ایک عبرت انگیز واقعہ
قویلہ خاں ( چنگیز خاں کا پوتا )655 ھ میں چنگیز خاں کے تحت حکومت پر بیٹھا۔ یہ حکومت اس وقت چین سے لے کر یورپ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسلامی سلطنت بہت ضعیف حالت میں تھی۔ عیسائی، مجوسی اور یہودی مغلوں کے دربار میں رسوخ حاصل کر کے اسلام اور مسلمانوں سے ان کو متنفر کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ ابا قاخان ابن ہلا کو خاں نے خراسان سے قویلہ خاں کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ مجھ کو یہودیوں اور مجوسیوں نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کی کتاب قرآن میں لکھا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو، آپ کا اس تعلیم کے متعلق کیا خیال ہے۔ اگر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ہم کو جہاں پائیں قتل کریں تو ایسی حالت میں مسلمانوں کی قوم کا دنیا میں باقی رہنا ہمارے لیے ایک مستقل اندیشہ کا باعث ہے۔ قویلہ خاں اسلام سے متاثر تھا چنانچہ اپنی حکومت میں اس نے ایک وزیر مسلمان بھی رکھا تھا جس کا نام امیر احمد بنا کتی تھا۔ ابا قاخاں کی اس عرضداشت کو پڑھ کر قویلہ خاں نے بعض مسلمان علما کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہارے قرآن میں ایسا حکم موجود ہے۔ انھوں نے کہا ہاں یہ حکم قرآن میں ہے‘‘۔ قویلہ خاں نے کہا کہ پھر تم ہم کو قتل کیوں نہیں کرتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس وقت ہم قوت نہیں رکھتے۔ جب قوت پائیں گے ، تم کو قتل کر دیں گے۔ قویلہ خاں نے کہا کہ اب چونکہ ہم قدرت رکھتے ہیں لہٰذا ہم کو چاہیے کہ ہم تمھیں قتل کریں۔ یہ کہہ کر اس نے ان علما کو قتل کر دیا اور حکم جاری کیا کہ مسلمانوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ یہ خبر مولانا بدرالدین بیہقی اور مولانا حمید الدین سمرقندی کو ملی تو وہ قویلہ خاں کے دربار میں گئے اور کہا کہ آپ نے مسلمانوں کے قتل عام کا حکم کیوں جاری کیا۔ قویلہ خاں نے کہا یہ بتاؤ ’’فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ‘‘ (9:5) کا حکم جو تمہارے قرآن میں ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔ دونوں عالموں نے کہا کہ عرب کے بت پرست جو مسلمانوں کے قتل پر ہمہ تن آمادہ تھے۔ ان کی نسبت خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ اپنی حفاظت کے لیے ان کو قتل کرو۔ یہ حکم تمہارے لیے نہیں ہے کیوں کہ تم تو خدا کی وحدانیت کے قائل ہو اور اپنے فرمان کے اوپر خدا کا نام ہمیشہ لکھتے ہو۔ یہ سن کر قویلہ خاں بہت خوش ہوا اور اسی وقت حکم صادر کیا کہ میرا پہلا حکم جو مسلمانوں کے قتل کی نسبت جاری ہوا اس کو منسوخ سمجھا جائے(379-80)۔
سطحی علم اور گہرے علم کا فرق اس واقعہ سے واضح ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کے پاس گہرا علم نہ ہو ، اس کو چاہیے کہ چپ رہے، نہ کہ بے معنی باتیں بول کر غیر ضروری مسائل پیدا کرے۔
