مغربی شادیوں کا انجام
امریکا کے ایک میگزین (Better Homes and Gardens) نے اپنے قارئین سے سوال کیا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ امریکا میں خاندانی زندگی مشکلات سے دوچار ہے۔ 76 فیصدکاجواب تھاکہ ہاں :
Do you think that family life in the U.S. is faced with troubles? Seventy-six percent answered in the affirmative.
85فیصد نے کہا کہ پر مسرت شادی کے بارے میں ان کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ اسی طرح ایک اور امریکی میگزین (Newsweek) نے مئی 1978 میں اپنے ایک جائزہ کے نتائج شائع کیے تھے۔ اس کے مطابق امریکا میں تقریباً نصف نکاح طلاق پر ختم ہوتے ہیں طلاق کے بعد دوبارہ نکاح ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ طلاق۔
نکاح کے ایک مشیر رونا لڈکیلی (Ronald D.Kelly) نے لکھا ہے کہ :
One of the saddest things to me as a marriage counsellor is the many couples who are married, yet strangers to each other in their own homes. They seem to share little in common. Each goes his or her own way, pausing only for occasional conversations—those often arguments about money, child rearing or sex. You wonder how they ever got together in the rust place.
مشیرنکاح کی حیثیت سے میرے لیے ایک نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ اکثر عورتیں اور مرد شادی کے بعد بھی اپنے گھروں میں اجنبی کی طرح رہتے ہیں۔ان میں بہت کم اشتراک ہوتا ہے۔ان میں ہر ایک الگ الگ راستے پر چلتا ہے۔ ان میں صرف کبھی کبھی گفتگو ہوتی ہے، وہ بھی زیادہ تر پیسہ ، بچہ کی پرورش یا جنس کے بارے میں بحث کے طور پر۔ ان کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ آخر ابتداء میں وہ دونوں کس طرح اکٹھے ہوئے تھے۔(پلین ٹروتھ ، جون 1987)
شادی خواہ کتنی ہی پسندیدگی کے تحت کی گئی ہو ، اس میں بہرحال ناخوش گواریاںپیش آتی ہیں، کبھی زندگی کے مسائل کی بناپر ،اور کبھی جنسی کشش زائل ہونے کی بناپر۔ اب اگر میاں اور بیوی’’شادی برائے مقصد ‘‘ کے نظر یہ کے تحت یکجا ہوتے ہوں تو پیش نظرمقصد کی خاطر دونوں اس کو نظر انداز کریں گے اورناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے باہم جڑے رہیں گے۔اس کے برعکس جب ’’شادی برائے لذت‘‘ کا تصور ہو تو ہر خلاف مزاج بات کو برداشت کرتے ہوئے تعلق کو برقرار رکھنا ضرور ی سمجھیں۔
مغربی دنیا کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہاں تہذیب جدید کے اثر سے شادی برائے لذت کا اصول رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں خاندانی زندگی منتشر ہوکر رہ گئی ہے، کہیں جنسی کشش کے زوال کی بنا پر اورکہیںگھر یلو مسائل کی بنا ءپر۔
