جدید تحقیقات
موجودہ زمانہ میں خالص علمی طور پر یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان بنیادی پیدائشی فرق پائے جاتے ہیں، انسائیکلوپیڈ یا برٹا نیکا (1984) میں خواتین کی حالت (status of women) پر ایک مفصل مقا لہ ہے۔ اس مقالہ کا ایک ذیلی عنوان یہ ہے:
‘‘Scientific Studies of Male-Female Differences’’
(مرد اور عورت کے فرق کا علمی مطالعہ ) مقالہ کے اس حصہ میں مقالہ نگارنے دکھا یا ہے کہ جدید تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ عورت اور مرد کے درمیان عین پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے۔ اس کے بعدوہ لکھتے ہیں:
‘‘With respect to personality traits,’’ he writes, ‘‘men are characterized by greater aggressiveness, dominance and achievement motivation, women by greater dependency, a stronger social orientation, and the tendency to be more easily discouraged by failure than men.’’
(Encyclopedia Britannica, 19/907)
اوصافِ شخصیت کے اعتبار سے ،ا ٓدمیوں کے اندر جارحیت اور غلبہ کی خصوصیت زیادہ پائی گئی ہے۔ ان میں حاصل کرنے کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عورتیں سہارا چاہتی ہیں۔ان کے اند ر معاشرہ پسند ی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اور نا کامی کی صورت میں مردوں کے مقابلہ میں وہ زیادہ آسانی سے بے ہمت ہوجاتی ہیں۔
اس سلسلہ میں موجودہ زمانہ میں بے شمار تجربات کیے گئے ہیں۔ مثلاً امریکا میں ایک تجربہ یہ کیا گیا کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی کا انتخاب کیا گیا۔ دونوں کم عمر تھے۔ اور ابھی بولنے کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ تاہم ان کی جسمانی صحت یکسا ں تھی۔ ان کو دو الگ الگ کٹہرے میں رکھ کر نکلنے کا دروازہ بند کردیا گیا۔ اس کے بعد لڑکی رونے چلانے لگی، جب کہ لڑکے نے اِدھر اُدھر ہاتھ مار کر اندازہ کرناشروع کیا کہ کیا کسی طرف سے وہ نکلنے کا راستہ پاسکتا ہے۔
اسی طرح ایک تجربہ میں پا یا گیا کہ بارہ ماہ کی لڑکیاں کسی اجنبی کمرہ میں ہوں اور انھیں خوفزدہ کیا جائے تووہ اپنی ماؤں کی طرف بھاگتی ہیں جب کہ اسی عمر کے لڑکے کچھ کرنے کی راہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ نیویارک یونیورسٹی میں ریسرچ کرنے والوں نے دیکھا کہ لڑکی اگر بوتل پینے میں مشغول ہے تو وہ اس وقت پینے سے رک جاتی ہے جب کہ کوئی شخص کمرے میں آتا ہوا نظر آئے۔ اس کے برعکس، ایک لڑکا کسی آنے والے پر کوئی دھیان نہیں دیتا وہ اپنا کام بدستورجاری رکھتا ہے۔
ماہر ین نے بتا یا ہے کہ عورت اور مرد کے تمام فرق ان کے جین کے اندر پائے جاتے ہیں، نہ کہ سماجی حالات میں ۔ عورتوں کے اندر انفعالیت کا سبب ان کے مخصو ص ہارمون ہیں۔ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون میں یہ فرق پیدائش کے بالکل آغاز سے موجود رہتا ہے۔ (ٹائم میگزین ، نیویارک، 20 مارچ 1972)
اسلام دین فطرت ہے۔ اس کے تمام احکام فطری حقیقتوں پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطری تقاضوں کو قانونی صورت دینے ہی کا دوسرا نام شریعت ہے۔ عورت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات بھی اسی بنیادی اصول پر مبنی ہیں۔ نفسیات اور حیاتیات اور عضویات میں موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ مرد کے مقابلہ میں عورتیں فطری طور پر منفعل مزاج ہوتی ہیں۔ مخصوص معاشرتی مصا لح کی بنا پر خالق نے اس کو نسبتاً نازک پیدا کیا ہے۔
یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کی رعایت اسلامی تعلیمات میں رکھی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو تاکہ وہ بے حوصلہ نہ ہوں ، تاکہ وہ دل شکنی سے محفوظ رہیں اور زندگی میں اپنے مخصوص فرائض کو بخوبی طور پر ادا کرسکیں۔ عورتیں لوہے کی مانند نہیں ہیں کہ ان پر ٹھونک پیٹ کا کوئی اثر نہ پڑے، وہ پسلی کی مانند ہیں۔ وہ فطرتاًجیسی ہیں ویسی ہی انھیں رہنے دو۔ اگر تم ان کے ساتھ لوہے جیسا برتا ؤ کرو گے تو تم ان کی شخصیت کو توڑ دو گے۔
