علم دار کشمیر

شیخ نورالدین نورانی ایک کشمیری صوفی تھے کشمیر کے لوگوں میں عام طور پر وہ علم دار کشمیر کے نام سے مشہور تھے۔ ہند ولوگ انھیں پیار سے نندرشی کہتے تھے۔ وہ ہندؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ قصبہ چرار شریف (کشمیر ) میں ان کی درگاہ تھی جو کہ سری نگر سے 20 کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہ درگاہ 11مئی 1995 کو ایک بھیانک آگ سے جل کر راکھ ہوگئی۔

شیخ نور الدین نورانی فیروز شاہ تغلق کے ہم عصر تھے ۔ وہ 1377ء میں کشمیر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ اور 1439ء میں چرار کے مقام پر ان کی وفات ہوئی ۔ پندرھویں صدی عیسوی کے آغاز میں کشمیر کے اس وقت کے حاکم زین العابدین نے شیخ نورانی کی قبر کی جگہ پر ایک بڑا مقبرہ تعمیر کیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی عیسوی میں پٹھانوں کی حکومت کے زمانہ میں اس درگاہ کی مزید توسیع ہوئی اور اس کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی۔

چرار شریف کی اس درگاہ میں شیخ نور الدین نورانی کی قبر کے ساتھ گیارہ اور صوفیوں کی قبریں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی مقدس تاریخی یادگاریں وہاں رکھی ہوئی تھیں۔ مثلاً حضرت فاطمہ کے تبرکات، وغیرہ جو آگ کی نذر ہو گئے۔

افغانی گورنر عطا محمد خاں ان سے بہت متاثر تھا۔ اس نے اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر انیسویں صدی کے آغاز (1810-1808) میں شیخ نور الدین نورانی کے نام کا سکہ جاری کیا تھا۔ اس افغانی گورنر نے درگاہ کی مزید توسیع کر کے اس میں مسجد کا اضافہ کیا تھا۔

کشمیر کے مشہور بزرگ حضرت امیر کبیر علی ہمدانی اوران کے ساتھیوں کی کوشش سے کشمیر میں ایک روحانی بیداری آگئی تھی ۔ اس زمانہ میں مقامی صوفیوں اور بزرگوں کا ایک پورا گروہ پیدا ہوگیا۔ ان لوگوں کو عام طور پر بابا یارشی کہا جاتا تھا۔

یہ مسلمان رشی نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ وہ ہندو اور مسلمان دونوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ان مسلمان رشیوں میں سب سے زیادہ شہرت شیخ نورالدین نورانی نے پائی ۔ ہندؤں میں بھی وہ اتنا ہی مقبول و محبوب تھے جتنا کہ مسلمانوں میں۔ (آب کوثر از شیخ محمد اکرام ، صفحہ 381)

با با داؤدخا کی جو ایک صوفی شاعر تھے انھوں نے شیخ نور الدین نورانی کی تعریف میں ایک فارسی نظم کہی ہے۔ اس نظم کے تین شعر یہ ہیں:

شیخ نور الدین ریشی، پیر جمع ریشیاں    زاہد ے خوش بود با حق داشت بسیار اشتغال

بود با تجرید و تفرید اهل صوم د هر نیز    تارک کم و بصل ، شیر و عصل، بسیار سال

صاحب کشف و کرامت بود و نطق خوب داشت   هم اولیسی بود گفت این داودی صاحب مقال

ترجمہ:شیخ نور الدین رشی تمام رشیوں کے پیر تھے۔ وہ ایک اچھے زاہد تھے۔ وہ سچے کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ انھوں نے تجرد کی زندگی بسر کی۔ وہ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔ گوشت، پیاز، دودھ، شہد کو انھوں نے سالوں تک چھوڑے رکھا۔ وہ کشف و کرامات والے تھے۔ ان کا کلام بہترین کلام ہوتا تھا۔ داؤد خاکی کا کہنا ہے کہ وہ اویسی سلسلہ کے ایک صوفی تھے ۔

شیخ نور الدین نورانی کی ابتدائی زندگی مصیبتوں میں گزری۔ وہ دنیا والوں کی حالت دیکھ کر غمگین رہتے تھے ، آخر کار انھوں نے بستی کو چھوڑ دیا۔ اور وہ پہاڑ میں جاکر تنہا . ایک غار میں رہنے لگے ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 2سال تک اسی غار میں مراقبہ کرتے رہے۔ اس دوران انھوں نے گھاس تک کھائی۔ یہ غار اب تک وہاں موجود ہے ۔ اور دس فٹ گہرا ہے۔ آخر عمر میں ان کا حال یہ تھا کہ وہ روزانہ صرف ایک پیالہ دودھ پر گزارہ کرنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں وہ بہت کمزور اور لاغر ہو گئے۔ اور صرف 63سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ یہ سلطان زین العابدین کا زمانہ تھا۔

ایک کتاب ہے جس کا نام نور نامہ ہے۔ اس کتاب میں شیخ نور الدین نورانی کے صوفیانہ اقوال جمع کیے گئے تھے۔ اس کتاب کو بابا نصیب الدین غازی نے فارسی زبان میں مرتب کیا تھا۔ یہ کتاب شیخ نورانی کے انتقال کے دو سو سال بعد تیار کی گئی تھی۔

چرار شریف میں شیخ نور الدین نورانی کی درگاہ کا طرز تعمیر بالکل بدھوں کے پگوڈا جیسا تھا۔ یہ عمارتی اسٹائل گویا اس بات کی علامت تھا کہ شیخ نور الدین نورانی کٹّرپن سے بہت دورتھے۔ وہ صلح کل کی پالیسی کو پسند کرتے تھے ۔

شہنشاہ جہانگیر ان کا معتقد تھا۔ اس نے شیخ نور الدین نورانی اور ان کے پیروؤںکے بارے میں کہا تھا کہ یہ راشی نہ کسی کو برا کہتے اور نہ کسی سے کوئی چیز مانگتے۔ یہ دو لفظ میں شیخ نور الدین نورانی اور ان کے ماننے والوں کی نہایت صحیح اور جامع تصویر ہے۔

شیخ نور الدین نورانی سچی کشمیر یت کی علامت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تو دانش مند ہے تو ہندو اور مسلمان کو الگ الگ انسان نہ سمجھ ، یہی خدا سے ملنے کا واحد راستہ ہے۔

وہ شاعر بھی تھے۔ چنانچہ ان کا کلام کشمیر کے ایک شاعر نے رشی نامہ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ نور الدین نورانی کے نز دیک انسان کی ایک ہی پہچان تھی۔ یہ کہ انسان انسان سے پیار کرے۔ ان کے نز دیک انسان سے پیار ہی خد اکی پہچان کا حقیقی راستہ ہے۔

شیخ نور الدین نورانی ایک صوفی بزرگ تھے ۔ وہ روحانیت اور انسانیت اور پیار کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے تھے۔ کسی کا دل دکھانا یاکسی کو نقصان پہنچانا ان کے نزدیک سب سے بڑا گناہ تھا۔ وہ انسان کی زندگی میں فطرت کا حسن دیکھنا چاہتے تھے۔

شیخ نور الدین نورانی کے قیمتی اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہمیں نے تلوار توڑ دی اور اس سے درانتی بنالی۔ یہ شیخ نورانی کے فکر کا خلاصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدانے لوہا بنایا جس میں خصوصی طاقت ہے۔ مگر لوہا اس لیے نہیں ہے کہ آپ اس کو تشدد کے لیے استعمال کریں۔ بلکہ آپ کو چاہیے کہ لوہے کو تعمیر انسانیت کے لیے استعمال کریں ۔ آپ لوہے سے تلوار کے بجائے در انتی بنائیں جوز راعت کے کام آتی ہے۔

اسی طرح انھوں نے کہا کہ جنگل ہوں گے تو اناج ہو گا ۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جنگل سے بارش ہوگی اور بارش سے کھیتوں میں فصل اُگے گی۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں ایک کو دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرنا ہے ۔ باہمی تعاون کے بغیر اس دنیا میں کوئی تعمیری نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔

شیخ نور الدین نورانی کے اقوال کشمیری زبان میں ہیں۔ یہ اقوال انسانیت اور روحانیت کی اسپرٹ سے بھر پور ہیں۔ کچھ مزید اقوال کا ترجمہ یہ ہے:

کام، کرودھ ، لوبھ ، موہ اور اہنکار یہ سب انسان کو دوزخ میں بھیجنے کے لیے کافی ہیں۔

 اپنے جسم کا سنگار کرنے سے من کا میل نہیں ہٹتا۔

 ایک ہی ماں باپ کے بیٹے ہیں، ان کو خدا کا دامن تھامنا چاہیے ، کیا مسلمان اور کیا ہندو ۔ اللہ کی رحمت دونوں کے لیے برابر ہے۔

______________________________________________

نوٹ:یہ تقریر 25 مئی 1995 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion