عورت مرد سے زیادہ قابلِ احترام
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ أُمُّكَ، قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ(صحیح البخاری، حديث نمبر5971)۔يعني، حضرت ابو ہر یرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کون ہے جو سب سے زیادہ میرے حسنِ سلوک کا مستحق ہے۔ آپ نے فرمایا:تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا:تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا:تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا:تمہارا باپ۔
ماں کی صورت میں عورت کو سب سے زیادہ قابلِ احترام بنا نا بتاتا ہے کہ اسلام کس قسم کا معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام کے نزدیک سب سے زیادہ بہتر معاشرہ وہ ہے جس میں عورت کو سب سے زیادہ عزت اور احترام کا مقام حاصل ہو۔ جو شخص ’’ ماں ‘‘ کے روپ میں ایک خاتون کا سب سے زیادہ لحاظ کرے اس کے اندر لازمی طور پر یہ مزاج بنے گا کہ وہ دوسری خواتین کا بھی سب سے زیادہ لحاظ کرے۔ اس طرح پورے معاشرہ میں عورت کو وہ مقام مل جائے گا جو گھر کے اندر ایک ماں کو ملاہوا ہے۔
