اصل رکاوٹ
کہا جاتا ہے کہ اسلامی دعوت کے حق میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسلامی اعمال والے لوگ نہیں۔ عام انسان صرف مثال کے ذریعہ انقلابی تاثر قبول کر تا ہے ، نہ کہ علمی بحثوں اور عقلی دلیلوں کے ذریعے۔ مگر ہماری بے بسی یہ ہے کہ ہم مدعو سے یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ— دیکھو یہ ہے اسلامی انسان، دیکھو یہ ہے اسلامی گھرانا، دیکھو یہ ہے اسلامی جماعت۔
یہ بات ظاہر نہایت درست معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ آدھی صداقت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس قول کی کوئی قیمت نہیں جس کے ساتھ عمل کی مطابقت شامل نہ ہو۔ اس اعتبار سے داعی کو بلاشبہ باعمل ہونا چاہیے۔ مگر یہ نہایت سادگی کی بات ہوگی کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ داعی اگر باعمل ہو تو تمام لوگ فوج در فوج اس کے ساتھی بن جائیں گے۔
یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ تمام انبیاء اپنے عمل کے اعتبار سے معیاری انسان تھے۔ وہ بلاشبہ مثالی کردار کے حامل تھے۔ پھر کیا ان نبیوں کو دیکھ کر سارے لوگ جوق درجوق ان کے مومن بن گئے۔ قرآن بتاتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہوا ۔ تمام نبیوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کر دیا۔ کردار و عمل کی تمام خوبیوں کے باوجود وہ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ (یٰس،36:30)
حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو اختیار کرنے میں اصل رکاوٹ داعی کا عمل نہیں بلکہ مدعو کی مفاد پرستی ہے۔ داعی کی بات کو ماننے کے لیے لوگ اس لیے تیار نہیں ہوتے کہ اس کی بات ماننے سے لوگوں کی بڑائی ختم ہوتی ہے۔ ان کی اَنا کا بُت ٹوٹتا ہے۔ ان کے مفادات اور مصلحتوں کا تانا بانا منتشر ہوتا ہے۔ اپنی بنی بنائی زندگی کو توڑ کر ازسرِ نَو ایک نئے نقشے پر زندگی کی تعمیر کرنی پڑتی ہے۔ خاندانی روابط، سماجی تعلقات اور قومی بندھنوں کا سارا ڈھانچہ بگڑ کر رہ جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لوگ خودپرست ہیں، اس لیے وہ خدا پرست بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور یہی حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ نسلِ انسانی کے سب سے بہتر اور مثالی افراد(انبیاء علیہم السلام) کا بھی لوگوں نے اعتراف نہیں کیا، بلکہ حقارت کے ساتھ ان کو نظر انداز کر دیا۔
