قناعت کا میابی کاراز
ایک عوامی مثل ہے۔ یہ مثل زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے اس مثل کے الفاظ یہ ہیں’’:آدھی چھوڑ کے پوری دھاوے، پوری ملے نہ آدھی پاوے‘‘۔
اصل یہ ہے کہ انسان بیشتر حالات میں اپنی خواہشات اور اپنی امنگوں (ambitions) کے تحت سوچتا ہے اس بنا پر اکثر وہ ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جو حقیقی حالات کے اعتبار سے اس کے لیے قابل حصول نہیں ہوتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا عمل انجام کے اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوتا ہے، وہ ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش میں ممکن کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ موجود ہ زمانہ میں اکثر مشہور مسلم رہنما ؤں کی کہانی یہی ہے۔ انہوں نے حقائق کی رعایت کئے بغیر محض اپنی خواہشوں اور امنگوں کے تحت بڑی بڑی چھلانگ لگادی، اس کا نتیجہ ملت کے حصہ میں تباہی کے سوا کچھ اور نہ آیا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کیلیے چند مثالیں لیجیے۔
1۔ سردار شوکت حیات خاں مشہور پاکستانی لیڈر ہیں۔ وہ متحدہ پنجاب کے سابق وزیر اعظم مرحوم سکندر حیات خان کے صاحبزادے ہیں۔ سردار شوکت حیات خان نے اپنے کیریر کا آغاز دوسری جنگ عظیم میں فوجی افسر کی حیثیت سے کیا۔ 1943 میں مسلم لیگ کی سیاست میں سرگرم طور پر شامل ہوگئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ پنجاب کے وزیر بنے اور وہاں کے دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔
سردار شوکت حیات خان نے اپنی زندگی کے حالات پر ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی ہے، جس کا نام ہے― دی نیشن دیٹ لوسٹ اٹس سول:
The Nation that Lost its Soul (1995, pp. 376)
اس کتاب کا اردو ترجمہ ’’گم گشتہ قوم‘‘ دسمبر 1995ء میں پاکستان سے چھپا ہے۔ کتاب کا یہ اردو ایڈیشن 461صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے ناشر جنگ پبلشر زلا ہور ہیں۔ اس کتاب کے ایک باب کا عنوان ’’ لیاقت علی خاں‘‘ ہے۔ جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ اس با ب میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
’’ نواب زادہ لیا قت علی خان ‘‘ کو حقائق اور ملک کے جغرافیہ سے بھر پور واقفیت نہ تھی۔ جس کے وہ پہلے وزیر اعظم بن چکے تھے ........بعد میں کشمیر پر حملہ کے دوران جب لارڈماؤنٹ بیٹن لاہور آیا۔ایک ڈنر جس میں لیاقت، گورنر مودی اور پنجاب کے چار وزیر موجود تھے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سردار پٹیل کا پیغام پہنچایا۔ پٹیل جو ہند ستان کی ایک طاقتور شخصیت تھا۔ اس کا پیغام تھا کہ اس اصول کی پابندی کی جائے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں طے پایا تھا وہ یہ کہ ریاست اپنے باشندوں کی اکثریت اور سرحدوں کے ساتھ ملاپ کی بنا پر پاکستان یا ہندستان کے ساتھ الحاق کریں گی۔ پٹیل نے کہا کہ پاکستان کشمیر کو لے لے اور حیدر آباد دکن کا مطالبہ چھوڑ دے جہاں پر ہندو آبادی کی اکثریت تھی اور جس کا پاکستان کے ساتھ زمینی یا سمندری ذریعہ سے کوئی اتصال بھی نہ تھا۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہا ؤس میں آرام کرنے چلا گیا۔
میں کشمیر آ پریشن کا مکمل نگراں تھا۔ میں نے لیاقت علی خاں کے پاس جا کرانہیں تجویز دی کہ ہندستان کی فوج جو کشمیر میں داخل ہوچکی ہے ہم قبائلیوں کی مددسے اس کو باہر نکالنے اور کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ یہاں تک کہ ہماری اس وقت کی فوج بھی اس کامیابی کے حصول میں شاید مددگار ثابت نہ ہوسکے گی۔ لہٰذا ہمیں سردار پٹیل کی پیشکش کوٹھکرانا نہیں چاہئے۔ نواب زادہ نے میری جانب مڑ کر کہا ’’ سردار صاحب ، کیا میں پاگل ہوگیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدر آباد دکن کو چھوڑ دوں جو پنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے‘‘۔
پرائم منسٹر کے اس رد عمل کو دیکھ کر میں تو سن ہوگیا کہ ہمارا وزیر اعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدر آباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تو احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات تھی۔ حیدر آباد کا حصول ایک سراب تھا جب کہ کشمیر اپنے آپ مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج کے طور پر میں نے کشمیر آ پریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا ( صفحہ 232-231)۔
سردار شوکت حیات خاں کا یہ بیان اس درد ناک حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر کس طرح مذکورہ مثل کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ممکن اور ناممکن کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ نہ ملنے والی چیز کو پانےکے لیے دوڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھوئی گئی اور نہ ملنے والی چیز تو سرے سے ملنے والی ہی نہ تھی۔
2۔اب اس نوعیت کی ایک اور مثال لیجئے۔ اس مثال کا تعلق 1947سے پہلے کے دور سے ہے جب کہ برصغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ اس مثال کو ارودہفت روزہ الجمعیۃ سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس امروہہ (5-3مئی1930ء) سے کچھ روز قبل وائسرائے ہند کی کونسل کے ایک ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم نے سحبان الہند حضرت مولانا احمدسعید دہلوی کو بلا کر یہ پیش کش کی کہ آ پ جمعیۃ علماء کے اجلاس امروہہ میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائداد بمعہ اراضی جمعیۃ علماء ہند کے علمی کاموں کے لیے دلوادوں گا۔ حضرت مولانا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا’’ میاں صاحب !تمام علما کرام وزعما عظام مجھے بے وقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم پورے ملک کو حا صل کرنے کی تجویز پاس کررہے ہیں۔ اورتم صرف ایک مقبرہ وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت پر فیصلہ کررہے ہو۔ مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ حضرت مولانا نے راقم الحروف سے خود بیان فرمایاتھا۔ (جمعیۃ علماء ہند کا پچاس سالہ عہد از شیخ عبدالحق پراچہ دہلوی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی ، مطبوعہ الجمعیۃ ویکلی، دہلی، 2 جنوری 1970ء، صفحہ8)۔
1930ء کے اس واقعہ کو اب 75سال کے بعد کے حالات کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملہ میں وہی صورت پیش آئی جس کا ذکر مذکورہ عوامی مثل میں کیا گیا ہے ، پچہترسال پہلے کے رہنماؤں کو ایک نہایت قیمتی موقع کسی کو شش کے بغیر مل رہا تھامگر وہ اس قیمتی موقع سے صرف اس لیے فائدہ نہ اٹھا سکے کہ ان کے ذہن میں ایک بہت بڑی چیز بسی ہوئی تھی۔اگرچہ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے وہ چیز انہیں ملنے والی ہی نہ تھی۔
انگریزوں کی مذکورہ پیش کش اپنے امکانات کے اعتبار سے وہی اہمیت رکھتی تھی جس کی پیش کش مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ میں انگریز تا جر کو کی گئی۔ اور اس نے اس کو فوراً قبول کرلیا۔ پچہتر سال پہلے کے مسلم رہنما اگر انگریز کی مذکورہ پیش کش کو قبول کرلیتے اور اس کو علمی اور تعلیمی اور دعوتی مرکز بنادیتے تو اس کے نتا ئج اتنے دور رس نکلتے کہ شاید تاریخ کا نقشہ ہی کچھ دوسرا ہوتا۔
اوپر جو دو مثالیں پیش کی گئیں یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مشہور رہنما ؤں کے ساتھ پیش آ یا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے کام کے عظیم مواقع موجود تھے۔ مگر تقریباً ہر ایک کایہ حال ہوا کہ وہ ناممکن کو نشانہ بنا کر اس کی طرف دوڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو بھی حا صل نہ کرسکا اور ناممکن تو حا صل ہونے والا ہی نہ تھا۔
مثلاً سید جمال الدین افغانی کو ترکی کی عثمانی سلطنت نے کام کے عظیم مواقع دیے مگر جمال الدین افغانی خود عثمانی سلطنت کی جڑا کھاڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ترکی کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، مصر کے سید قطب کو وزرات تعلیم بہت چھوٹی چیز لگی۔ وہ خود ناصر کے سیاسی اقتدارکو ختم کرنے کے درپے ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہونا پڑا۔
یہی معاملہ پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ پیش آ یا۔ وہاں کے سابق حکمراں صدر محمد ایوب خاں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیش کش کی کہ وہ حکومت کے مکمل تعاون سے پاکستان میں بڑے پیمانہ پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائیں اور اس کے ذریعہ وہ نئی نسل کی تعلیم وتربیت پر کام کریں۔ مگر دوبارہ یہی ہوا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کو مذکورہ پیش کش چھوٹی معلوم ہوئی۔ انہوں نے پوری حکومت پر قبضہ کرنے کی دھنوادھار تحریک شروع کردی مگر تمام کوششوں کے بعد آخر کار جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہو کر رہ گئے۔
یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلم رہنماؤں کی کہانی ہے۔ وہ اپنی خیالی امنگوں میں اتنا گم ہوئے کہ انہیں حقائق وواقعات کی خبر نہ ہوسکی۔ وہ بڑے بڑے نشانوں کو اپنا مقصد بنا کر ان کی طرف دوڑتے رہے، حالانکہ یہ نشانے سرے سے ان کےلیے قابل حصول ہی نہ تھے۔ اور جو چیز ان کے لیے حالات کے اعتبار سے قابل حصول تھی وہ انہیں دکھائی ہی نہ دی۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا نتیجہ ہے کہ ان مشہور رہنماؤں نے صرف ناکام اقدامات کی مثالیں قائم کیں ، وہ کامیاب اور نتیجہ اقدام کی مثال قائم نہ کرسکے۔ زیادہ کو پانے کی کوشش میں وہ تھوڑے سے بھی محروم رہے۔
مسلم رہنماؤں کی اس بھیانک غلطی کا سبب یہ تھا کہ تھوڑے کو وہ صرف تھوڑا سمجھے، وہ تھوڑے کو زیادہ کے روپ میں نہ دیکھ سکے۔وہ زندگی کے اس راز سے نا آشنار ہے کہ عمل کا آغاز ہمیشہ تھوڑے سے کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے عمل کا آغاز ممکن نہیں، جو آدمی اس راز کو سمجھ لے وہ تھوڑے سے شروع کر کے آخر کار زیادہ تک پہنچ جائے گا۔ اور جوشخص اس راز کونہ سمجھے وہ اپنے غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہ پائے گا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز پالے وہ کبھی نہ کبھی اپنی منزل تک پہنچ جائے گا ، اور جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز نہ پائے وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچے گا خواہ وہ ساری عمر بے فائدہ دوڑ ودھوپ کرتا رہے۔ زندگی کے اسی اصول کانام دینی اصطلاح میں قناعت ہے اور قناعت بلاشبہ ہر قسم کی انفرادی اور اجتماعی کا میا بیوںکا واحد راز ہے۔
ایک روایت حد یث کی مختلف کتابوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ مثلا ًمسلم کتاب الزکاۃ۔ الترمذی ، کتاب الزھد ، مسند احمدبن حنبل ، وغیرہ۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں:أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاه ُ(مسنداحمد، حدیث نمبر6572)۔یعنی، اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو اس پر قناعت دی جو اس کو اس نے دیا۔
اس حدیث کو عام طور پر انفرادی معنوں میں اور معاشی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔ مگر وہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے ، اس حدیث کا پورا مطلب یہ ہے کہ افراد یا قوموں کو موجودہ زمانے میں جو کچھ ملے یا حالات کے اعتبار سے جوا ن کے لیے ممکن ہو اس کو وہ خوش دلی کے ساتھ قبول کرلیں، اس پر راضی رہتے ہوئے وہ اپنا علم شروع کردیں۔ اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ملے ہوئے کو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ جو کچھ ان کو حال میں حاصل نہیں ، وہ ان کی منصوبہ بند جدوجہد کے نتیجہ میں مستقبل میں حاصل ہوجائے۔
