جمعۃ الوداع
رمضان کے مہینہ کے آخری جمعہ کو جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ جمعہ کا دن اسلام میں خصوصی اہمیت کا دن ہے ، اور رمضان کا مہینہ خصوصی اہمیت کا مہینہ ، اس طرح جمعۃ الوداع گویا رمضان اور جمعہ دونوں کی خصوصیات کی یکجائی کا مہینہ ہے۔ اس دن مسلمانوں میں قدرتی طور پر زیادہ دینی جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جمعۃ الوداع کا دن ، عام دنوں سے زیادہ رحمتوں اور برکتوں کا دن بن جاتا ہے۔
رمضان کے مہینہ میں عبادت کا ثواب عام مہینوں سے زیادہ ہے۔ اسی طرح جمعہ کے دن عبادت کا ثواب عام دنوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے جمعۃ الوداع آتا ہے تو مسلمان زیادہ بڑھے ہوئے ذوق و شوق کے ساتھ عبادات انجام دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ آج کے دن انھیں اپنے عمل کا زیادہ ثواب ملے گا۔
جمعۃ الوداع کے دن زیادہ سے زیادہ لوگ روزہ رکھتے ہیں۔ حتی کہ وہ بچے بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں جن کے اوپر روزہ ابھی فرض نہیں ہوا۔ اس دن عام دنوں سے زیادہ قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ عام دنوں سے زیادہ لوگوں کو صدقہ کیا جاتا ہے۔ عام دنوں سے زیادہ نیکی کا کام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جمعۃ الوداع کے دن تمام مساجد میں آخری حد تک بھری ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اس دن نمازیوں کی تعداد عام دنوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔
جمعۃ الوداع اصلا عبادت کا دن ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ سماجی قدروں کے فروغ کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ ملنا جلنا بڑھنے سے باہمی تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مسجدوں میں بڑی بڑی جماعتوں کے قیام سے لوگوں کے ایمان اور یقین میں ترقی ہوتی ہے۔ صدقات کی کثرت سے باہمی خیر خواہی کی فضا بنانے میں مددملتی ہے۔ غسل اور صفائی اور نئے کپڑوں کے اہتمام سے عمومی طور پر صحت وصفائی کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
جمعۃ الوداع کی خصوصیت یہ ہے کہ اس دن روزہ رکھ کر جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر خصوصی روحانی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ روزہ کی وجہ سے پہلے ہی سے وہ لوگ مادیات سے اوپر اٹھ کر روحانیت سے رشتہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جمعۃ الوداع نے لوگوں کو موقع دیا کہ وہ اپنی روحانیت میں مزید اضافہ کریں ۔ وہ زیادہ کیفیت والی عبادت انجام دے سکیں ۔
جمعہ کا دن اسلام میں اجتماعی عبادت کا دن ہے ۔ اجتماعی عبادت کے اس عمل سے بہت سی چیزیں وابستہ ہیں۔ مثلاً صفائی ستھرائی ، کیوں کہ اس دن ہر مسلمان صفائی ستھرائی کا زیادہ اہتمام کرتا ہے ۔ وقت کی پابندی ، کیو نکہ صبح سے ہی اگر اپنے اوقات کو منظم نہ کیا جائے تو مقرر وقت پر مسجد پہنچنا ممکن نہ ہو گا۔ سماجی بہبود ، کیوں کہ لوگ جب اپنے گھروں اور دفتروں سے نکل کر مسجد آتےہیں تو راستہ میں وہ غریبوں اور محتاجوں کی اعانت بھی ضرور کرتے ہیں ۔
اسی کے ساتھ جمعہ کی نماز اجتماعی اوصاف کی تربیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس دن تمام لوگ صفیں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک امام کی پیروی میں نماز کے ارکان ادا کرتے ہیں ۔ خاموش ہو کر خطبہ سنتے ہیں۔ یہ چیزیں ایک اعتبار سے عبادتی افعال ہیں۔ دوسرے اعتبار سے وہ اجتماعی اوصاف پیدا کرنے کی تربیت ہیں۔ وہ پوری قوم میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ سے انفرادی زندگی وسیع ہو کر اجتماعی زندگی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ تمام چیزیں جو جمعہ کی خصوصیات ہیں وہ مزید اضافہ کے ساتھ جمعۃ الوداع کی خصوصیات ہیں ۔ جمعۃ الوداع ان میں سے ہر خصوصیت کو دگنا چوگناحد تک بڑھا دیتا ہے۔
جمعۃ الوداع کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ وہ روزہ کے دنوں میں ہوتا ہے۔ روزہ لوگوں کی حساسیت کو ابھار کر ان کے اندر سنجیدگی اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ وہ لوگوں کی شخصیت کے مادی پہلو کو دباتا ہے اور اس کے روحانی پہلو کو ابھارتا ہے ۔ روزہ کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندرحرص ، خود غرضی ، سرکشی ، انانیت جیسے جذبات کم ہوتے ہیں اور اس کی جگہ نرمی ، تواضع ، انسانی ہمدردی جیسے جذبات پرورش پاتے ہیں۔ ان بڑھے ہوئے انسانی جذبات کو اپنے سینہ میں لے کر جب بہت سے لوگ جمعۃ الوداع کے دن مسجد میں اکٹھا ہوتے ہیں تو وہ اپنے انفرادی اوصاف کو گو یا اجتماعی اوصاف کی صورت دیتے ہیں۔ وہ نجی دائرہ کے عمل کو اجتماعی دائرہ کا عمل بنا دیتے ہیں ۔
______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈ یونٹی دہلی سے 23فروری 1995 کو نشرکی گئی۔
