معیار کی غلطی
عورت اور مرد کے معاملہ کو اگر ’’ تقسیم کار ‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھا جائے تو دونوں ایک دوسرے کے مساوی نظر آئیں گے۔ اس کے بر عکس، اگر عورت اور مرد کے معاملہ کو ’’یکسا نیت کار‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھا جائے تو مرد بر تر نظرآئے گا اور عورت کمتر کیوں کہ حیاتیات کے اعتبار سے دونوں کے درمیان یکسا نیت ممکن نہیں۔
موجودہ زمانے میں مساوات مرد و زن کے حامیوں نے جب یہ دیکھا کہ عورت اور مرد کے درمیان حیاتیاتی فرق ہے اور اس بنا پر عورت کا یکسا ں عمل کے معیار پر پورا اتر نا ممکن نہیں، تو انھوں نے اپنے معیار پر نظر ثانی کرنے کے بجائے یہ کیا کہ اپنی نا کامی کی بے اصل تو جیہات تلاش کر نے لگے۔ اگر وہ اپنے معیار پر نظرثانی کر تے تو صرف ان کے مفر وضہ معیار پر زد پڑتی۔ مگر جب انھوں نے اپنے معیارپر نظرثانی نہیں کی تو اس کا شکار خود عورت کو ہونا پڑا۔مثلاً ایک گروہ وہ ہے جو اس واقعے کی تو جیہ ڈارونزم کی روشنی میں کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے — عورتیں ارتقاءکے عمل میں ابتدائی درجہ پر باقی رہ گئیں۔ جیسا کہ ڈارون نے کہا ہے کہ مرد بالآ خر عورت کے اوپر فائق ہوگیا:
‘‘Women remained at a more primitive stage of evolution. As Darwin himself put it, “Man has ultimately become superior to woman.’’
(Time, 3 March 1987, p. 42)
مرد کے مقابلے میں عورت کا فرق فطری بندوبست کا نتیجہ تھا، مگر مذکورہ تو جیہ نے اس فرق کو عورت کی فطری پسماندگی کے ہم معنی ٹھہر ایا۔اور اس طرح عورت کو ایک مستقل احساس کمتری میں مبتلا کردیا۔ جدید نسوانی نظریہ کا یہ انجام اس کے غیرحقیقی ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی مز ید ثبوت کی کو ئی ضرورت نہیں۔
