وہ بادشاہ ہو کر بھی
اعتراف کرنا جانتے تھے
معاویہ بن ابی سفیان (604-680ء) نے اپنی خلافت کے زمانہ میں جمعہ کا خطبہ دیا اور کہا: أيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ المَالَ مَالُنا، وَالفَيْءَ فَيْئُنا، مَنْ شِئْنَا أَعْطَيْنَاهُ، وَمَنْ شِئْنَا مَنَعْنَاهُ (المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر 925)۔ یعنی، اے لوگو، ساری دولت ہماری دولت ہے اور سارا مال غنیمت ہمارا مال ہے۔ ہم جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔
کسی نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ جب دوسرا جمعہ آیا تو انہوں نے پھر یہی بات دہرائی۔ مگر کوئی نہ بولا۔ پھر جب تیسرا جمعہ آیا تو معاویہ نے پھر یہی بات کہی۔ اب ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا:
يَا مُعَاوِيَةُ! كَلَّا، إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنا، وَالْفَيْءَ فَيْئُنا، مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَؤُلَاءِ بِأَسْيَافِنَا۔ ہرگز نہیں۔ مال ہمارا ہے۔ مال غنیمت بھی ہمارا ہے۔ جو شخص ہمارے اور اس کے درمیان حائل ہو گا، ہم اپنی تلوار کے ذریعہ اس کا فیصلہ اللہ کے پاس لے جائیں گے۔
یہ سن کر معاویہ منبر سے اتر آئے۔ اس شخص کو بلوایا۔ جب اسے معاویہ کے پاس داخل کیا گیا تو لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص مارا گیا۔ لیکن معاویہ نے دروازے کھول دیے۔ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ شخص معاویہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ معاویہ نے کہا: اللہ اس شخص کو زندہ رکھے، اس نے مجھے زندہ کر دیا (إِنَّ هَذَا أَحْيَانِي، أَحْيَاهُ اللهُ)، میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ’’میرے بعد کچھ امرا ایسے آئیں گے جو باتیں کہیں گے مگر ان کا جواب انہیں دیا جائے گا۔ ایسے لوگ آگ میں بندروں کی طرح داخل ہوں گے۔ میں نے ایک بات کہی تھی، کسی نے اس کی تردید نہ کی تو مجھے ڈر ہوا کہ میں ان امراء میں داخل نہ ہو جاؤں۔ میں نے دوبارہ وہی بات کہی۔ پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں انہیں لوگوں میں سے ہوں۔ پھر میں نے تیسرے جمعہ میں وہی بات کہی تو یہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے میری تردید کی۔ اللہ اسے زندہ رکھے۔ اس نے مجھے زندہ کر دیا۔ اب مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے ایسے امراء کے زمرہ سے نکال دے گا۔ پھر معاویہ نے اس شخص کو انعام دیا (المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر 925)۔
