں سے زیادہ کارآمد ہیں۔ ہندستان سے واپس ہو کر برنیر جب فرانس پہنچا تو اس نے فرانس کے بادشاہ لوئی چہار دہم(Louis XIV) کے سامنے اپنا سفر نامہ ان الفاظ کے ساتھ پیش کیا: دریائے سین سے نکل کر دجلہ، فرات، سندھ یا گنگا جہاں بھی میں پہنچا، فرانس اور اس کے شہنشاہ کے بارے میں لوگوں کی بہت اونچی رائے پائی۔

ہندستان کے شہروں کا گہرا جائزہ لینے کے بعد برنیر نے لکھا: یہاں کے شہر اور قصبے خواہ اس وقت بظاہر خستہ حال اور ویران نہ ہوں مگر ایسا شہر کوئی نہیں جس میں جلد تباہ اور خراب ہو جانے کی علامتیں نہ پائی جاتی ہوں (صفحہ 227)۔ ہندستان کی اس وقت کی فوجوں کے بارے میں اس نے لکھا: جب میں ان بے ترتیب فوجوں کو دیکھتا تھا کہ حیوانوں کے گلوں کی مانند چلتی ہیں تو ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ ہمارے صرف25 ہزار تجربہ کار سپاہی پرنس کوندی یا مارشل تورین کی قیادت میں ہندوستان کی فوج پر، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، غالب آ سکتے ہیں (صفحہ55)۔ برنیر نے اپنے تقریباً500 صفحات کے سفر نامہ میں لکھاکہ ہندستان میں تخت نشینی کے لیے جنگ ہونا لازمی ہے۔ کیوں کہ جانشینی کے واضح اصول نہ ہونے کی وجہ سے کسی شہزادہ کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ یا تو خود تخت حاصل کرے یا اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس نے لکھا کہ شاہی امراء کا اعزاز موروثی نہ ہونے کی وجہ سے یہا ں ایک مستقل طبقہ امراء وجود میں نہیں آ پاتا۔ جب تک ایسا نہ ہوگا سیاسی نظام کا استحکام ممکن نہیں ہے، وغیرہ۔

مغربی ملکوں کے سیاح جس زمانہ میں اپنی قوموں اور بادشاہوں کو اس قسم کی معلومات دے رہے تھے ٹھیک اسی زمانہ میں ہمارے یہاں کیا حال تھا۔ عین اس زمانہ میں لال قلعہ کے حکمراں کو اس کے قصیدہ خواہ شاہ جہاں کا خطاب دے رہے تھے اور اس کے ذہن پر یہ تصور بٹھا رہے تھے کہ جو ہندستان کا بادشاہ ہے وہی سارے عالم کا بادشاہ ہے۔ اورنگ زیب کے استاد ملا محمد صالح اپنے شاگرد شہزادہ کو یہ بتا رہے تھے کہ یورپ بس ایک چھوٹے سے جزیرہ کے برابر ہے، فرانس اور اندلس کے بادشاہ ایسے ہی ہیں جیسے ہندستان کے چھوٹے چھوٹے راجہ۔ وہ اورنگ زیب کو ایسے فلسفہ اور منطق کا ماہر بنا رہے تھے جو جنگی مقابلوں، طرز حکمرانی اور قوموں کے ترقی و تنزل کو سمجھنے میں کام آنا تو درکنار اس قابل بھی نہ تھا کہ وہ آدمی کے اندر ایسا ذہن بنائے جو دلیل صحیح کے بغیر کسی چیز کو تسلیم نہ کرے اور اپنے اور غیر کے بارے میں حقیقی بنیادوں پر رائے قائم کر سکے ۔ برنیر نے اپنے سفر نامہ میں تفصیل سے بتایا ہے کہ مغل شہزادوں کی تعلیم وتربیت کتنے غیر حقیقی انداز میں دی جاتی ہے (صفحہ 156)۔

یہ تین سو سال پہلے کا واقعہ ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ آج بھی صورت حال ہمارے یہاں زیادہ مختلف نہیں۔ آج جب کہ دوسری قوموں کے رہنما اپنی قوموں کو حقیقت پسندی کا سبق دے رہے ہیں، مسلم قائدین ہر جگہ مسلمانوں کو جذبات کی شراب پلانے میں مشغول ہیں۔ کوئی پراسرار عملیات میں کامیابی کا راز بتا رہا ہے کوئی شاعری اور خطابت میں ۔ کوئی جلسہ جلوس میں ترقی کا راستہ دکھا رہا ہے اور کوئی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں کوئی تجویزوں اور بیانات کے ذریعہ ملت کی تعمیر کا یقین دلا رہا ہے، اور کو ئی دوروں اور تقریروں کے ذریعہ  —ہمارے یہاں’’ملامحمد صالح‘‘ تو بے شمار ہیں۔ مگر’’ڈاکٹر برنیئر‘‘ کوئی ایک بھی نہیں۔ پوری ملت ا یسے افراد سے خالی نظر آتی ہے جو آج کی دنیا کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیں، اور خالص واقعاتی انداز میں وقت کے حقائق سے ملت کو باخبر کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملامحمد صالح بننے کے لیے تو صرف ابن الوقتی کا سرمایہ کافی ہے، جب کہ ڈاکٹر برنیئر بننے کے لیے پرمشقت عمل درکار ہے، اور اپنے کو مشقت میں ڈالنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion