عورت ہر میدان میں
1۔ حضرت اُم سلمہ ایک بار کسی عورت سے اپنے بال گند ھوارہی تھیں اتنے میں مسجد سے خطبہ کی آواز آئی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:أَيُّهَا النَّاسُ( اے لوگوں) یہ سنتے ہی فرمایا۔ بس جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو، عورت نے کہا اتنی جلدی کیا ہے، ابھی تو آپ نے أَيُّهَا النَّاسُ کہا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ خوب ،کیا ہمارا شمار آدمیوں میں نہیں۔ ‘‘ یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور قریب ہوکر خطبہ سننے لگیں (مسند ابن المبارك، حديث نمبر 249)۔ حضرت اُم سلمہ کی مرویات کی تعداد 378 ہے۔ وہ فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ان کے فتوے جمع کیے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہوجائے گا۔ (اعلام الموقعين، جلد 1، صفحه 20)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں حضرت عائشہ سب سے زیادہ ذہین تھیں۔ ان کی مرویات کی تعداد 2210 تک شمار کی گئی ہے۔ ان سے تقریباً ایک سو صحابہ اور تابعین نے روایت کیا ہے۔ عبداﷲبن عباس ، عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، عبداﷲبن عامر، مسروق بن اجدع ، عکرمہ، علقمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حضرت عائشہ ایک اعلیٰ درجہ کی فقیہه تھیں۔ جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علّت وحکمت بھی بیان کردیتیں۔ حضرت ابوسعید خدري اور حضرت عبد اﷲ بن عمر سے جمعہ کے غسل کے بارے میں صرف اس قدر مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہیے(صحيح البخاري، حديث نمبر 894؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 846)۔ مگر اسی حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی آبادیوں سے نماز جمعہ کے لیے مدینہ آتے تھے۔ وہ گردو غبار سے اٹے ہوتے اور پسینہ سے تر ہوتے اس لیے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہالیا کرو(صحيح البخاري، حديث نمبر 903؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 847)۔
2۔ بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ خیبر کے جہاد کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا:اے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں ، تاکہ زخمیوںکی مرہم پٹی کریں، اورجہاں تک ہوسکے مسلمانوں کی مدد کریں۔ آپ نے فرمایا — عَلَى بَرَكَةِ اللهِ:اﷲ برکت دے ، چلو(الطبقات الكبرى لابن سعد، جلد 8، صفحه 292)۔ انصاری خاتون ام عطیہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شرکت کی ہے۔ میں مجاہدین کے کجاووں کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہتی ، ان کے لیے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی ، اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی (مسنداحمد، حديث نمبر 20792)۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن جبل کے چچا کی بیٹی تھیں ان کی بابت حضرت مہاجر بتاتے ہیں کہ انھوں جنگ یر موک میں خیمہ کی لکڑی سے نو رومیوں کو قتل کیا(الاصابة لابن حجر العسقلاني، جلد 8، صفحه 22)۔
3۔ مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانے کا واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کرکے حسان بن ثابت کو ان کی دیکھ بھال کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبدالمطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا اور ہمارے قلعہ کا چکر لگانے لگا۔ اس وقت بنی قریظہ نے جنگ چھیڑرکھی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ کٹ گیا تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا جو یہود کے مقابلے میں ہماری مدافعت کرے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان دشمن کے مقابلہ پر تھے، وہ ان کو چھوڑکرہماری طرف نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں آنے والا یہودی سامنے سے گزرا۔ میں نے کہا اے حسان ! دیکھو یہ یہودی ہمارے قلعہ کا چکّر لگارہا ہے اور میں خدا کی قسم اس سے مامون نہیں۔ کہیں وہ ہماری اس غیر محفوظ حالت کو یہودیوں سے جاکر کہہ نہ دے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جنگ میں مشغول ہیں۔ پس اترو اور اس کو جاکر قتل کر دو۔ حسان بن ثابت نے کہا:وَالله لَقَدْ عَرَفْتِ مَا أَنَا بِصَاحِبِ هَذَا ( خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ میں اس کام کا نہیں )۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے مجھ کو یہ جواب دیا اور میں نے ان کے پاس مارنے کی کوئی چیزنہ دیکھی تو میں کمرسے کپڑا کسا اور ایک لکڑی ہاتھ میں لی۔ پھر قلعہ سے اتر کر اس کے پاس پہنچی اور اس لکڑی سے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں نے اس کو ہلاک کردیا۔ پھرجب میں اس سے فارغ ہوگئی تو میں قلعہ میں واپس آئی اور حسان بن ثابت سے کہا کہ قلعہ سے اتر کر جاؤ اوراس کا سامان لاؤ۔ میں صرف اس لیے اس کا سامان اتارنے سے رک گئی کہ وہ مرد تھا۔ حسان بن ثابت نے کہا:اے عبد المطلب کی بیٹی؛مجھے اس کے سامان کی ضرورت نہیں۔ (البد ایہ والنہا یہ ،جلد 4، صفحہ 108-109)
