معاملہ برابرہوگیا
دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اورجاپان ایک دوسرےکےحریف تھے۔دونوں ایک دوسرےکونقصان پہنچارہے تھے۔ اس کاخاتمہ اس طرح ہواکہ امریکہ نے 1945ء میں جاپان کےاوپردوایٹم بم گرادیے۔اس کےنتیجہ میں جاپان کےدو صنعتی شہرتباہ ہوگئے۔ اس واقعہ نےعام جاپانیوں کوسخت غصہ کردیا،وہ امریکہ سےانتقام کی باتیں کرنےلگے۔
یہ ایک بے حدنازک موقع تھا۔ جاپان اگر انتقام کے راستے پر چلتا تو وہ اس کے لیے صرف مزیدتباہی کاسبب بنتا۔ مگر اس وقت جاپان کے رہنماؤں اور دانشوروں نے ایسی باتیں کیں جنہوں نےجاپانیوں کےذہن کومنفی رخ سےہٹاکرمثبت رخ پر ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1945 میں اگر امریکہ نے ہمارے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا ہے تو ہم بھی اس سے پہلے 1941ء میں ان کے بحری مرکزپرل ہاربرکو تباہ کرچکے ہیں۔ اس طرح دونوں کے درمیان معاملہ برابر ہوگيا۔ اب تم اس کو بھلادو اور جاپان کی نئی تعمیر میں لگ جاؤ۔ اس متوازن سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان چالیس سال کے اندر پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ملک بن گيا۔
جب بھی دوفریقوں کےدرمیان نزاع کی صورت پیداہوتی ہےتوہرفریق کی سوچ یک طرفہ رخ پرچلنےلگتی ہے۔ہرفریق یک طرفہ طورپرصرف دوسرےفریق کی زیادتیوں کو یاد رکھتا ہے اور اس کو بیان کرتا ہے۔ اس طرز فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی سوچ غیرمتوازن ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے حصہ کی زیادتی کو بھلاکر صرف دوسرے کے حصہ کی زیادتی کو یاد رکھتے ہیں۔ سوچنے کا یہ طریقہ ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوتاہے،افرادکےلیے بھی اور قوموں کےلیے بھی۔ اس غیر متوازن طرزفکر کو قرآن میں تطفیف کہا گیا ہے اور اُس پر ویل کی خبر دی گئی ہے (المطففین،83:1-6)۔ نزاعی معاملات میں غیر متوازن طرز فکر ہمیشہ تباہی کاسبب بنتاہے،اورمتوازن طرز فکر ہمیشہ ترقی کی طرف لےجاتاہے۔
