معبود کی یکتائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 63 سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔ اس وقت لوگوں کے اوپر عجیب دیوانگی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ آپ کا انتقال ہو سکتا ہے یا انتقال ہو گیا ہے۔ حضرت عمر فاروق اس معاملہ میں سب سے آگے تھے ۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی ؐ میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ہے میں اس تلوار سے اس کی گردن مار دوںگا۔
مسجد نبوی میں زبردست خلفشار جاری تھا۔ لوگ سخت مبہوت نظر آرہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے ۔ انھوں نے صورتِ حال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مسجد کے ایک طرف تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ اپنی تقریر میں انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا:
مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1242)۔ یعنی، جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے۔ اس پر کبھی موت آنے والی نہیں )اس واقعہ میں انسان معرفت الٰہی کے آخری درجہ پر نظر آتا ہے۔ انسان انسان ہے اور خدا خدا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا ہی اصل علم ہے۔ اور یہ واقعہ اس اصل علم کی آخری شاندار مثال ہے۔
