تبلیغ عام
دھیرے دھیرے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں اسلام میں داخل ہو گئیں۔ یہاں تک کہ مکہ میں اسلام پھیل گیا اور ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ اسلام کی تعلیم کو کھلم کھلا بیان کریں۔ ابن اسحاق کے مطابق ، تین سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انفرادی طور پر خاموشی کے ساتھ تبلیغ کرتے رہے۔ تین سال بعد سورہ مدثر میں یہ حکم دیا گیا کہ توحید کا عمومی اعلان کرو اور کسی کمی کے بغیر اس کو لوگوں کے سامنے بیان کر دو۔
اب مکہ کے مشرکین کی طرف سے سخت مخالفت ہونے لگی۔ اس وقت رسول اللہ کو ٹکراؤ کے بجائے اعراض (الحجر،15:94) کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اس زمانہ میں ایسا کرتے کہ جب نماز کا وقت آتا تو آبادی کے باہر گھاٹیوں میں چلے جاتے اور لوگوں سے چھپ کر نماز پڑھتے۔
ابن اسحٰق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی قوم کے سامنے اسلام کااظہار کیااور کھلم کھلا اس کا اعلان فرمایا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا تو آپ کی قوم نے ابتدامیں آپ سے دوری اختیار نہ کی۔ یہاں تک کہ آپ ان کے بتوں کا ذکر کرنے لگے اوران پر تنقید کی۔ جب آپ نے ایسا کیا تو انہوں نے آپ کے معاملہ کو اہمیت دی اور آپ سے اجنبیت پرتنے لگے۔ وہ آپ کی مخالفت اور دشمنی پرمتحد ہو گئے۔ سوا ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ بچا لیا۔ ایسے لوگ تھوڑے تھے اور چھپے ہوئے تھے۔
آپ کے چچا ابو طالب اگرچہ آپ پر ایمان نہیں لائے تھے مگر اس موقع پر انہوں نے آپ کا پوراساتھ دیا۔ وہ آپ کی حفاظت اورامداد کے لیے سینہ سپر ہو گئے۔
قریش نے جب دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتے جو کہ قریش کو سخت ناپسند تھا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دیکھاکہ ابوطالب آپ کی سرپرستی کر رہے ہیں اور حفاظت پر کمربستہ ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی حال میں بھی قریش کے حوالے کرنے پر تیار نہیں ، تو قریش کے بڑے بڑے سردار ابو طالب کے پاس جمع ہو گئے۔ ان کے نام ہیں__ عتبہ، شیبہ ، ابو سفیان، ابو البختری الاسود ، ابو جہل، الولید ، العاص، وغیرہ۔
ان لوگوں نے ابو طالب سے کہا کہ آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا کہا، ہمارےدین پرعیب لگایا، ہم میں سے عقل مندوں کو بیوقوف بتایا اور ہمارے بڑوں کو گمراہ ٹھہرایا۔ اب آپ یا توان کو ایسی باتوں سے روک دیں یا ہمارے اور ان کے درمیان دخل نہ دیں، کیوں کہ آپ بھی اسی دین پر ہیں جس پر ہم لوگ ہیں۔ ہم خود ان کا بندوبست کر لیں گے۔
ابو طالب نے نرمی کے ساتھ ان کی باتیں سنیں اور ان کو حکمت کے ساتھ واپس کر دیا۔ چنانچہ وہ لوگ اس وقت لوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طریقہ پر قائم رہے اور اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو بلاتے رہے۔ اس کے نتیجہ میں آپ کے اور مشرکوں کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو گئے۔ قریش کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا رہتا، وہ ایک دوسرے کو آپ کے خلاف ابھارتے۔
قریش کے سردار دوبارہ ابو طالب کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو طالب ، آپ ہم میں عمر اور نسب اور مرتبہ کے لحاظ سے خاص درجہ رکھتے ہیں۔ ہم نے آپ سے کہاتھاکہ اپنے بھتیجے کو ہم سے روکیں۔ مگر آپ نے ان کو نہیں روکا۔ خدا کی قسم، ہم اس حالت پر صبر نہیں کر سکتے کہ ہمارے بزرگوں کو گالیاں دی جائیں ، ہمارے عقل مندوں کو بے وقوف بتایا جائے اور ہمارے معبودوں پر عیب لگایا جائے۔ اب یا تو ہم ان کو اس سے روک دیں گے یا ان سے جنگ کریں گے۔ پھر آپ اس میں دخل نہیں دیں گے ، یہاں تک کہ دونوں گروہوں میں سے کوئی ایک ہلاک ہو جائے۔
اس کے بعد وہ لوٹ گئے۔ ابو طالب پر اپنی قوم کی جدائی اور اس کی دشمنی بہت شاق گزری۔ ان کو یہ بھی گوارانہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالہ کر دیں اور ان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیں۔ قریش نے جب ابو طالب سے یہ بات کہی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور آپ سے کہاکہ اے بھتیجے ، تمہاری قوم میرے پاس آئی اور مجھ سے ایسا اور ایسا کہا۔ پس تم مجھ پر رحم کرو اور خود اپنے آپ پر بھی۔ اور میرے اوپر اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کی برداشت میرے اندر نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان ہواکہ آپ کے چچا کی رائے بدل گئی ہے ، اب وہ آپ کی حمایت کرنا چھوڑ د یں گے اور آپ کو قریش کے حوالے کر دیں گے۔ آپ نے ابوطالب سے کہا کہ اے میرے چچا ، خدا کی قسم، اگر وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں اور چاہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں ، تب بھی میں اس کو نہ چھوڑوں گا ، یہاں تک کہ اللہ اسے غالب کر دے یا میں اسی میں ہلاک ہو جاؤں۔
یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور آپ رو پڑے۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر وہاں سے جانے لگے۔ جب آپ واپس ہوئے تو ابوطالب نے آپ کو پکارا اور کہا کہ بھتیجے یہاں آؤ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے۔ ابو طالب نے کہاکہ اے میرے بھتیجے ، جاؤ اورجو کہنا چاہتے ہو کہو۔ خدا کی قسم، میں کسی بھی قیمت پر ہرگز تمہیں ان کے حوالے نہیںکروں گا۔
قریش نے سمجھ لیا کہ ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ آپ علٰیحدگی اختیارکرنے پر آمادہ ہیں۔ اس معاملہ میں وہ پوری قوم کی مخالفت کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ عمارہ بن الولید بن المغیرہ کو لے کر ابو طالب کے پاس گئے اورکہاکہ اے ابو طالب ، یہ عمارہ بن الولید بن المغیرہ ہے جو قریش میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ خوبصورت آدمی ہے۔ اس کو اپنے پاس رکھئے اور اس کو اپنا بیٹا بنا لیجیے ، وہ آپ کے لیے ہے۔ اور آپ اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالے کر دیجئے جس نے آپ کے دین کی اور آپ کے آباء کے دین کی مخالفت کی اور آپ کی قوم میں تفریق پیدا کی اور ان کے عقل مندوں کو بے وقوف بتایا ، تاکہ ہم اس کو قتل کر دیں۔ آپ کو ہم ایک شخص کے بدلے ایک شخص دے رہے ہیں۔
ابو طالب نے کہا کہ خدا کی قسم ، تم مجھ سے کتنا برا معاملہ کر رہے ہو۔ کیاتم مجھ کو اپنا بیٹا دے رہے ہوکہ میں اس کو تمہاری خاطر کھلاؤں،اور تم کو میں اپنا بیٹا دے دوں کہ تم اس کو قتل کر ڈالو۔ خدا کی قسم، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ مطعم بن عدی نے کہا کہ اے ابو طالب ، خدا کی قسم، تمہاری قوم نے تم سے انصاف کی بات کہی ہے اور جس بات کو تم ناپسند کرتے ہو اس سے بچنے کی پوری کوشش کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ان کی کوئی بات ماننا نہیں چاہتے۔ ابو طالب نے مطعم سے کہا کہ خدا کی قسم، انہوں نے مجھ سے انصاف نہیں کیا ، مگر تم نے پختہ کر لیا ہے کہ میرے خلاف اپنی قوم کی حمایت کرو۔ پھر جاؤ، جو تمہارے جی میں آئے کرو۔
قریش کے قبائل میں سے کچھ افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ قریش کے سرداروں نے ان اصحاب رسول کے خلاف لوگوںکو ابھارا تو ہر قبیلہ اپنے اندر کے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ وہ انہیں سخت تکلیف دیتے اور ان کو ان کے دین سے پھیرنے کی کوشش کرتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آپ کے چچا ابو طالب کی وجہ سے محفوظ رکھا۔ جب ابو طالب نے قریش کی یہ کارروائیاں بنو ہاشم اور بنو مطلب میں دیکھیں تووہ اٹھ گئے اور آپ کی حمایت کے لیے ان سب کو پکارا جس پر وہ خود قائم تھے۔ اس کے بعد تمام بنو ہاشم آپ کی حمایت پر جم گئے۔ انہوں نے ابو طالب کی پکار پر لبیک کہا۔ صرف ابولہب نے اس معاملہ میں ساتھ نہیں دیا۔
اس کے بعد قریش کے کچھ لوگ ولید بن المغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ وہ عمر کے لحاظ سے ان میں سب سے زیادہ بزرگ آدمی تھا۔ اس وقت حج کا زمانہ قریب تھا۔ ولید نے ان سے کہاکہ اے گروہ قریش، حج کا زمانہ قریب آ چکا ہے۔ جلد ہی عرب کے لوگ تمہارے پاس آئیں گے۔ انہوں نے تمہارے صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کا حال سن لیا ہے۔ تم لوگ اس معاملہ میں کوئی ایک رائے قائم کر لو۔ ایسا نہ کہ تم مختلف باتیں کہو اور اس طرح ایک دوسرے کی تردید کرنے لگو۔ انہوں نے کہا کہ اے ابو عبد شمس ، تم ہی کچھ کہو اور ہمارے لیے ایک ایسی رائے دو کہ ہم بھی وہی کہیں ۔ ولید نے کہاکہ نہیں ، تم کہو میں سن رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ وہ کاہن ہے۔ ولید نے کہا کہ نہیں ، خدا کی قسم، وہ کاہن نہیں۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کا گنگنانا یا کاہنوں کی قافیہ آرائی نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم اس کو دیوانہ بتائیں گے۔ ولید نے کہا کہ نہیں ، وہ دیوانہ بھی نہیں۔ ہم نے دیوانوں کو دیکھا ہے اور ان کو جانتے ہیں۔ اس کی حالت اختناق کی نہیں، نہ اختلاج کی سی ہے اور نہ وہ شیطانی وسوسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم اس کو شاعر کہیں گے۔ ولید نے کہا کہ وہ شاعر بھی نہیں ہم شعر کی تمام قسموں کو جانتے ہیں۔ اس کا کلام شاعرانہ کلام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر ہم اس کو جادوگر کہیں گے۔ ولید نے کہا کہ وہ جادوگر بھی نہیں۔ ہم نے جادوگروں کو اور ان کے جادو کو دیکھا ہے۔ اس کے یہاں نہ جادوگروں جیسا پھونکنا ہے اور نہ ان کی جیسی گرہیں ہیں۔
لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبد شمس ، پھر ہم کیا کہیں۔ ولید نے کہا کہ خدا کی قسم، اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے۔ اس کی جڑ بہت شاخوں والی ہے اور اس کی شاخیں پھلوں والی ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے ، اس کا بے بنیاد ہونا ظاہر ہو جائے گا۔ اس کے بارے میں قریب تر بات یہ ہے کہ تم کہو کہ وہ جادوگر ہے۔ وہ ایک ساحرانہ کلام لے کر آیا ہے جس کے ذریعہ سے وہ باپ اور بیٹے ، بھائی اور بھائی ، میاں اور بیوی اور آدمی اور اس کے خاندان کے درمیان پھوٹ ڈالتا ہے۔ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا اور وہ وہاں سے چلے گئے۔
پھر جب حج کا موسم آیا اور لوگ اِدھر اُدھر سے آنے لگے تو یہ لوگ ان کے راستوں پر بیٹھ جاتے۔ جو شخص ان کے پاس سے گزرتا ، اس کو آپ سے ڈراتے اور اس سے آپ کا حال کہتے۔ حج کے بعد جب لوگ اپنی بستیوں کو واپس ہوئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی خبریں لے کر واپس ہوئے۔ چنانچہ آپ کی شہرت عرب کی تمام بستیوں میں پھیل گئی۔ جس دین کی بابت ابتدا میں صرف مکہ کے کچھ لوگ جانتے تھے ، اس کو عرب کے تمام قبیلوں نے جان لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دین توحید کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو ابتداء میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے جاننے والے لوگوں اور قریبی رشتہ داروں سے مل کر کہتے کہ مجھ کو اللہ نے اپنا رسول بنایا ہے ، میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ تم میرے اوپر ایمان لا کر خدا کی جنت کے مستحق بنو۔
کچھ افراد نے آپ کی بات کو مانا اور کچھ افراد نے اس کو غیر اہم سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔
اس کے بعد آپ نے مزید افراد سے ملنا شروع کیا۔ جب بھی آپ کو معلوم ہوتا کہ چند افراد ایک مقام پر جمع ہیں یا باہر سے کچھ لوگ زیارت کعبہ کے لیے مکہ آئے ہیں تو آپ ان کے پاس جاتے اور ان سے مل کر انہیں اپنی دعوت پیش کرتے۔ ایک بار آپ ابوسفیان اور ہند ہ سے ملے۔ آپ نے ان سے کہا کہ خدا کی قسم ، تم مرو گے۔ اس کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر اچھے عمل والا آدمی جنت میں داخل کیا جائے گا اور برے عمل والا آدمی جہنم میں۔ مگر وہ لوگ اس وقت آپ پر ایمان نہ لائے۔
اس کے بعد آپ بڑے اجتماعات میں جانے لگے۔ جہاں آپ کو معلوم ہوتا کہ کچھ لوگ جمع ہیں۔ وہاں آپ جاتے اور لوگوں کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرتے اور ان کو قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناتے۔ مثلاً حرم کا اجتماع ، موسمی میلے ، اور بازار، وغیرہ۔ کبھی ان کو اس طرح خطاب کرتے:يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا:لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر16022 )۔ یعنی۔اے لوگو، کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، تم فلاح پاؤ گے۔
مگر بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی شخص آپ کی دعوت کو سنجیدگی کے ساتھ سنے اور اس کو قبول کرے۔
