فطرت سے دور ہو کر
انسان کا بچہ تمام جانداروں کے بچے میں سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے۔ اس کو جسمانی پرورش اور ذہنی تربیت دونوں مقصد کے لیے لمبے عرصہ تک اپنے ما ں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے انسان کے اندر اپنے بچے کے لیے خصوصی کشش رکھی ہے۔
قدیم زمانہ میں بچے کے لیے اپنے باپ یا ماں سے محروم ہونا صرف ہنگامی اسباب سے ہوتا تھا۔ جنگ یا کسی اتفاقی حادثے سے قبل ازوقت موت۔ عام حالات میں یقین کیا جاسکتا تھا کہ بچوں کو اپنے والدین کی سر پرستی پختگی کی عمر تک حاصل رہے گی۔
جد ید ترقی یافتہ سماج میں یہ استثنا اب عموم بن گیا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے جدید تصورِ زندگی کا جس نے نکاح کے رشتہ کو غیر مقدس بنا دیا ہے۔ اب یا نکاح کے بغیر لڑکے پیدا ہوتے ہیں یا نکاح کے جلدہی بعد طلاق کی شکل میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہے۔ بچوں کی اپنے ماں باپ سے جدائی۔بچوں کا اپنے والدین کے جیتے جی یتیم ہوجانا۔
اس بڑھتی ہوئی ’’یتیمی‘‘ نے جدید معاشرہ کے لیے طرح طرح کے پیچیدہ مسائل پیدا کردیے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس کو محرومی کابوناپن (deprivation dwarfism) کا نام دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں مغرب کے طبی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ (ایوننگ نیوز27 جون 1984)سامنے آئی ہے۔
اس رپورٹ میں مغربی طرز حیات کے نتائج کے بارے میں بہت سے انکشافات کیے گئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ سے محرومی کی بنا پر جن بچوں کو ابتدائی عمر میں محبت نہیں ملتی ان میں مختلف قسم کا نقص پیدا ہوجاتا ہے۔ مثلاً جسمانی نشوونما میں کمی، دماغ کا ہلکا پن، حتیٰ کہ یہ چیزیں بعض اوقات ان کی قبل ازوقت موت کا باعث ہوجاتی ہیں۔
محرومی کا بونا پن نامی بیماری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ ٹھیک طرح سو نہیں پاتا ، اس کا نظام ہضم ٹھیک طرح کا م نہیں کرتا۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسپتالوں میں جہاں چھوٹے بچے بیڈ پر ڈال دیے جاتے ہیں، پیٹھ کے بل دیر دیر تک پڑے رہنے سے ان کے سر کا پچھلا حصہ گنجا ہوجاتا ہے کیوں کہ وہاں کوئی ماںبار بار کروٹ بدلنے کے لیے موجود نہیں ہوتی۔ماں باپ سے محروم ہوکر دار الاطفال میں پرورش پانے والے بچے اپنے ذہنی اور جسمانی ارتقاء سے محروم رہتے ہیں۔
Man-made dwarfism
The human baby is the weakest and most tender of all the babies of living creatures. It therefore needs its parents’ care and guidance in its physical and mental growth for longer period. That is why nature has endowed parents with a special attraction for their offspring.
In the past, the separation of children from their parents was caused only by emergencies such as war, or occasional premature death, and, in normal circumstances, it was taken for granted that the children would enjoy the protection of their parents for as long as they required it.
However, in advanced societies, a prolonged period of guardianship has become the exception rather than the rule, for the simple reason that the modern concept of living has destroyed the sanctity of marriage. Either children are born out of wedlock and are unwanted right from the very beginning, or they find themselves bandied about between parents who have decided to separate shortly after marriage. Their ‘‘orphaned’’ state during their parents’ lifetime soon becomes one of social alienation.
The rising incidence of this kind of orphaning is creating complex problems in modem society, one of which goes by the name of ‘‘deprivation dwarfism,’’ a disease, according to medical experts, that can cause sleeplessness and severe bowel disorders, and used to kill many children in orphanages. A recent report by western medical authorities says, ‘‘Lack of love can stunt children’s physical growth, retard their intellect, or even kill them.’’ Pediatricians say that as late as 1915, some 90 percent of the children who died in Baltimore orphanages (in Maryland, U.S.A.) within the first year of admission, did so because of lack of love.
In deprivation dwarfism a child does not sleep properly and has trouble with his bowels.
Just as the human body can become dwarfed, so can the human spirit. The only cure for this is the tender, loving care which is engendered by love. There is no substitute for it, and the greatest love of all is the love of God.
(Evening News, 27 June, 1984)
ڈاکٹر گارڈنر (Dr. Gardner)کا کہنا ہے کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دماغ کی اعلیٰ سطح سے ارتعاشات(impulses) اٹھتے ہیں۔ یہ ارتعاشات جسمانی نظام میں داخل ہوکر مختلف قسم کے ہارمون پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو زندگی کی نشوونما کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جو پروٹین کو شکرمیں تبدیل کرتا ہے۔ ماں باپ کی محبت سے محروم ہوکر جوبچے پرورش پاتے ہیں ان میں یہ قدرتی عمل کم ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا جسم حاصل شدہ پروٹین کو پوری طرح استعمال نہیں کرپاتا جو ان کے نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطرت کے راستہ سے ہٹناکس قدرتباہ کن ہے۔ انسان خداکی بنائی ہوئی دنیا سے ہٹ کر اپنے لیے کوئی دوسری دنیا نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے لازم ہے کہ اسی دنیا کے ساتھ مطابقت کرے۔ اگر وہ فطرت کی شاہراہ کو چھوڑکر اپنے لیے کوئی دوسری شاہراہ بنا نا چاہے گا تو وہ صرف ناکامی اور بربادی پر ختم ہوگا۔ اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں۔
