اعلیٰ ظرفی
امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ اس زمانہ میں روم کی مشرقی سلطنت کے اکثر حصے فتح ہو چکے تھے۔ رومی بادشاہ پسپا ہو کر قسطنطنیہ(ترکی) کے قلعہ میں رہنے لگا تھا۔ تاہم سرحد پر وہ مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا تھا۔ اسی قسم کی ایک جھڑپ میں ایک بار روسیوں نے کچھ مسلمانوں کو قید کر لیا جن میں قریش کا ایک آدمی بھی شامل تھا۔ رومی بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ وہ لوگ میرے سامنے حاضر کیے جائیں۔
مسلمان قیدی اس حال میں دربار میں لائے گئے کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ رومی بادشاہ نے ان سے ذلت آمیز گفتگو کی۔ اس نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی سزا یہی ہے۔ ہم تم کو اسی طرح سزا دیں گے یہاں تک کہ تم مر جاؤ اور تمہارے ہم قوموں کو عبرت ہو کہ وہ ہمارے علاقہ کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔
قریشی کو بادشاہ کا کلام سن کر غیرت آگئی۔ اس نے بادشاہ کو سخت انداز میں جواب دیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تمہاری اسلام دشمنی ہے تمہارے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔ اور تم جان لو کہ خدا کے راستہ میں ہمارا خون بہت سستا ہے مگر وہ اس وقت بہت قیمتی ہو جائے گا جب کہ تمہارے جیسا بادشاہ ہم کو قتل کرے۔
قریشی کا یہ جواب سن کر دربار کے ایک بطریق (Patriarch) کو غصہ آگیا۔ وہ اٹھ کر قریشی کے پاس آیا او اس کے چہرہ پر دائیں بائیں دو طمانچہ مارا۔ قریشی کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اس لیے اس وقت وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ اپنی اس بے عزتی پر وہ چیخ پڑا:
وصاحَ القُرَشِيُّ بِأَعْلَى صَوْتِهِ:يَا مُعَاوِيَةُ، أَيْنَ أَنْتَ لِتَنْتَقِمَ مِنْ هَؤُلَاءِ الأَنْذَالِ الَّذِينَ لَطَمُوا شَرِيفًا مِنْ أَهْلِكَ؟ وَالْتَفَتَ إِلَى البِطْرِيقِ وَقَالَ:أُقْسِمُ بِاللهِ إِنَّ لِي مَعَكَ يَوْمًا سَتَعْرِفُ فِيهِ مَنْ أَنَا۔ یعنی، قریشی بلند آواز سے چیخا: اے معاویہ تم کہاں ہو کہ ان ذلیل لوگوں سے انتقام لو ،جنھوں نے تمہارے ایک شریف آدمی کو طمانچہ مارا ہے۔ پھر وہ بطریق کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ میرا ایک دن آئے گا، جب کہ تم جان لوگے کہ میں کون ہوں۔
اس واقعہ کی خبر قسطنطنیہ سے دمشق پہنچی۔ امیر معاویہ کو اسے سن کر بہت رنج ہوا۔ انہوں نے عزم کیا کہ اس سلسلہ میں ضرور کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔ امیر معاویہ نے اولاً رومی بادشاہ سے تبادلہ کی بنیاد پر مسلمان قیدیوں کی رہائی کی بات کی۔ یہاں تک کہ مسلم قیدیوں کی تعداد کے مقابلہ میں رومی قیدیوں کی زیادہ تعداد کو واپس کر کے اپنے قیدیوں کو رہا کر الیا۔
اس کے بعد امیر معاویہ نے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے تلاش کر کے صور(شام) کے ایک آدمی کو حاصل کیا۔ وہ تاجر تھا اور رومی زبان جانتا تھا۔ امیر معاویہ نے کثیر مقدار میں اس کو سونے کے دینا ردئے۔ اس کو پورا منصوبہ بتایا اور کہا کہ تم جاؤ اور کسی نہ کسی طرح اس بطریق کو پکڑ کر دمشق لے آؤ۔
اس آدمی نے تاجر کے روپ میں سفر کیا اور اس طرح دمشق سے قسطنطنیہ پہنچا۔ بطریق کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اس سے تعلقات پیدا کیے۔ اس کو قیمتی تحفے(عطر، جواہرات، ریشمی کپڑے وغیرہ) پیش کیے۔ اس طرح وہ کئی بار دمشق سے قسطنطنیہ اور قسطنطنیہ سے دمشق آتا جاتا رہا اور بطریق کو تحفے دیتا رہا۔ یہ پورا معاملہ اتنی راز داری کے ساتھ ہوا کہ تاجر اور امیر معاویہ کے سوا کسی اور کو اس کی مطلق خبر نہ ہو سکی۔
اس طرح لمبا عرصہ گزر گیا۔ جب بطریق سے کافی تعلقات ہوگئے تو اس نے بطور خود کچھ خاص تحفے لانے کی فرمائش کی۔ تاجر اس سے وعدہ کر کے واپس ہوا۔ وہ دمشق آیا۔ یہاں اس نے نہایت تیز رفتار اونٹنی حاصل کی۔ اونٹنی کو ایک آدمی کے ساتھ لا کر ایک خاص مقام پر ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ بطریق کے پاس گیا اور کہا کہ میں تمہارے تمام تحفے لے کر آیا ہوں۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس طرح حیلہ کر کے وہ بطریق کو مذکورہ مقام پر لے گیا۔ یہاں دونوں نے اچانک بطریق کو پکڑ لیا۔ انہوں نے نہایت تیزی سے بطریق کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اس کو سواری پر بٹھاکر ہوا کی رفتار سے دمشق کی طرف روانہ ہوگئے۔
بطریق جب دمشق پہنچ گیا تو امیر معاویہ نے ایک مجلس میں بہت سے لوگوں کو جمع کیا اور مذکورہ قریشی کو بھی بلایا۔ اس کے بعد ایک پردہ ہٹایا گیا تو اس کے پیچھے مذکورہ بطریق موجود تھا۔ قریشی اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ تاریخ کے اگلے الفاظ یہ ہیں:
قَالَ مُعَاوِيَةُ يُخَاطِبُ القُرَشِيَّ: يَا ابْنَ عَمِّي، الآنَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَشْكُرَ الصُّورِيَّ، فَقَدْ نَفَّذَ كُلَّ تَدْبِيرٍ دَبَّرْتُهُ لَهُ دُونَ أَنْ يُخَيِّبَ ظَنِّي فِي أَقَلِّ شَيْءٍ. وَالآنَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَأْخُذَ بِحَقِّكَ مِنَ البِطْرِيقِ دُونَ ظُلْمٍ لَهُ.
قَالَ القُرَشِيُّ: لَوْلَا أَنِّي أَقْسَمْتُ لَعَفَوْتُ عَنْهُ، وَرَفَعَ يَدَهُ وَلَطَمَهُ لَطْمَةً وَاحِدَةً وَهُوَ يَقُولُ: هَذِهِ تَكْفِي، وَأَعْفُو عَنْهُ فِيمَا بَقِيَ.
وَنَظَرَ مُعَاوِيَةُ إِلَى البِطْرِيقِ، وَقَالَ: بَعْدَ هَذَا أَنْتَ فِي ضِيَافَتِنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. وَمَرَّتِ الأَيَّامُ الثَّلَاثَةُ، فَأَعَادَهُ الصُّورِيُّ وَمَعَهُ كُلُّ الهَدَايَا الَّتِي كَانَ قَدْ طَلَبَهَا، وَفِي قَصْرِ مَلِكِ الرُّومِ الْتَفَّ البَطَارِقَةُ حَوْلَ المَلِكِ لِيَقُولَ لَهُمْ:لَا تُسِيئُوا إِلَى أَسْرَى المُسْلِمِينَ مُنْذُ الآنَ، فَمَا رَأَيْتُ مِثْلَهُمْ عِزَّةً وَكَرَامَةً وَأَخْلَاقًا، وَلَوْ أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَخْطَفَنِي لَمَا عَجَزَ، لَكِنَّهُ لَا يَرْضَى(الدعوۃ مکتہ 14 جمادی الاولیٰ 1405ھ)۔ یعنی، امیر معاویہ نے قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے، اب تم اس صوری تاجر کا شکریہ ادا کرو۔ اس کو میں نے جو تدبیر بھی بتائی اس کو اس نے بغیر کسی ادنیٰ کمی کے نافذ کیا۔ اور اب تم اس بطریق سے اس پر ظلم کیے بغیر اپنا حق لے سکتے ہو۔ قریشی نے کہا کہ اگر میں نے قسم نہ کھائی ہوتی تو میں اس کو معاف کر دیتا۔ پھر ہاتھ اٹھایا اور اس کو ایک طمانچہ مارا اور کہا کہ بس یہ کافی ہے۔ بقیہ کو میں اس سے معاف کرتا ہوں۔ پھر معاویہ نے بطریق کی طرف دیکھا اور کہا کہ اب تم تین دن کے لیے ہمارے مہمان ہو۔ تین دن گزرنے کے بعد اس کو صوری تاجر نے اس حال میں واپس کیا کہ اس کے ساتھ وہ تمام تحفے تھے جن کو اس نے طلب کیا تھا۔ اس کے بعد قسطنطنیہ میں تمام بطریق رومی بادشاہ کے پاس جمع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب مسلم قیدیوں کے ساتھ برا سلوک نہ کرو۔ کیوں کہ میں نے عزت اور شرافت اور اخلاق میں ان کے جیسا نہیں دیکھا۔ اور اگر معاویہ مجھ کو پکڑنا چاہتے تو وہ اس کے لیے عاجز نہ تھے مگر انہوں نے ایسا کرنا پسند نہیں کیا۔
