یقینی حل

حقیقت یہ ہے کہ خوش گوارازدواجی زندگی کا معاملہ سب سے زیادہ شعور سے متعلق ہے۔ شعور کسی خاتون کی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بناتا ہے اور بے شعوری اس کی شادی شدہ زندگی کو تلخ اور نا کام بنا کر رکھ دیتی ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ چیز جس کو    ’’سسرال کا جھگڑا ‘‘ کہا جاتا ہے وہ ایک مصنوعی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ حقیقت سے زیادہ فرضی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا موجودہ معاشرہ ایک بے خبر معاشرہ ہے۔ معاشرہ مختلف صورتوں میں  اس بے خبر ی کی قیمت ادا کررہا ہے۔ اسی میں  سے ایک قیمت وہ ہے جس کو   ’’ سسرال کا جھگڑا‘‘ کہا جاتاہے۔

بعض تاریخی اسباب کی بنا پر ہمارے معاشرہ کے افراد زیادہ تر خوش خیالیوں میں  جی رہے ہیں۔ انھیں زندگی کی حقیقتوں کی خبر نہیں۔ اس بے شعو ری کی قیمت ہمارے افراد زندگی کے ہر شعبہ میں  ادا کررہے ہیں۔ اور اسی کا ایک جزء وہ ہے جو سسرالی شکایتوں اور خاندانی جھگڑوں کی صورت میں  ان کے حصہ میں  آیا ہے۔

میکہ اور سسرال کا فر ق ایک لفظ میں  یہ ہے کہ۔ میکہ وہ گھر ہے جہاں ایک لڑکی اپنے ماں باپ کی محبت کی وجہ سے مقام حاصل کرتی ہے، اور سسرال وہ گھر ہے جہاں لڑکی خود اپنے عمل کی بنیاد پر اپنا مقام بنا تی ہے۔ انھیں دوفقروں کے ذریعہ میکہ اور سسرال کے پورے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔

لڑکی اپنے ماں باپ کا گوشت اور خون ہوتی ہے۔ وہ اس سے ہر حال میں  محبت کرتے ہیں، خواہ وہ اچھی ہویا بری ، خواہ وہ کام والی ہویا بے کام والی۔ اس کے والدین کو اس سے آرام ملے تب بھی وہ اس سے قدرومحبت کا معاملہ کرتے ہیں اور تکلیف ملے تب بھی۔

مگر سسرال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ایک لڑکی کا سسرال میں  جانا اپنے غیرخونی رشتہ دارو ں میں  جانا ہے۔ خونی رشتہ داروں میں  اگر وہ’’ محبت برا ئے محبت ‘‘ کے ماحول میں  رہ رہی تھی تو غیر خونی رشتہ داروں کے درمیان اس کو ’’ محبت برائے کردار‘‘ کے ماحول میں  رہنا پڑتا ہے۔ پہلی جگہ اس کو یک طرفہ بنیاد پر محبت ملتی ہے اور دوسری جگہ دوطرفہ بنیاد پر۔

جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو وہ اسی نازک امتحان میں  داخل ہوتی ہے۔ شادی ایک لڑکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسے ایک مچھلی جو پانی میں  رہنے کی عادی ہواس کو اچانک خشکی کا عادی بننے کے لیے پانی سے باہر ڈال دیا جائے۔ اگر لڑکی کو خوش قسمتی سے ایسے والدین ملے ہوں جومذکورہ راز کو جانتے ہوں اور انھوں نے اپنی لڑکی کو پیشگی طورپر اس سے آگاہ کردیا ہوتو لڑکی کا ذہن نئی صورت حال سے نپٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسی طرح اگر لڑکی باشعور ہے تو وہ خود اس راز کو سمجھ لیتی ہے اور اپنے آپ کو نئے ماحول کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔

کسی لڑکی کو اگر خوش قسمتی سے ان دونوں میں  سے کوئی ایک چیز حاصل ہوجائے تو اس کے لیے شادی کے بعد کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے شادی کے دور میں  داخل ہونا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی شخص نیا موسم آنے کے بعد اپنے لباس کے معمولات کو بدل لے۔ ایسی لڑکی اپنے کردار کی بدولت دوبارہ اپنی سسرال میں  وہی باعزت مقام حاصل کرلیتی ہے جو باعزّت مقام اس سے پہلے وہ اپنے والدین کے گھر میں  والدین کی محبت کی بدولت حاصل کیے ہوئے تھی۔

لیکن اگر ایسا ہوکہ نہ والدین زندگی کی اس حقیقت کو جانتے ہوں اور نہ لڑکی خود اتنی باشعور ہو کہ وہ اس کو جان کر اپنے آپ کو اس کے مطابق بنائے تو اس کے بعد وہ چیز وجود میں  آتی ہے جس کو ’’ سسرال کا جھگڑا ‘‘ کہا جاتاہے۔ لڑکی سسرال کو اپنا گھر نہیں سمجھتی، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال والے بھی اس کو اپنا فرد نہیں بنا پاتے۔ اس کی قیمت لڑکی کو یہ بھگتنی پڑتی ہے کہ وہ غیرضروری طور پر سسرال میں  کڑھتی رہے، وہ غیر واقعی طور پر اپنے آپ کو نفسیاتی عذاب میں  مبتلا کیے ہوئے ہو۔ سسرال کا جھگڑا خود اپنی بےشعوری کی قیمت ہے جس کو نا دان لڑکیاں سسرال کی طرف منسوب کردیتی ہیں۔

بعض نا دان لڑکیا ں اس سے آگے تک جاتی ہیں۔ وہ اپنے میکہ جاکر وہاں اپنے والدین سے سسرال کی شکایتیں بیان کرتی ہیں۔ یہ شکایتیں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے سراسر فرضی ہوتی ہیں۔ مگر کسی کا قول یہاں صادق آتا ہے کہ’’ ہر باپ اپنی اولاد کے حق میں  بیوقوف ہوتا ہے‘‘۔ چنانچہ نادان والدین ان جھوٹی شکایتوں کو سچ سمجھ کر سسرال کے خلاف کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑدیتے ہیں۔ مزید لطف یہ کہ اس جھوٹی جنگ کا بدترین انجام ہمیشہ ان لوگوں کے حصہّ میں  آتا ہے جنھوں نے یہ جنگ چھیڑی تھی۔ یعنی لڑکی اور اس کے والدین۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ لڑکی مقابلتاً ’’ عضو ضعیف ‘‘ ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب قوی اور ضعیف میں  ٹکراؤ ہوتو اس کا نقصان ہمیشہ ضعیف کو اٹھانا پڑے گا۔

سسرال کے بارے میں  لڑکیوں کی شکایت جھوٹی شکایت کیوں ہوتی ہے۔ یہ جھوٹی شکایت اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ دوطرفہ سبب سے پیداہوتی ہے۔ مگر لڑکیاں ہمیشہ اس کو یک طرفہ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ ایک ایسا مسئلہ جو دوطرفہ سبب سے پیدا ہوا ہو۔ اس کو یک طرفہ مسئلہ کی حیثیت سے پیش کرنا ہی اس مسئلہ کو جھوٹا بنا دیتا ہے۔ گا ہک نے اگر قیمت ادانہ کی ہو تو اس کو یہ کہنے کا کیاحق ہے کہ دکاندار نے سودا نہیں دیا۔ لڑکی اگر غیرجانبدار انہ انداز سے سوچ سکے تو وہ نہایت آسانی سے جان لے گی کہ سارے معاملہ کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ— لڑکی نے سسرال والوں کو وہ چیز نہیں دی جو سسرال والے اس سے چاہتے تھے، اس لیے سسرال والوں سے بھی اس کو وہ چیز نہیں ملی جو وہ ان سے پانا چاہتی تھی اور یقیناً پاسکتی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ سسرال زندگی کی معلّم ہے۔ ایک لڑکی کا سسرال میں  جانا گویا ایک ایسی درس گاہ میں  جانا ہے جہاں وہ زندگی کی حقیقتیں سیکھے۔جہاں وہ ان رازوںکو جانے جووہ میکہ کے مصنوعی ماحول میں  نہیں جان سکی تھی۔ میکہ ایک لڑکی کے لیے مصنوعی دنیا ہے۔ اور سسرال اس کے لیے حقیقی دنیا۔ جو لڑکی اس راز کو نہ جانے وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں  ناکام رہے گی اور جو لڑکی اس راز کو جان لے وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں  کامیاب ہوگی۔ کوئی بھی چیز اس کی کامیابی کو روکنے والی نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion