داعی نہ کہ ادیب
دو مسلم نوجوان ملاقات کے لیے آئے۔ وہ اورنگ آباد کے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حال میں انہوں نے اورنگ آباد کے مدرسہ سے فراغت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک استاد مولانا ادریس صاحب آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ ہم لوگ کسی کام سے دلّی آئے تھے تو ہم نے چاہا کہ آپ سے بھی ملاقات کریں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے استاد میرے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ آپ جیسا ادیب برصغیر ہند میں کوئی نہیں۔
میں نے کہا کہ یہ تو آپ نے میری تعریف نہیں کی بلکہ میرے اوپر پتھر مارا۔ میں ادیب نہیں ہوں بلکہ میری اصل حیثیت یہ ہے کہ میں اسلام کا داعی ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ قدیم عرب میں وہاں کے سردار رسول اللہ کو شاعر کہتے تھے۔ قرآن نے اس کی تردید کی اورکہا کہ وہ شاعر نہیں۔ قدیم عرب سوسائٹی میں شاعرکا لفظ کوئی برا لفظ نہیں تھا ،لیکن رسول اللہ کی اصل حیثیت یہ تھی کہ آپ حق کے داعی تھے۔ ایسی حالت میں آپ کو شاعر یا ادیب کہنا آپ کی اصل حیثیت کو گھٹانے کے ہم معنی تھا۔ کسی آدمی کو اگر آپ داعی حق کہیں تو اس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کی بات مانیں اور اس کا ساتھ دیں۔ لیکن کسی کا شاعر اور ادیب ہونا آپ کے اوپر اس قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ (ڈائری،12اپریل1997)
