غلط فہمی

صحیح البخاری (كِتابُ النِّكَاحِ، بَابُ عَرْضِ الْإِنْسَانِ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخَيْرِ) میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے والد حضرت عمر بن الخطاب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا۔ جب ان کی صاحبزادی حفصہ بیوہ ہو گئیں جن کا نکاح خنبس بن حذافہ السہمی سے ہوا تھا۔ اور وہ مدینہ میں وفات پا گئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ پھر میں عثمان بن عفان کے پاس آیا اور میں نے ان کو حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس پر غور کروں گا۔ چند دن کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس وقت میں نکاح نہیں کر سکوں گا۔

حضرت عمر کہتے ہیں کہ پھر میں ابوبکر صدیق سے ملا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی لڑکی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں۔ ابوبکر خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا:فَصَمَتَ ‌أَبُوبَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا۔

حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابوبکر پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ غصہ آیا:وَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5122) وَفِي رِوَايَةٍ:فَغَضِبَ عَلَىٰ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ فِيهَا:كُنْتُ أَشَدَّ غَضَبًا حِينَ سَكَتَّ مِنِّي عَلَىٰ عُثْمَانَ (الطبقات الکبری، حدیث نمبر 4129)۔

پھر میں کچھ دن تک ٹھہرا رہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا تو آپ کے ساتھ میں نے حفصہ کا نکاح کر دیا۔ اس کے بعد میری ملاقات ابوبکر سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ شاید تم مجھ پر غصہ ہوئے ہو گے جب کہ تم نے مجھ سے حفصہ کا پیغام دیا تھا۔ اور میں نے تم کو کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابوبکر نے کہا کہ اس معاملہ میں جواب سے مجھے صرف اس چیز نے روکا تھا کہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کا ذکر کیا ہے۔ اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میں رسول اللہ کا راز کھول دوں۔ اگر آپ ان کو چھوڑ دیتے تو میں ضرور انہیں قبول کر لیتا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5122؛ طبقات ابن سعد، جلد10، صفحہ 80)۔

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں انتہائی جلیل القدر صحابی ہیں۔ اس کے باوجود ایسا ہوتا ہے کہ ایک صحابی دوسرے صحابی کے رویہ کو اتنا زیادہ غلط سمجھ لیتا ہے کہ اس پر اس کو غصہ آجاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت کے اعتبار سے اس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل غلط فہمی کا معاملہ تھا ، نہ کہ غلط کاری کا۔

اصل یہ ہے کہ حضرت عمر ابتدائی مرحلہ میں مذکورہ واقعہ کو محض ظاہر کے اعتبار سے لے رہے تھے۔ ظاہر کے اعتبار سے انہیں دکھائی دیا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان نے نامناسب رویہ اختیار کیا۔ مگر جب معاملہ کی اصل حقیقت معلوم ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کا رویہ بالکل درست تھا۔ اس میں غصہ ہونے کی کوئی بات سرے سے موجود ہی نہ تھی۔

ایک صحابی کو جب دوسرے صحابی کے معاملہ میں غلط فہمی ہو سکتی ہے تو عام مسلمان کو دوسرے مسلمان کے معاملہ میں بھی یقیناً غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ کسی کے متعلق بری رائے قائم کرنے میں وہ انتہائی محتاط ہو۔ عین ممکن ہے کہ بعض ظاہری چیزوں کو دیکھ کر وہ بری رائے قائم کر رہا ہو۔ حالاں کہ زیادہ گہرے اسباب بتا رہے ہوں کہ یہ سراسر غلط فہمی کی بات ہے، کیوں کہ وہاں سرے سے کوئی غلط فعل پایا نہیں جا رہا ہے۔

موجودہ دنیا میں باہمی تعلقات میں بگاڑ کا سبب اکثر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ حتٰی کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ظاہر حالات کے اعتبار سے غلط فہمی بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔

یہ غلط فہمی دو مخلص افراد یا دو بے قصور گروہوں کے درمیان بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ جب بھی غلط فہمی کی صورت پیدا ہو تو ایسا نہ کرے کہ اس پر یقین کر کے بیٹھ جائے۔ بلکہ متعلق افراد سے مل کر اس کی تحقیق کرے۔ کامل تحقیق کے بغیر ہرگز وہ اس کو تسلیم نہ کرے۔ تحقیق کا طریقہ غلط فہمی سے پیدا ہونے والی برائیوں کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔

پھر یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق کے بعد جب غلط فہمی بے بنیاد ثابت ہو تو فوراً اپنے دل ودماغ سے اس کو نکال دے۔ اپنے آپ کو دوبارہ اسی طرح معتدل بنا لے جس طرح وہ غلط فہمی کی صورت پیدا ہونے سے پہلے تھا۔

تحقیق کو اپنا اصول بنا لیجیے۔ اور پھر آپ کو کسی سے شکایت نہیں ہو گی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion