انسانوں کی ایک قسم یہ بھی ہے
عمر بن ربیعہ (32-92ھ) ایک شاعر تھا جو زیادہ تر عشقیہ مضامین نظم کرتا تھا۔
حتٰی کہ شریف خاندان کی عورتوں کا نام لے کر ان کے بارے میں عریاں اشعار کہنے لگا۔ اس کے خلاف شکایات حکومت تک پہنچیں۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کو دھلک میں جلا وطن کر دیا جو یمن اور حبشہ کے درمیان بحراحمر کا ایک جزیرہ تھا۔ وہ عین اس رات کو پیدا ہوا جس رات کو حضرت عمر فاروق نے انتقال فرمایا۔ لوگ اس کے بارے میں کہا کرتے تھے: کتنا بڑا حق اٹھ گیا اور کیسا باطل اس کی جگہ آ گیا۔ عمر بن ربیعہ کاایک شعر یہ ہے:
أَلَا لَيْتَ أُمَّ الْفَضْلِ كَانَتْ قَرِينَتِي هُنَا أَوْ هُنَا فِي جَنَّةٍ أَوْ جَهَنَّمَ
انسانی اندازے کتنے غلط ہوتے ہیں
ام عبداللہ بنت ابی حثمہ بیان کرتی ہیں کہ ہجرت حبشہ کے وقت وہ سفر کی تیاری کر رہی تھی۔ عمر بن خطاب (جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے)۔ ادھر سے گزرے۔ اس وقت تک وہ مسلمانوں کے اوپر ظلم کرنے میں انتہائی سخت تھے۔ عمر نے کہا: إِنَّهُ لَلِانْطِلَاقِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ(اے ام عبداللہ کیا روانگی ہو رہی ہے)۔ ام عبداللہ نے کہا: خدا کی قسم، ہاں، تم لوگ ہمارے اوپر مصیبت ڈال رہے ہو۔ ہم خدا کی زمین میں نکل جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دے۔ عمر نے یہ سن کر کہا: خدا تمہارا ساتھ د ے (صَحِبَكُمُ اللهُ)۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت طاری ہو گئی۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ اس کے بعد ام عبداللہ کے شوہر آئے جو کسی ضرورت سے باہر چلے گئے تھے۔ ام عبداللہ نے ان سے عمر کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ ان کے شوہر نے کہا:
فَلَا يُسْلِمُ الَّذِي رَأَيْتِ حَتَّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطَّابِ(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 343)۔ یعنی، یہ شخص اسلام قبول کرنے والا نہیں، یہاں تک کہ خطاب کا گدھا بھی مسلمان ہو جائے۔
مگر یہی عمر بن الخطاب اس کے تھوڑے دنوں بعد مسلمان ہو گئے اور انہوں نے اسلام کی نئی تاریخ بنائی— انسان اکثر اندازہ کرنے میں غلطی کرتا ہے۔ اگرچہ ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ اس کا اندازہ بالکل درست ہے۔
