نظر انداز کرو
’’میں تمھاری صورت دیکھنا نہیں چاہتا ‘‘ کہنے والے نے کہا‘‘
’’اپنی آنکھیں بند کر لو، میری صورت تمھیں دکھائی نہیں دے گی‘‘ ،
’’ میں تمھاری آواز سننا نہیں چاہتا ‘‘ کہنے والے نے دوبارے کہا
’’ اپنے کان بند کر لو، میری آواز تمھیں سنائی نہیں دے گی‘‘۔
رامائن کے دو کرداروں کا یہ سادہ مکالمہ زندگی کی بہت بڑی حقیقت بیان کر رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ جس مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے آدمی دوسروں کے پیچھے دوڑتا ہے، اس کو وہ اپنے آپ پر عمل کر کے زیادہ بہتر طور پر حل کر سکتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب آدمی کو کسی دوسرے شخص سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو وہ فوراً اس شخص کے خلاف کا رروائی شروع کر دیتا ہے اور پھر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ نہ صرف پہلا مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے بلکہ بے شمار نئے نئے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہر مسئلہ کا زیادہ آسان اور یقینی حل یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اس سے ہٹا لے ، اس سے الجھ کر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے آپ کو زیادہ مفید کاموں میں مصروف رکھے۔
کسی مفکر نے بالکل صحیح کہا ہے — ’’دوسروں کے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنے پیچھے پڑو، کیونکہ اپنے آپ کو پکڑ کر تم زیادہ بہتر طور پر دوسرے کو پکڑ سکتے ہو‘‘ اکثر لوگ زندگی کے اس راز کو نہیں جانتے ۔ وہ اپنی طاقت اور اپنے وقت کا بڑا حصہ اپنے مفروضہ مخالفین کو سبق سکھانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اس طاقت اور وقت کو اپنی تعمیر میں لگا ئیں تو اپنے کو مضبوط اور کامیاب بنا کر وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ اپنے مخالفین کو سبق دے سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دوسرے شخص کی برائی کو نظر انداز کرنا ہمیشہ اس سے مقابلہ کرنے کا زیادہ کامیاب طریقہ ہوتا ہے ۔
آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت آپ کے مخالف کو مرعوب کر کے بٹھا دیتی ہے ۔ وہ آپ کے خلاف مزید کارروائی کرنے کا حوصلہ کھو دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ برائی کرنے والے سے اپنے کو الجھا دیں تو یہ ہمیشہ تھوڑے نقصان کو بچانے کی خاطر بڑے نقصان کو برداشت کرنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اس طرح آپ اپنے وقت اور قوت کو بھی ضائع کرتے ہیں اور دوسرے کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی مزید برائیوں کے ساتھ آپ کے اوپر پل پڑے ۔
سماج کی ملی جلی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم کوکسی کی بات سے تکلیف پہنچتی ہے۔ کسی کا کوئی کام ہمارے لیے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر تکلیف ہونا فطری ہے ۔ مگر ایسے مواقع پر سہار سے کام لینے ہی میں ہر قسم کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر ہم برداشت نہ کریں اور بپھر کر دوسرے سے لڑنے لگیں تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے بپھر نے سے دوسرا شخص بھی بپھر تا ہے اور بات بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دوسرے کو برباد کرنے کی کوشش میں ہم خود اپنے آپ کو برباد کر لیتے ہیں ۔
ایک شخص ایک مکان کی اوپر کی منزل پر رہتا تھا۔ نیچے خالی جگہ تھی جہاں لڑکے کبھی کبھی آکر کھیلتے اور شور مچاتے ۔ اوپر والے کو لڑکوں کا شور پسند نہ تھا ۔ اس نے منع کیا مگر لڑ کے نہ مانے۔ آخر ایک دن غصہ میں آکر اس نے یہ کیا کہ لڑکوں کے اوپر چھت سے گندا پانی گرا دیا۔ لڑکے اس میں بھیگ گئے۔ اب لڑکوں کے غصہ کی باری تھی ۔ انھوں نے آپے سے باہر ہو کر چھت کی طرف اینٹ کے ٹکڑے پھینکنے شروع کیے جو نیچے پڑے ہوئے تھے۔ ایک ٹکڑا آکر واش بیسن پر گرا جو اوپر والے کے مکان میں باہر کی جانب لگا ہوا تھا ۔ چینی کا واش بیسن فوراً ٹوٹ گیا۔ لڑکے تو چند منٹ کے بعد بھاگ گئے۔ مگر اس کا ٹوٹا ہوا قیمتی واش بیسن اس واقعہ کی افسوس ناک یاد گار بن کر باقی رہ گیا۔ آدمی نے اگر لڑکوں کے شور کی طرف سے اپنے کان بند کر لیے ہوتے تو وہ شور سے بھی بچ جاتا اور واش بیسن کے نقصان سے بھی۔
