امام ابو حنیفہ کا معاشی مسلک
بھٹکل کے سفر (اکتوبر 1984)میں ایک صاحب نے ایک مسجد کا واقعہ بتایا، جس میں بڑی نصیحت ہے ۔ایک شخص نے اس مسجد میں نماز پڑھی۔ اس کے بعد مسجد کے موذن سے پوچھا کہ مجھے ایک نیا جوتا بنوانا ہے، کسی اچھے جوتے ساز کا پتہ بتاؤ تاکہ میں اس سے اپنا جوتا بنوا سکوں۔ موذن نے امام صاحب کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ابھی ابھی وہاں نماز پڑھائی تھی ۔
مسافر کو یقین نہیں ہوا۔ مگر جب وہ مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ مسجد کے نیچے ایک دکان میں وہی شخص جوتا بنانے میں مشغول ہے، جس نے ابھی نماز کے وقت مسجد میں امامت کی تھی۔ مسافر نے دکان میں جاکرامام صاحب سے گفتگو کی اور ان کو اپنے جوتے کا آرڈر دے دیا۔
بتانے والے نے بتایا کہ یہ امام صاحب عام جو تا سازوں سے کافی زیادہ قیمت پر جوتا بناتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے یہاںخریداروں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ کیوں کہ ان کے متعلق لوگوں کو اطمینان ہے کہ ان کا بنا یا ہوا جو تا پوری طرح قابل اعتماد ہوگا۔
ہمارے ائمہ اور مدرسین جو امام ابوحنیفہ کے فقہی مسلک پر بہت زور دیتے ہیں اگر وہ امام ابوحنیفہ کے اس ’’معاشی مسلک‘‘ کو بھی اختیار کرلیں تو ملت کے آدھے جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں اور اسی کے ساتھ اس کے آدھے مسائل بھی۔ (الرسالہ، جنوری1985)
