سادہ زندگی
اسلامی خلفاء کے زمانہ میں دولت اور اقتدار دونوں چیزوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا، اس کے باوجود خلفاء بالکل سادہ زندگی گزارتے تھے ۔ اس کا اعتراف تمام مورخین نے کیا ہے ۔ مانٹگو مری واٹ (W.Montgomery Watt) نے لکھا ہے کہ مسلم خلفاء جواب ایک وسیع بادشاہت کے حکمراں تھے ، وہ اب بھی مدینہ میں بے حد سادہ طریقہ سے رہتے تھے :
The ruler of what was now a vast empire still lived a very simple life in medina, and had not so much as a bodyguard. (The Majesty That was Islam (1984)
خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ کے حکمراں تھے ، مگر جسم پر معمولی کپڑا ہوتا تھا ، جس میں اکثر پیوند لگا رہتا تھا۔ پانی کی مشک کندھے پر رکھ کر چلتے تھے۔ پتھر کا تکیہ سر کے نیچے رکھ کر زمین پر سو جاتے تھے ۔ معمولی کھانا کھاتے اور معمولی گھر میں رہتے۔
ایک بار احنف بن قیس ان سے ملنے کے لیے مدینہ آئے تو دیکھا کہ معمولی حالت میں اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہیں ۔ احنف نے پوچھا کہ کیا بات ہے ۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ بیت المال کا ایک اونٹ بھا گ گیا ہے ، اس کو تلاش کر رہا ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ آپ امیر المومنین ہیں ۔ آپ خود کیوں یہ زحمت اٹھا رہے ہیں ۔ آپ نے کسی غلام کو حکم دے دیا ہوتا، وہ اس کا م کو کر ڈالتا۔ حضرت عمر نے جواب دیا:
وأيُّ عبدٍ هو أَعبَدُ منِّي (مسند الفاروق لابن کثیر، جلد1، صفحہ 370)۔ یعنی، کون ہے جو مجھ سے بڑھ کر غلام ہو۔
سلطنت کا حاکم ہونے کے باوجود اپنے کو عام آدمیوں سے ایک آدمی سمجھنا، اعلیٰ ترین حاکمانہ اخلاق ہے ، مگر اس حاکمانہ اخلاق کی عملی مثال اسلامی تاریخ کے سوا کہیں اور نہیں ملے گی۔
حضرت عمر فارق کا زمانہ خلافت 644ء تک ہے ۔ انھیں کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا۔ اس فتح کے موقع پر فلسطین کے مسیحی ذمہ داروں کی طلب پر ، حضرت عمر نے مدینہ سے فلسطین کا سفر کیا ۔ یہ سفر ایک عظیم سلطنت کے عظیم حکمراں کا تھا ۔ مگر وہ اتنا سادہ تھا کہ اس کے آگے سادگی کا مزید تصور نہیں کیا جا سکتا۔
عبد اللہ التل جو فلسطین کی جنگ (1948) میں شریک تھے ۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے:خَطَرُ الْيَهُودِيَّةِ الْعَالَمِيَّةِ عَلَى الإِسْلَامِ وَالْمَسِيحِيَّةِ۔ یہ کتاب دار القلم (قاہرہ ) سے 1964میں شائع ہوئی ہے ۔ عبد اللہ التل کو فلسطین کے ایک معبد میں ایک تاریخی مخطوطہ یونانی زبان میں لکھا ہوا ملا ۔ یہ مخطوط جو قدیم زمانہ میں کسی عیسائی نے لکھا تھا ، اس میں حضرت عمر کے داخلہ فلسطین کا تذکرہ ہے ۔ عبد اللہ التل نے اس مخطوطہ کا عربی ترجمہ اپنی کتاب میں شامل کیا ہے ۔ اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔
جب بیت المقدس پر مسلم فوجوں کا حصار بڑھا تو636ء میں وہاں کا بڑا پادری صفر ونیوس شہر کی دیوار پر چڑھا ۔ اس نے مسلم فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تم سے صلح کرنا چاہتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ صلح تمہارے امیر کے ہاتھ پر ہو گی۔ چنانچہ اس مضمون کا ایک خط مدینہ بھیجا گیا تاکہ امیر المومنین فلسطین آئیں اور اہل فلسطین سے صلح کا معاملہ طے کریں ۔
عمر فاروق مدینہ سے بیت المقدس جانے کے لیے نکلے۔ مگر حال یہ تھا کہ ان کے ساتھ صرف ایک سواری اور ایک غلام تھا۔ جب وہ شہر سے باہر آئے تو اپنے غلام سے کہا کہ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔ اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا۔ اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پید ل چلوں تو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اور اگر ہم دونوں سواری پر بیٹھ جائیں تو ہم اس کی پیٹھ توڑ ڈالیں گے۔ اس لیے ہم لوگ تین باری مقرر کر لیں۔ چنانچہ انھوں نے راستہ اس طرح طے کیا کہ ایک بار عمر سواری پر بیٹھتے اور غلام پیدل چلتا۔ اس کے بعد غلام سواری پر بیٹھتا اور عمر پیدل چلتے ۔ اور پھر دونوں پیدل چلتے اور سواری خالی رہتی۔ اس طرح وہ سفر کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ قدس کے قریب پہنچ گئے۔
اتفاق سے اس وقت غلام کی باری تھی ۔ غلام نے سواری پر بیٹھ کر چلنے سے انکار کیا اور چاہا کہ آخری مرحلہ میں شہر میں داخلہ اس حال میں ہو کہ سواری پر عمر فاروق بیٹھے ہوئے ہوں ۔ مگر عمر فاروق اس پرراضی نہیں ہوئے ۔ اور وہ قدس کے دروازے پر اس حال میں پہنچے کہ غلام سواری پر تھا اور عمر فاروق پیدل چل رہے تھے ، عمر فاروق کو اس حال میں دیکھ کر شہر کے پادریوں نے دروازہ کھول دیا اور عمر کے ہاتھ پر صلح کر لی ۔
صلح نامہ کی تکمیل کے بعد حضرت عمر نے ایک مختصر تقریر کی جس میں کہا کہ اے اہل فلسطین جو ہمارے لیے ہے وہ تمہارے لیے ہے اور جو ہمارے لیے نہیں وہ تمہارے لیے بھی نہیں (يَا أَهْلَ إِيلِيَاءَ، لَكُمْ مَا لَنَا وَعَلَيْكُمْ مَا عَلَيْنَا)۔ عمر فاروق کا یہ سفر تمام دنیا کے حکمرانوں کے لیے بلا شبہ آخری اور کامل ترین نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
