غصہ سےبچیے
ارسطو کا قول ہے’’: غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوتا ہے اور شرمندگی پر ختم ہوتا ہے۔ ‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ غصہ ایک نفسیاتی ہیجان کی حالت ہے اور ہیجان کی حالت میں جو کارروائی کی جائے اس میں کبھی اعتدال نہیں ہوسکتا۔ غیر معتدل حالت میں آدمی جب کوئی کارروائی کرتا ہے تو اعتدال پر آنے کے بعد اکثر اسے اس احساس سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔
امریکہ میں پولیس قانون کے نفاذ میں بہت مستعد رہتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص ٹرافک اصول کی خلاف ورزی کرے یا سٹرک پر گندگی ڈالے تو فوراً اس پر جرمانہ کیا جاتا ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک بارکسی سٹرک پر ایک کا رتیزی سے گزری۔ ڈرائیور مقررہ رفتار (55 میل فی گھنٹہ) سے زیادہ تیز اپنی گاڑی چلا رہا تھا۔ امریکی پولیس نے اس کا پیچھا کیا۔ کافی دور جا کر اس نے اس کو پکڑا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ اتنے فاصلہ سے اس کا پیچھا کرتی آرہی ہے ۔ چونکہ وہ مقررہ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلا رہا تھا اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق تیس ڈالر جرمانہ اداکرے۔
یہ سن کر موٹر سوار پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگئی۔ اس وقت اس کے ہاتھ میں جلتا ہوا سگرٹ تھا۔ اس نے اظہار بیزاری میں سگرٹ سٹرک پر پٹک دیا۔ پولیس کے آدمی نے فوراً کہا:جناب عالی، اب آپ مزید پچاس ڈالر اس کوڑا ڈالنے (Littering) کے بھی ادا کیجیے۔ آدمی نے فورا جرمانہ ادا کیا ہوتا تو وہ 30 ڈالر میں چھوٹ جاتا ۔ مگر اس کے غصہ کا نتیجہ یہ ہو کہ جرمانہ کی رقم بڑھ کر 80 ڈالر ہوگئی۔
غلطی کے بعد بہترین صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کا اعترات کرلے، کسی کا یہ قول بہت با معنی ہے ۔ آدمی اگر فورا اپنی غلطی کو مان لے تو وہ سستا چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اگر اس نے غلطی کو ماننے میں دیر کی یا غصہ میں کوئی اور غلطی کر ڈالی تو یہ صرف اس کے جرم میں اضافہ کے ہم معنی ہو گا اور اس کے اوپر لگنے والی ’’جرمانہ‘‘ کی رقم بڑھتی چلی جائےگی۔
جرم اگر بالکل کھلا ہوا ہو تو اس کا اعتراف نہ کرنا ڈھٹائی بن جاتا ہے، اور ڈھٹائی تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اور اگر آدمی ایسا کرے کہ جرم کی نشان دہی کرنے والے سے لڑنے لگے تو وہ اپنے بچاؤ کے آخری موقع کو بھی کھو دے گا۔ اس کی طرف سے قصور کا اعتراف نہ کرنا فریق ثانی کے اندر مزید ردعمل پیدا کرے گا اور وہ قصور وار کو اس سے زیادہ سخت سزا دینے پر اتر آئے گا جو ابتداءً وہ اس کو دینا چاہتا تھا۔ کسی نے سچ کہا ہے ’’صابن کپڑے کے میل کو صاف کرتا ہے اور اعتراف اخلاق کے میل کو ‘‘۔
اپنی غلطی کا اعتراف مسئلہ کو فوری طور پر ختم کرنے کی سب سے آسان تدبیر ہے۔ ایک فریق جب نرمی سے اپنی غلطی کو مان لے تو دوسرا فریق بھی فوراً نرم پڑ جاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف دوسرے شخص کے غصہ پر ٹھنڈا پانی ڈالنےکے ہم معنی بن جاتا ہے۔
ایک دکاندار نے محلہ کے ایک نوجوان شخص پر چوری کا الزام لگایا ۔ یہ الزام غلط تھا۔ نوجوان کو سخت غصہ آیا۔ اس نے دکاندار کا گریبان کھینچا اور اس کو پکڑ کر مارنا شروع کیا۔ اس کے بعد بات بڑھی۔ محلہ میں کافی شور و غل ہوا۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکی دیتے اور زور دکھاتے رہے ۔ نوجوان کے آدمیوں نے اس سے کہا کہ تم معانی مانگ لو۔ مگر وہ کسی طرح معافی مانگنے پر تیار نہ ہوا۔ اگلے روز دوبارے لوگ جمع ہوئے اور یہی بات شروع ہوئی ۔ نوجوان کسی حال میں معافی مانگنے کے لیے تیار نہ تھا۔ آخر دکاندار اٹھا۔ وہ عمر میں کافی زیادہ تھا۔ اس نے بڑھ کر نوجوان کو اپنے سینہ سے لگالیا۔ اس نے کہا اگر تم معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں ہو تو چلو میں ہی تم سے معافی مانگتا ہوں، اس قصہ کو ختم کرو۔
اس کے بعد نوجوان ڈھ پڑا۔ دکاندار نے خود جھک کر نوجوان کو بھی جھکا دیا ۔ نوجوان اچانک دکاندار کے قدموں میں گر پڑا ۔ اس نے کہا’’:آپ معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں۔ آپ میرے لیے باپ کے برابر ہیں۔ اصلی قصور میرا ہے ۔ آپ مجھے معاف کر دیجیے‘‘۔
بہت کم لوگ ہیں جو غصہ آنے کے بعد غصہ کے انجام سے بچتے ہوں۔ حالانکہ غصہ کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا آسان بھی ہے اور ممکن بھی۔ غصہ کوئی مستقل حالت نہیں۔ وہ خارجی اسباب کے تحت وقتی طور پر آدمی کے اوپر طاری ہوتا ہے۔ اور جو چیز وقتی اور خارجی نوعیت کی ہو اس کو دور کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کپڑے پر میل لگنے کے بعد کپڑے کو دھو کر پاک کرنا۔
غصہ آنے کے بعد غصہ کے انجام سے بچنے کے لیے صرف ایک چیز درکار ہے ۔ اپنے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے سبنھالنے کی طاقت۔ غصہ آنے کے بعد اگر ایک لمحہ کے لیے بھی آپ اپنے کو اس کے زیر اثر آنے سے روک لیں تویقینی طور پر آپ اپنے کو غصہ کے انجام سے بچا سکتے ہیں۔
جیفرسن کا قول ہے ’’اگر تم غصہ میں ہوتو بولنے سے پہلے ایک سے دس تک گنو۔ اگر بہت زیادہ غصہ میں ہو تو سوتک‘‘ یہ غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی نہایت آسان تدبیر ہے۔ غصہ کی حالت میں سو تک گنتی گننا دراصل اپنے ذہن کو غصہ سے پھیرنا ہے۔ آدمی اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی اپنے ذہن کوکسی دوسری طرف موڑ سکے تو اس کے غصہ کی آگ اپنے آپ ٹھنڈی ہو جائے گی۔
